فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر465

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر465
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر465

  

ہرگلوکارہ اور فنکارہ کے گانے کا انداز جدا ہوتاہے ۔کوئی گلوکار گاتے ہوئے بولوں اور موسیقی کے سروں میں خود بھی گم ہو جاتاہے اور دیکھنے والے کو نظر آتا ہے کہ وہ خود بھی اس سے پوری طرح لطف اندوز ہو رہا ہے۔ کچھ گلوکار ہاتھوں اور شانوں کی حرکت سے ادائیگی کرتے ہیں مگر بعض ایسے بھی ہیں جن کا چہرہ ہر قسم کے تاثرات سے خالی ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی اور نغمہ سرا ہے۔ ان کا اس نغمے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر464پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس سلسلے میں مختلف گلوکاروں کے انداز کا تذکرہ بہت طویل ہو جائے گا لیکن نیرہ کے حوالے سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا انداز کسی حد تک لتا منگیشکر سے ملتا ہے۔ لتابھی گانا گاتے ہوئے سپاٹ اور بے تاثرچہرے کے ساتھ نظر آتی ہیں۔ اسی طرح نیرہ نور کے چہرے پر بھی گانا گاتے وقت تاثرات نظرنہیں آتے۔ اب کچھ عرصے سے وہ بعض اوقات مشکل جگہوں پر ہاتھوں اور چہرے سے تاثرات کا اظہار کرتی ہوئی نظر آتی ہیں مگر مجموعی طور پر وہ گاتے ہوئے کسی خاص اور بھرپور تاثر کا اظہار نہیں کرتیں۔ البتہ بعض مقامات پر ایسا ضرور محسوس ہوتا ہے جیسے کہ وہ کسی کرب سے گزر رہی ہیں۔ جب سے انہوں نے عینک لگانی شروع کی ہے تو وہ گلوکارہ سے زیادہ ٹیچر نظر آتی ہیں۔ لتا کا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔

نیرہ کے تازہ نغمات نہ ہونے کے برابر ہیں اورٹیلی ویژن، ریڈیو والے ان کے پرانے نغمات سے ہی کام چلا رہے ہیں جیسا کہ ہم نے ان سے بھی کہا تھا اس خداداد اور بے بہا سرمائے کے استعمال کے سلسلے میں کنجوسی سے کام لینا کسی طور بھی مناسب نہیں ہے مگر لوگوں کو تو ان کے نغمات کی ضرورت ہے نا ۔ بعض پہلوان اپنی طاقت سے بے خبر ہوتے ہیں یہی حال نیرہ نور کابھی ہے وہ اپنی آواز کی طاقت اور صلاحیتوں کی فراوانی سے بے خبر ہیں جو کہ ہم سب کے لیے نقصان دہ ہے۔

لیجئے۔ ہمیں یاد آیا کہ نیرہ نور نے ہماری ایک اور فلم ’’اجنبی‘‘ کے لیے بھی ایک ہلکا پھلکا گیت ریکارڈ کرایا تھا جو بابرہ شریف اور قوی پر فلمایا گیا تھا۔ نثار بزمی ہی اس فلم کے بھی موسیقار تھے اور گانے کا مکھڑا تھا۔

ذرا نبض دیکھ کر

سچویشن یہ ہے کہ بابرہ شریف قوی سے محبت کرتی ہیں۔وہ ایک ڈاکٹرہیں لیکن بچپن ہی سے چپکے چپکے دیبا کو پسند کرتے ہیں۔’’اجنبی‘‘ کی کہانی بھی دراصل ایک تکون ہے۔ محمد علی، قوی اور دیبا بچپن ہی سے ساتھ کھیل کر جوان ہوئے ہیں۔ دیبا کا کردار آغاز میں ٹام بوائے قسم کا ہے۔ تینوں میں بہت گہری دوستی ہے۔ قوی اور محمد علی دونوں دیبا کے دوست ہیں اور اسے پسند کرتے ہیں ۔

