نگران حکومتیں آزادانہ انتخابات کا انعقاد نہیں چاہتیں:اسفند یار ولی

نگران حکومتیں آزادانہ انتخابات کا انعقاد نہیں چاہتیں:اسفند یار ولی

چارسدہ (بیورو رپورٹ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے نگراں حکومتوں کی غیر جانبداری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ نگراں حکومتیں یہاں آزاد الیکشن نہیں کرانا چاہتے ۔ پنجاب کے تمام آفسروں کو کھڈے لائن لگا دیا گیا مگر یہاں حلقوں میں اب بھی ترقیاتی کام اور ٹرانسفارمرز کی تنصیب ہو رہی ہے ۔ الیکشن کمیشن خاموش کیوں ہیں۔ اگر الیکشن متنازعہ ہوئے تو نتائج بھیانک ہونگے ۔ پنجاب کی زمینوں کو آباد کرنے کیلئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی صورت میں اپنی زمینوں کو بنجر اور بر باد نہیں ہو نے دینگے ۔ وہ ترنگزئی میں شمولیتی جلسہ سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے تحصیل کونسلر پیر علی خان نے خاندان اور ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا جبکہ اس موقع پر پی کے 57کے امید وار شکیل بشیر خان عمر زئی ، ضلعی صدر بیرسٹر ارشد عبداللہ ، جنرل سیکرٹری محمد احمداور پارٹی کے ضلعی ترجمان تحسین عبداللہ بھی موجو د تھے ۔ شمولیتی جلسہ سے خطاب کر تے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ کچھ لوگ کالاباغ ڈیم کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ضیا دور حکومت میں تین صوبوں نے کالاباغ ڈیم کے خلاف قرار داد منظور کی تھی ۔ 1986 سے کالاباغ ڈیم متنازعہ مسئلہ رہا۔ ا نہوں نے واضح کیا کہ واپڈا متبادل کے طور بھاشا کیوں نہیں بنا رہا ہے ۔ ۔واپڈا کو بھاشا کی تعمیر سے تربیلا کا لائف سپین 25سال بڑھے گا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کی زمینوں کو آباد کرنے کیلئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی صورت میں اپنی زمینوں کو بنجر اور بر باد نہیں ہو نے دینگے ۔ انہوں نے نگراں حکومتوں کے غیر جانبداری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ نگران حکومت آزاد اور شفاف الیکشن نہیں کروانا چاہتی۔ ابھی بھی انتخابی حلقوں میں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں جبکہ پنجاب کے تمام آفسروں کو کھڈے لائن لگا دیا گیا مگر یہاں حلقوں میں اب بھی ترقیاتی کام اور ٹرانسفارمرز کی تنصیب ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر الیکشن متنازعہ ہو تو نتائج بھیانک ہونگے۔ اے این پی شفاف الیکشن کے حق میں ہیں اگر الیکشن متنازعہ ہوئے تو نتائج بھیانک ہونگے۔ الیکشن کمیشن کے رولز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ٹھارویں ترمیم کو چھیڑنے کی باتیں ہو رہی ہیں اگر اٹھارویں ترمیم چھیڑا گیا تو اسکے خلاف سڑکوں پر آؤنگا۔ ایم ایم اے میں شامل جماعتیں پانچ سال بعد اسلام کیلئے متحد ہو گئے۔ پانچ سال تک جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام ایک دوسرے کے خلاف دھڑوں کے اتحادی تھے ۔ جماعت اسلامی کو پانچ سال بعد پی ٹی آئی میں خامیاں نظر آنے لگی ۔ انہو ں نے کہا کہ خیبر پختون خو کی حکومت ایک مخصوص پارٹی کیلئے الیکشن مہم چلا رہی ہے۔ذاتی مقاصد کیلئے سیاست قوم کی ساتھ بے وفائی ہے۔ ہمیں اقتدار کی نہیں قوم اور قوم کے بچوں کی فکر ہے۔ آفتاب شیر پاؤ پر تنقید کر تے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ قومی وطن پارٹی پختونوں کی سیاست نہیں کر رہی ہے بلکہ صوبے میں کپتان کے ساتھ دو دفعہ اتحادی رہے اور دونوں دفعہ کرپشن کے الزام میں انہیں نکالا گیا اور پھر آخر میں بھی کپتان کے ساتھ اتحاد کرکے سینٹ الیکشن میں بھی انہیں دھوکہ دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ سینٹ انتخابات میں ہمارا ایک ایم پی اے بھی نہیں بکا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے ٹکٹوں پر کوئی امیدوار پیراشوٹ پر نہیں اْتارا گیا بلکہ نظریاتی امیدوار وں کو ٹکٹ دیے گئے ۔انہوں نے کہا کہ بنی گالا میں ٹکٹوں کے معاملے پر ہنگامے ہوئے۔ تحریک انصاف نے پانچ سالہ دور حکومت میں ایک کالج تک نہ بنا سکی۔تعلیم اور ذرائع آمدورفت قوم کی ترقی کیلئے ضروری ہے۔ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں تعلیم اور مواصلات پر زور دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ حکومت ملی تو ہر ضلع میں یونیورسٹی بنائیں گے جبکہ ہر صوبائی حلقہ میں طلبا و طالبات کیلئے الگ الگ ڈگری کالج بنائینگے۔

مزید : کراچی صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...