خیبر،خاصہ دار فورس کا مطالبات کے حل کیلئے احتجاجی کیمپ کا انعقاد

خیبر،خاصہ دار فورس کا مطالبات کے حل کیلئے احتجاجی کیمپ کا انعقاد

ضلع خیبر (بیورورپورٹ)قبائلی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے خاصہ دار فورس کے اہلکاروں نے اپنے حقوق اور مطالبا ت کے حق جمرود سپورٹس کمپلیکس میں احتجاجی کیمپ لگا یا جس میں درجنوں صوبیداروں اور سینکڑوں خاصہ دار فورس اہلکاروں نے شرکت خاصہ دار فورس احتجاجی کیمپ میں سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء ڈاکٹر علامہ نورالحق قادری ،سابق وفاقی وزیر حلقہ این اے 44بارہ حمیداللہ جان آفریدی ،سینٹر الحاج تاج محمد آفریدی ،جمیعت علماء اسلام حلقہ این اے 43کے نامزد امیدوار مفتی محمد اعجاز شنواری ،حلقہ این اے 44پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار اقبال آفریدی اور حلقہ این اے 43کے آذاد امیدوار شیر مت نے بھی شرکت کی تمام امیدواروں نے خاصہ دار فورس کے اہلکاروں کو مکمل تعاون کی یقین دہا نی کرا ئی،، خاصہ دار نے پانچ رکنی ایجنڈا کا علان کر دیا ،،احتجاجی کیمپ سے خطا ب کر تے ہوئے صوبیدار میجر جلال ،صوبیدار میجر ولی محمد ،صوبیدار جہانگیر ،صوبیدار حکمت آفریدی اور دیگر صوبیداروں نے کہا کہ خاصہ دار فورس اس وقت بھی میدان میں موجود تھے کہ سخت حالات میں بہت سے لوگوں علاقہ چھوڑ دیا تھا بلکہ اب دور افتادہ پہاڑوں سیکورٹی فورسز کے ساتھ شانہ بشانہ ڈیوٹیاں سر انجام دے رہے ہیں لیکن اب انضمام کے بعد خاصہ دار فورس کی قربانیوں کو نظر انداز کر دیا اور ہزاروں خاصہ دار فورس اہلکاروں کو ختم کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں جو کسی صورت قبول نہیں کر ینگے انہوں نے کہ قبائلی علاقوں میں چالیس ہزار خاصہ دار فورس ہیں اگر وہ سڑکوں پر نکل آئے تو پھر کوئی سنھبال نہیں کر یگا انہوں نے دھمکی دی کہ اگر پولیس انکے علاقے میں داخل ہو گئے تو خاصہ دار فورس انہیں زبردستی اپنے علاقے نکال دینگے انہیں انضمام سے کو ئی سروکا رنہیں لیکن انہیں اپنی نوکریوں کی فکر ہیں خاصہ دار فورس مشترکہ طور کمیٹی تشکیل دی اور پانچ رکنی ایجنڈا کا اعلان کیا (1) حکومت نے جو انضما م کیا ہے اس پر پندرہ نکات میں خاصہ دار نام نہیں ہے خاصہ دار فورس حکومت سے مطالبہ کرتی ہیں کے وہ خاصہ دار تھے اور رہے گے (2)خاصہ دار مطالبہ کر تے ہیں کہ انہیں بھی دوسری فورسز کی طرح مراعات دی جائے (3)خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام میں خاصہ دار فورس سے کو ئی مشورہ نہیں کیا لہذا خاصہ دار فورس کا تشخص ختم کرنا ناقابل قبول ہے (4)پولیس کے ماتحت ڈیوٹیاں نہیں کرینگے اور وہ صرف سیول انتظامیہ کے ماتحت ڈیوٹیاں سرانجام دینگے (5)اگر اپنے حق کے حصول کے لئے کسی بھی خاصہ دار کوئی نقصان پہنچا تو سارے فاٹا کے خاصہ انکے ساتھ نکلیں

مزید : پشاورصفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...