دیبا کا یہ حال ہے کہ وہ بے دھڑک مردانہ کھیل کھیلتی ہیں۔ کبڈی کے ایک میچ کو ہم نے ایک گانے کی سچویشن بھی بنایا تھاجس میں دیبا بھی’’کبڈی کبڈی‘‘ کھیلتی نظر آتی ہیں۔ دراصل اس فلم میں بہت سی ایسی انوکھی باتیں تھیں جو اس وقت فلم بینوں کے لیے قبل از وقت تھیں۔ کئی اعتبار سے ہم نے اس فلم میں تجربے کئے تھے۔ اس کی روداد ہم پہلے بیان کر چکے ہیں دوبارہ دہرانے کا محل نہیں ہے یہ بھی ایک نفسیاتی قسم کی کہانی تھی۔ ہر کردار اپنی نفسیاتی الجھنوں اور خواہشات کے پھندوں میں الجھا ہوا تھا۔

بہرحال۔ بابرہ شریف قوی کوپسند کرتی ہیں اور ہلکے پھلکے انداز میں ان سے کہتی ہیں کہ ذرا میری نبض دیکھ کر بتائیے کہ مجھے کیا بیماری ہے۔ یہ گانا ’’آس‘‘ کے گانے سے یکسر مختلف تھا مگرنیرہ نور نے بہت عمدگی سے گایا تھا۔ ان کے گائے کچھ فلمی گیت یہ ہیں۔

۱۔ موسم تو دیوانہ ہے(فلم دو ساتھی)

۲۔ تیرا پیار بن کے آئے(فلم بھول)

۳۔ ایک اجنبی چہرے (فلم باغی)

۴۔ پھول بن جاؤں گی (فلم قسمت)

۵۔ کچھ لوگ محبت کا صلہ(فلم گمراہ)

اس کے علاوہ اور بھی فلمی گانے ہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ نیرہ نور کے فلمی گانوں کی تعداد بہت کم ہے۔ بدقسمتی ہے اب تو نہ وہ فلمیں ہیں جن میں گانوں کی سچویشنز کے مطابق گانے بنائے جاتے تھے اور نہ ہی وہ فلم ساز اور ہدایت کار رہے۔ نہ وہ ماحول رہا۔ اس لیے یہ توقع رکھنا لا حاصل ہے کہ نیرہ نور ایک بار پھر فلمی گانے گائیں گی لیکن موسیقی کے دوسرے میدان توکھلے ہیں۔

***

ہم تو سمجھتے تھے کہ گلوکارہ مالا کو سب ہی بھول چکے ہیں۔ مالا ایک زمانے میں پاکستان کی ممتاز گلوکاراؤں میں شمار ہوتی تھیں۔ سانولی، سلونی، بوٹا سا قد(یعنی قدرے چھوٹا) بھرا بھرا جسم جو بعد میں گول مٹول ہوگیا تھا۔ دلکش نقش و نگار۔ ان کے چہرے پر سب سے نمایاں چیز ان کی آنکھیں تھیں۔ ہم کبھی یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ ان کی آنکھوں کا رنگ سیاہ تھا یا براؤن۔ ان کی آنکھیں بہت بڑی بڑی بھی نہیں تھیں مگر ان میں ایک عجیب سا تاثر موجود رہتا تھا۔ کبھی مسکراتی ہوئی شوخ، کبھی سوچتی ہوئی فکر مند کبھی اداس اور غمگین، کبھی مایوس۔ زندگی کے آخری دنوں میں مایوسی کا تاثر ہی ان کی آنکھوں میں اکثر و بیشتر نظر آتا تھا کیونکہ زندگی نے ایک مختصر عرصے تک خوشیاں اور کامرانیاں دینے کے بعد ان کی طرف سے منہ موڑ لیا تھا۔ زندگی میں انہیں بہت زیادہ مایوسیاں اور محرومیاں ملی تھیں۔ محبت میں ناکامیاں، خواہشات کی بلندیاں مگر ہمتوں کی پستیاں، جب فلم ساز عاشق بٹ سے ان کی شادی ناکام ہوگئی تو وہ سچ مچ مرقع حزن و ملال بن کر رہ گئی تھیں پھر تقدیر اور خوشیوں کی طرح صحت نے بھی ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ وہ اکثر بیمار رہنے لگیں حالانکہ وہ اپنی بیماری کا تذکرہ کرنا پسند نہیں کرتی تھیں مگر سب جانتے تھے کہ وہ کئی امراض میں مبتلا ہیں۔

