سندھ کے پولنگ اسٹیشنز میں ڈے نائٹ وژن کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ

سندھ کے پولنگ اسٹیشنز میں ڈے نائٹ وژن کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ کابینہ کے ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ 5776 پولنگ اسٹیشنوں پر 20000 ڈے نائٹ وژن کیمرے نصب کیے جائیں گے تاکہ پولنگ شروع ہونے سے لے کر ووٹوں کی گنتی اورتمام پولنگ کے عمل اور اس کی تکمیل کی مکمل طریقے سے نگرانی کی جاسکے۔اجلاس نگراں وزیر اعلی سندھ فضل الرحمان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ تمام نگراں کابینہ کے اراکین ، چیف سیکریٹری میجر (ر) اعظم سلیمان ، آئی جی سندھ امجد جاوید سلیمی، وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری سہیل راجپوت، سیکریٹری اطلاعات قاضی شاہد پرویز، سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریشن ذوالفقار شاہ ، متعلقہ سیکریٹریز ، چیئرمین نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این آر ٹی سی) بریگیڈیئر توفیق احمد اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ گذشتہ کابینہ کے اجلاس میں وقت کی کمی(الیکشن) 2018 کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بہت زیادہ حساس پولنگ اسٹیشنوں کے لیے ویڈیو سرویلنس سسٹم کے لیے سروسز اور آلات کی خریداری کے حوالے سیسندھ پبلک پروکیورمنٹ رولز2009 کے آپریشن کے استثنی کی منظوری دی تھی۔انہوں نے کہاکہ تمام پولنگ اسٹیشنوں کی نگرانی بہت ضروری ہے جوکہ پولنگ اسٹیشنوں کے آغاز اور پولنگ کا عمل شروع ہونے سے لے کر آخر تک اور پھرووٹوں کی گنتی اور بیگس(ووٹوں)کی سیل تک کے عمل کی نگرانی کی جاسکے۔انہوں نے کہاکہ سی سی ٹی وی اور دیگر مطلوبہ آلات کی خریداری کے حوالے سے درکار فنڈز بہت زیادہ ہیں لہذا میں نے چیف سیکریٹری سندھ کو یہ ذمہ داری دی ہے کہ وہ این آرٹی سی کے ساتھ مذاکرات کریں تاکہ یہ تمام مکمل منصوبہ کم سے کم لاگت میں مکمل ہوسکے۔چیف سیکریٹری سندھ میجر (ر) اعظم سلیمان نے کہا کہ این آر ٹی سی نے ایک ملین روپے کی لاگت سیفی پولنگ اسٹیشن سی سی ٹی وی کیمرہ خریدنے کے لیے پیشکش کی ہے۔اس طرح 4154 پولنگ اسٹیشنوں پر لاگت کا تخمینہ 4.154بلین روپے بنتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بعد میں محکمہ داخلہ کا 5000 پولنگ اسٹیشنوں کے لیے سی سی ٹی وی کیمرہ سسٹم کی خریداری کے لیے نظر ثانی شدہ لاگت 1.79 بلین روپے آئی ہے۔چیف سیکریٹری نے مزید کہا کہ وزیر اعلی سندھ سے مشاورت کے بعد انہوں نے سی سی ٹی وی کیمرہ سسٹم کرائے پر لینے کا فیصلہ کیاہے۔چیف سیکریٹری نے کہا کہ این آرٹی سی 915ملین روپے کی ایک فریش تجویز کے ساتھ آئے جوکہ 5000پولنگ اسٹیشنوں کے لیے بشمول جی ایس ٹی 15000 سی سی ٹی وی کیمروں پر مشتمل ہے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دی جوکہ سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریشن(جی اے)ذوالفقار شاہ ، سیکریٹری داخلہ محمد ہارون،سیکریٹری آئی ٹی ، ڈائریکٹر آئی ٹی اور این آر ٹی سی کے ایک نمائندے پر مشتمل تھی۔سیکریٹری جی اے ذوالفقار شاہ نے کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ این آرٹی سی کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کے بعد کمیٹی 915 ملین روپے کے نرخوں کو کم کرکے 575 ملین روپے بشمول جی ایس ٹی تک لائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این آر ٹی سی سے اضافی رعایت بھی حاصل کی گئی ہے جس میں حساس پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد 5000 تا 5776 تک شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی تعدادمیں قیمت میں کمی کے بعد 15000 سے بڑھ کر 20000 کیمرے ہوگئی ہے اور تمام سی سی ٹی وی کیمرہ اور ویڈیو ریکارڈرز کا 30 فیصد ٹاسک مکمل ہونے کے بعد سندھ حکومت کی ملکیت بن جائیں گے۔چیئرمین این آرٹی سی بریگیڈیئر توفیق احمد نے پریزنٹیشن کے ذریعے کابینہ کو بتایا کہ 20000(کیمرے) ڈے نائٹ وژن 2 ایم پی ایچ ڈی کیمرے5776 پولنگ اسٹیشنوں پر نصب کیے جائیں گے اور ہر پولنگ اسٹیشن کی 3 سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے کوریج کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ 5776ویڈیو ریکارڈر(وی آر ۔ 4، آئی یو)،5776 ہارڈ ڈسک ڈرائیو جو کہ ہر ایک 2 ٹی بی ریکارڈنگ کے لیے ہے،5776 ایل سی ڈی اسکرین اور 5776 ایک کے وی یو پی ایس ہر ایک کے ساتھ اور 1x200AH ویٹ بیٹری کے ساتھ ہوگا ۔کابینہ نے چیف سیکریٹری اور ان کی ٹیم کی سی سی ٹی وی پروجیکٹ کی لاگت میں کمی کے حوالے سے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا۔ کابینہ نے پروجیکٹ کی منظوری دی اور چیئرمین این آر ٹی سی نے کابینہ کو بتایا کہ کام 2 جولائی سے شروع ہوگا اور تمام کیمروں کی تنصیب کے بعد ان کا ساز و سامان و دیگر آلات بشمول بیک اپ سسٹم اور متعلقہ تربیت یافتہ اسٹاف 23 جولائی کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے حوالے کردیاجائے گا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر