مجلس احرار اسلام کا ایم ایم اے ‘اور محب وطن انتخابی امیدواروں کی حمایت کافیصلہ

مجلس احرار اسلام کا ایم ایم اے ‘اور محب وطن انتخابی امیدواروں کی حمایت ...

ملتان(سٹی رپورٹر)مجلس احرار اسلام پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ موجودہ انتخابی نظام ناقص ترین ہونے کے باوجود وہ متحدہ مجلس عمل اور اسلام اور وطن سے محبت رکھنے والے انتخابی امید واروں کی حمایت کرے گی تاکہ وطن عزیز کی باگ ڈور ایسے ہاتھوں میں آئے جو پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست(بقیہ نمبر42صفحہ12پر )

بناسکے۔ یہ فیصلہ مجلس احرار اسلام پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ کے ایک اجلاس میں کیا گیا جو قائد احرار سید عطاء المہیمن بخاری اور سید محمد کفیل بخاری کی صدارت میں دارِ بنی ہاشم ملتان میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مجلس احرار اسلام کے سیکرٹری جنرل عبد اللطیف خالد چیمہ، مولانا محمد مغیرہ، ملک محمد یوسف، میاں محمد اویس، قاری محمد یوسف احرار، حافظ محمد اسماعیل، عبد الکریم قمر، سید عطاء المنان بخاری، مولانا محمد اکمل، ڈاکٹر محمد آصف، حافظ محمد ضیاء اللہ، مولانا کریم اللہ، مولانا محمد سرفراز معاویہ اور دیگر اراکین عاملہ نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد مجلس احرار اسلام کے سیکرٹری جنرل عبد اللطیف خالد چیمہ،سید محمد کفیل بخاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تحریک ختم نبوت کو ملکی اور عالمی سطح پر منظم کیا جائے گا اور قادیانی ریشہ دوانیوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نگران حکومت کے عبوری دور میں بھی قادیانی سرگرمیاں پہلے کی طرح جاری ہیں اور ملتان میں آرپی او خد ابخش ، ڈیر غازی خان سمیت کئی مقامات پر قادیانی افسران تعینات کر کے قادیانیت نوازی کی جارہی ہے ۔ مجلس احرار اسلام کے زیر اہتمام اگست میں امیر شریعت کانفرنسز اور ستمبر میں یوم قراردادِ اقلیت (یوم تحفظ ختم نبوت) کے حوالے سے ملک گیر پروگرام کیے جائیں گے جبکہ 6 ستمبر کو مجلس کی مرکزی مجلس شوری کا اجلاس اور 7ستمبر کو یوم تحفظ ختم نبوت مرکزی سطح پر لاہور میں منایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں یہ بھی طے ہوا ہے کہ 29 دسمبر ملک بھر میں یوم تاسیس احرار روایتی جوش وجذبے کے ساتھ منایا جائے گا۔ علاوہ ازیں 2028 میں مجلس احرار اسلام کے صد سالہ یوم تاسیس کے حوالے سے ملک گیر اجتماع عام ہوگا۔ سید محمد کفیل بخاری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مجلس احرار موجودہ نظام سیاست پر عدم اعتماد کے باوجود معروضی صورتحال کے پیش نظر اپنا حق رائے دہی استعمال کرے گی اور نفاذ اسلام، تحفظ ناموس رسالت، تحفظ ختم نبوت اور استحکام پاکستان پر یقین رکھنے والے امید واروں کی حمایت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی صفوں سے دین اور وطن دشمن عناصر کو نکال باہر کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قادیانیت نواز امیدوار چاہے کسی بھی جماعت سے ہوں مجلس احرار ان کو بے نقاب کرے گی اور ان کی مخالفت بھی کرے گی۔ انہوں نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی تاریخی کامیابی پر ان کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے ان کی مکمل اخلاقی حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ترکی خلافت عثمانیہ کی طرف واپس لوٹے گا۔ انہوں نے پاکستان کو ’’گرے لسٹ‘‘ میں شامل کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عالم کفر کی طرف سے پاکستان پر اقتصادی ومعاشی دباؤ بڑھانے کی سازش قرار دیا تاکہ پاکستان ان کے ایجنڈے کے تابع رہ سکے۔ قبل ازیں اجلاس کی قرار دادوں میں ہالینڈ کی پارلیمنٹ میں توہین آمیز خاکوں کی نمائش کے اعلان اور مسلم خواتین پر نقاب کی پابندی کی مذمت کی گئی اور اسے پرسنل لاء اور انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کے منافی قرار دیا گیا۔ دوسری قرار داد میں نگران حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ قادیانیوں کو آئین کے دائرے میں رہنے کا پابند بنائے اور چناب نگر کے داخلی وخارجی راستوں پر قادیانیوں کی طرف سے رکاوٹوں کو فی الفور ختم کیا جائے۔ ایک قرار داد میں مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی افواج کی طرف سے مسلمانوں پر کیے جانے والے مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور عالمی برادری سے اپیل کی گئی کہ وہ مداخلت کر کے کشمیری مسلمانوں کو حق رائے دہی دلوایا جائے۔ اجلاس میں ہندوستان کی جانب سے پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنا آبی جارحیت قرار دیا گیا اور اس کی شدید مذمت کی گئی۔ اجلاس میں گزشتہ دنوں انتقال کرجانے والے زعیم احرار مولانا سید عطاء المومن بخاری ؒ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا گیا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر