تیرہویں آئینی ترمیم تقسیم کشمیر کی جانب پہلا قدم ہے،لطیف اکبر

تیرہویں آئینی ترمیم تقسیم کشمیر کی جانب پہلا قدم ہے،لطیف اکبر

مظفرآباد(بیورورپورٹ)پاکستان پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری لطیف اکبر نے کہاہے کہ تیرہویں آئینی ترمیم تقسیم کشمیر کی جانب پہلا قدم ہے اپنے سارے اختیارات دے کر آزادکشمیر کو صوبہ بنانے کی راہ ہموار کردی گئی ہے ۔ پیپلزپارٹی اس میں موجودہ خرابیوں کو دور کرے گی ۔ مجھے فاروق حیدر کادل نہیں چائیے، وہ اپنا دل پاس رکھیں ،آج پریس کلب بلایا تھا اگر آجاتے تو آپ صحافیوں کے سامنے آجاتا سب کچھ ، آئینی ترامیم کے حوالہ سے وزیراعظم سمیت پوری پارلیمانی پارٹی کوعلم بھی نہیں کہ یہ کیا چیز ہے ، پہلی بار دیکھا کہ وزیراعظم کی پریس کانفرنس کے بعدسیکرٹری حکومت اس کی تشریح کررہاہے جس سے ہمارے موقف کی تائید ہوئی،ان کو کسی بات کا پتہ ہی نہیں ، ان کے پاس کوئی ایسا ممبر اسمبلی یا وزیر نہیں تھا جو قانونی معاملات پر بات کرتا ایک بیوروکریٹ آکر اب اعوام کو بتائے گا کیا، قانون سازی کرنا اسمبلی کا کام ہے یا بیورکریٹس کا ، موجودہ حکومت میڈیا کاا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتی ہے۔یکٹ 74 ذوالفقار علی بھٹو نے آزادکشمیر کی تمام سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیکر دیا۔ پیپلزپارٹی نے 2012 میں آئینی ترامیم کے حوالہ سے مسودے کی تیار ی میں تمام مکاتب فکر کی رائے کو شامل کیا۔ 2013 اور 2014 میں راجہ فاروق حیدرکو کہاکہ آپ یہ مسودے لیکر نوازشریف کے پاس جائیں مگر فاروق حیدر نے کوئی اور بات کی کونسل کے 52 سبجکٹس پر ہم بحث کرسکتے تھے دفاع کرسکتے تھے اور ایسا کوئی فورم نہیں جہاں ہم بحث اور دفاع کرسکیں۔ اب وقت ہے کہ اس میں موجود خامیوں کو درست کیاجائے وزارت امور کشمیر کو ختم کروانے میں پیپلزپارٹی کی جدوجہد قوم کے سامنے ہے ۔ فاروق حیدر سمجھتے ہیں کہ وہ بااختیار ہوگئے ہیں مگر حکومت آزادکشمیر نے جلد بازی میں کونسل اختیارات کونسل پاکستان کودے دیئے ہیں ان خیالات کااظہار انہوں نے ، محمد حنیف اعوان سابق وزیر ، شوکت جاوید میر، محمدبشیرعوان، سید مجاز شاہ ، راجہ بشارت افضل ، سردار پرویز ایڈووکیٹ ، شیخ اظہر ، ذوالفقار وانی ، شگفتہ نورین کاظمی ، لطیف قریشی زولفقار وانی ،پرویز چوہدری کے ہمراہ مرکزی ایوان صحافت میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چوہدری لطیف اکبر نے کہاکہ اقوام متحدہ کی کر اداروں کے مطابق خارجہ کرنسی اور دفاعی امور حکومت پاکستان کی زمہ داری تھی ۔ فاروق حیدر نے ایگزیکٹو کوقانون سازی کااختیا ردے کر دنیا میں ایک انوکھی مثال قائم کردی ہے وہ کشمیر کونسل ختم کراسکے نہ فائدہ حاصل کرسکے ۔ اب موبائل کمپنیوں پر 22 فیصد ٹیکس لگادیاگیا ہے جبکہ یہ ٹیکس پاکستان کے شہریوں پر لاگو نہیں ہے ۔ موجودہ حکومت تمام میڈیا ا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتی ہے ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ آئینی ترامیم کے حوالہ سے وزیراعظم سمیت پوری پارلیمانی پارٹی کوعلم بھی نہیں کہ یہ کیا چیز ہے ۔جبکہ پہلی مرتبہ دیکھاگیا ہے کہ وزیراعظم کی پریس کانفرنس کے بعدسیکرٹری حکومت اس کی تشریح کررہاہے جس سے ہمارے موقف کی تائید ہوئی ہے لوگوں کو تحریک آزادی کشمیر کے حوالہ سے تتر بتر کردیاگاہے ۔ قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے بعد بیس کیمپ کے سیاسی مقاصد سے ہم دور ہوگئے ہیں۔وزارت امور کشمیر کے گھناونے کردار کوختم کرنے کے لیے غازی ملت سردار ابرایم خان ، سردار عبدالقیوم خان ، کے ایچ خورشید ، چوہدری نورحسین نے 1950 سے لیکر 1975 تک جدوجہد کی ۔ پیپلزپارٹی میں 2012 میں پہلا قدم اٹھاتے ہوئے آصف زرداری کے حکم پر قومی اتفاق رائے سے ایکٹ 74 میں ترمیم کامسودہ تیار کیا۔ انہوں نے کہاکہ آئینی ترمیم کے بعد پاکستان میں 18، 19 اور 20ویں ترامیم کی طرح آزادکشمیر کو بھی بااختیار ہونا چائیے تھامگرایسا نہیں ہوسکا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر