پانی کے ممکنہ بحران سے نمٹنے کیلئے آبی ذخائر کا تحفظ یقینی بنایا جائے:نگران وزیر اعلیٰ

پانی کے ممکنہ بحران سے نمٹنے کیلئے آبی ذخائر کا تحفظ یقینی بنایا جائے:نگران ...

پشاور( سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا کے نگران وزیراعلیٰ جسٹس (ر) دوست محمد خان نے مستقبل میں پانی کے ممکنہ بحران کے پیش نظر سطحی، دریائی ، زمینی، سیلابی، گھریلو اور سب سائل سمیت پانی کے تمام ذخائر کا تحفظ یقینی بنانے ، دریاؤں میں مضر صحت پانی گرانے کے خلاف قانون بنانے اور صوبے میں قابل زراعت رقبے کا بریک اپ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے ۔انہوں نے تیز رفتاری سے پگھلتے ہوئے گلشیرز کی حفاظت کیلئے شارٹ ٹرم، مڈٹرم اور لانگ ٹرم منصوبہ بندی کی ہدایت کی اور کہا ہے کہ آبی ذخائر کے تحفظ کیلئے صوبے کے پاس بہترین لائحہ عمل ہونا چاہیئے ۔ انہوں نے فاٹا انضمام کی صورت میں صوبے کی اضافی ضروریات کو مدنظررکھتے ہوئے پیداواری استعداد میں اضافے اور کسانوں کی مناسب تعلیم و تربیت کی بھی ہدایت کی ۔ انہوں نے صوبے میں زیر تعمیر سمال ڈیمز کی تیز رفتار تکمیل اور کم تخمینہ لاگت مگر زیادہ فائدہ رکھنے والے ڈیمز کو ترجیح دینے اور وسائل واپس کرنے کے بجائے زیر تعمیر ڈیمز اور عوامی مفاد کے حامل جاری دیگر منصوبوں کی تکمیل کیلئے استعمال میں لانے کی ہدایت کی ۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اجلاس کی صدار ت کر رہے تھے جس میں زراعت اور آبپاشی کے محکموں کے بارے میں بریفینگ دی گئی ۔ نگران صوبائی وزیر محکمہ ہائے زراعت انوار الحق اور آبپاشی کے انتظامی سیکرٹریز ، ڈائریکٹر جنرلز سمال ڈیمز اور لائیو سٹاک ، چیف انجینئر ساوتھ ایری گیشن اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔سیکرٹری زراعت نے وزیراعلیٰ کو محکمے کے وژن ، مشن ، بجٹ ، سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری سکیموں ، انٹرم اے ڈی پی کے تحت مجوزہ ترقیاتی سکیموں، شعبے کی تازہ ترین پیش رفت اور دیگر پہلوؤں پر تفصیلی بریفینگ دی ۔نگران وزیراعلیٰ نے کہاکہ زراعت ہماری معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔ دیہاتی آبادی کا زیادہ تر حصہ زراعت پر منحصر ہے جبکہ یہ شہری آبادی کیلئے بھی اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ صحت کے مسائل کی بنیادی وجہ ہے ۔ معیاری خوراک کے ذریعے صحت کے معاملات میں حکومت کے اخراجات کم کئے جا سکتے ہیں۔ دوست محمد خان نے ہدایت کی کہ محکمہ زراعت کو تیز رفتار اقدامات کرنے چاہئیں اور معیاری خوراک پیدا کرنے کیلئے ایک ماڈل ضلع بنایا جائے ہر اس ماڈل کو صوبہ بھر میں توسیع دی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ پانی کے ذخائر صحیح استعمال اس سلسلے میں پہلا قدم ہے جبکہ کھیتی باڑی کا جدید طریقہ کار بھی بہترین نتائج دے سکتا ہے ۔وزیراعلیٰ نے محکمہ زراعت کے بزنس رولز میں ترمیم کے ذریعے تحفظ آب کو محکمہ کی باقاعدہ سرگرمیوں میں شامل کرنے کی ہدایت کی اور کہا یہ بہت اہم مسئلہ ہے اس پر غفلت کے متحمل نہیں ہو سکتے انہوں نے کہاکہ روزانہ کی بنیاد پر وافرمقدار میں پانی غفلت یا جہالت کی وجہ سے ضائع ہو رہا ہے ۔ پانی کا بحران بڑھ رہا ہے اسلئے معاشرے کو اس سلسلے میں مستعد کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ دریائی زندگی کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے بھی دریاؤں میں گند اپانی گرانے کے خلاف باضابطہ قانون اور اُس پر عمل درآمد کا طریق کار ہونا چاہیئے ۔ جز ا اور سزا کے عمل کے بغیر کوئی بھی نظام نہیں چل سکتا ۔ جب قانون کا خوف نہ ہو تو معاشرہ تباہی کی طرف نکل جاتا ہے وزیراعلیٰ نے اس موقع پر محکمہ کی کارکردگی بڑھانے کیلئے تجویز کئے گئے مستقبل کے لائحہ عمل جنوبی وزیرستان اور دیگر محروم اضلاع کیلئے تجویز کئے گئے پیکج سے بھی اُصولی اتفاق کیا اور ہدایت کی کہ سب سائل پانی کا کم سے کم استعمال کریں اور ماحولیاتی تبدیلی کے تناظر میں ماحول دوست پودے اور فصلیں اُگانے کو ترجیح دیں ۔ دریں اثناء سیکرٹری آبپاشی نے وزیراعلیٰ کو 120 ارب روپے کی لاگت سے ڈی آئی خان چشمہ بیراج کے دائیں ساحل پر چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبے پر بریفینگ دی اور بتایا کہ منصوبے کا پی سی ون وفاق کو بھیج دیا گیا ہے ۔ منصوبے کی لاگت کا 65 فیصد وفاق جبکہ 35 فیصد صوبائی حکومت برداشت کرے گی اورمنصوبے کی ہیڈ کیپسٹی 2613 کیوسک ہے جبکہ قابل زراعت کمانڈ ایریا 286140 ایکڑ ہے ۔وزیراعلیٰ کو پانچ ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے وفاق اور صوبے کے باہمی تعاون کے ذریعے بنوں میں باران ڈیم کو بلند کرنے کے منصوبے سے بھی آگاہ کیا گیا ۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ صوبے میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 11 سمال ڈیمز جبکہ پی ایس ڈی پی کے تحت 8 سمال ڈیمز پر کام ہو رہا ہے ۔ کرک، صوابی اور کوہاٹ کے چار سمال ڈیمز تقریباً مکمل ہیں جبکہ دیگر میں سے بھی بیشتر تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کم تخمینہ لاگت والے مگر زیادہ افادیت کے حامل ڈیمز کی تیز رفتار تکمیل کو ترجیح دینے کی ہدایت کی ہے۔

Back to Conversion Tool

 

مزید : کراچی صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...