چیف جسٹس کی زیرصدارت اجلاس کی اندرونی کہانی، کالا باغ ڈیم سے پہلے دیامیر بھاشا اور منڈاڈیم بنانے کی منطوری مل گئی

چیف جسٹس کی زیرصدارت اجلاس کی اندرونی کہانی، کالا باغ ڈیم سے پہلے دیامیر ...
چیف جسٹس کی زیرصدارت اجلاس کی اندرونی کہانی، کالا باغ ڈیم سے پہلے دیامیر بھاشا اور منڈاڈیم بنانے کی منطوری مل گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی،  کالا باغ ڈیم کے بجائے دیامیر اور بھاشا ڈیم بنانے کی منظوری دی گئی ، 27جون کو ہونے والے کونسل آف کامن انٹریسٹ کے اس اجلاس جس میں سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے بھی شرکت کی اس میں سوشل میڈیا اور اس کے بعدالیکٹرونک میڈیا پر ملک میں پانی کی قلت اور ڈیم بنانے کے بارے میں شور شرابا ہوا کا جائزہ لے کر اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ملک کے تین صوبے ، سندھ ، بلوچستان اور خیبرپختونخواہ بہت متاثر رہے ہیں ، اس میں کوئی شک نہیں کہ کالا باغ ڈیم بہ نسبت دوسرے ڈیمیز کے نہایت اہم ، موضوع اور ہر طرح سے بہترین ہے مگر اس میں کالا باغ ڈیم پر تمام صوبوں کے رضا مند ہونا یا باہمی رضا مندی نہایت ضروری ہے۔ اجلاس میں  پالیسی کی منظوری دی گئی۔

روزنامہ جنگ کے مطابق اجلاس کے شرکا نے کالا باغ ڈیم کی مکمل حمائت اس لئے نہیں کی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جب تک سیاسی طور پر باہمی رضا مند اور اتفاق رائے نہ ہو جائے اس کی منطور دینا مناسب نہیں  تاہم چیف جسٹس آف پاکستان کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں اس بات کی زیر بحث لایا گیا کہ ملک میں کالا باغ ڈیم کے خلاف بھارتی لابی مکمل طور پر اختلاف رکھتی ہے، اس لئے اس کی منظور نہیں دی جا سکتی صرف وزارت پانی کے جوائنٹ سیکریٹری سید مہر علی شاہ نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ہاں ، درست ، یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ملک میں ایک لابی ہے جو کوئی بھی ڈیم بنانا نہیں چاہتی  اور اس بات پر سخت اختلاف رکھتی ہے ۔ اجلاس میں عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بات کی منظوری دی گئی کہ بجائے کالا باغ ڈیم سے پہلے ڈیامیر، بھا شاڈیم اور منڈاڈیم بنانے کی منظور دی جائے۔ اس کے لئے سی سی آئی پہلے ہی 6.1ٹرلین روپے کا فنڈ مختص کر چکی ہے ۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان کے واٹر سیکٹر کے لئے 891.2ٹرلین روپے کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ، جس میں ڈیامر بھاشا ڈیم اور منڈاڈیم ، 800ارب روپے پانی کے ذخائر کے لئے ، 150ارب برائے نکاسی آب کے لئے ، فلڈ کنٹرول ، بحالی بیراج اور ریسرچ کے کاموں کے لئے رقم شامل ہے۔ اس طرح پاکستان 28ملین ایکڑ فٹ پانی کے ذخائر کرنے کے قابل ہوگا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...