مالا کی بہن شمیم نازلی ان کی سدا کی ساتھی ، غم گسار، سہیلی، مشیر اور تسلی دینے والی ہستی تھیں۔ انہوں نے مالا کے آغاز کے دنوں میں بھی ان کی رہنمائی کی تھی۔ انہیں آگے بڑھانے میں ہاتھ بٹایا تھا۔ مفید مشورے دیے تھے اور ایک لحاظ سے وہ ان کی استاد اور بزنس منیجر بھی تھیں۔ وہ ہر وقت مسکراتی اور ہنستی رہتی تھیں۔ پہلے تو عادتاً لیکن بعد میں غالباً مالا کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ۔ا گر شمیم نازلی کا ساتھ اور حوصلہ افزائی نہ ہوتی تو شاید مالا اس سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوگئی ہوتیں۔

مالا کا ذکر اس حوالے سے آیا کہ لندن سے ایک خاتون نے فون کرکے دریافت کیا کہ مالا کی تاریخ پیدائش کیا تھی اور انہوں نے سب سے پہلے فلمی گانا کب گایا تھا؟ چند سال قبل بھی ہمیں جرمنی سے ایک دن اچانک ٹیلی فون موصول ہوا تھا اور ایک خاتون نے (جن کا نام غالباً شہناز تھا) یہ دریافت کیا تھا کہ مالا کی صحیح تاریخ پیدائش کیا ہے اور وہ کہاں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کا تعلق وائس آف جرمنی سے تھا اور وہ مالا کے بارے یں ایک پروگرام پیش کرنا چاہتی تھیں۔ ہمیں یہ سن کر خوشی بھی ہوئی اور دکھ بھی ہوا۔ خوشی اس لیے کہ کسی نے تو مالا کو یاد رکھا اور وائس آف جرمنی سے ایک پروگرام میں انہیں پیش کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ دکھ کا سبب یہ تھا کہ اس وقت پاکستان میں مالا کو لوگ بھول چکے تھے۔ نہ کبھی کسی محفل میں ان کا ذکر ہوتا تھا نہ اخباروں اور جرائد میں ان کا تذکرہ ہوتا تھا۔ ریڈیو سے شاید ان کا کوئی بھولا بسرا گیت سنایا جاتا ہو مگر ٹیلی ویژن والوں نے جیسے مالا کا بائیکاٹ ہی کر دیا تھا۔ کسی پروگرام میں مالا کا ذکر نہ ان کے بارے میں کوئی پروگرام۔ نہ مالا کا کوئی نغمہ پیش کرنے کی ضرورت کبھی محسوس کی گئی۔

فلم ’’عندلیب‘‘ میں مسرور انور صاحب کا لکھا ہوا ایک نغمہ میڈیم نور جہاں کی آواز میں بہت مقبول ہوا تھا۔

کوئی یوں بھی روٹھتا ہے

مانا مری خطاہے

مگر اب معاف کر دو

جب کبھی بھی مالا کے حوالے سے یہ نغمہ بہت یاد آتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مالا یہ بول ادا کر رہی ہیں اور شکوہ کر رہی ہیں کہ

کوئی یوں بھی بھولتا ہے؟

ان خاتون نے اپنا نام نہیں بتایا۔ نہ ہم نے دریافت کیا۔ انہوں نے اتنا بتایاکہ وہ مالا کے بارے میں ایک پروگرام بی بی سی سے پیش کرنا چاہتی ہیں۔ ہمیں معاً وہی خیال دوبارہ آیا کہ دیار غیر میں تو مالا کو یاد کیا جا رہا ہے لیکن خود اپنے ملک میں کوئی مالا کا نام تک نہیں لیتا۔(جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر466 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