عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 11

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 11
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 11

سلطان نے غالباً اپنی دوراندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے بہرام اور کوتوال شہر کوبتانا چاہا لیکن قاسم نے اسے منع کردیا۔ اس نے قاسم کے مشورے کو فوراً مان لیا۔ اس کے بعد دیر تک قاسم اور سلطان غداروں کی چھان بین کے موضوع پر بات چیت کرتے رہے۔ کافی دیر بعد جب قاسم سلطان سے ملاقات کر کے لوٹا تو شہزادہ محمد اپنے کمرے میں اس کا منتظر تھا ۔ وہ قاسم کو دیکھتے ہی اس کا استقبال کرنے کے لیے اٹھا اور اسے اپنے قریب مسہری پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

’’محترم قاسم بن ہشام! اس دن مقابلے کے دوران اگر ہماری کنیز کی بیٹی آپ کو بروقت خبردار نہ کردیتی تو سکندر آپ کا سر قلم کرچکا تھا۔‘‘

شہزادہ محمد کی بات سن کر قاسم حیرت سے اچھلا۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 10پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’کنیز؟؟ کون کنیز؟ اور کون سی بیٹی؟...............میں آپ کی بات سمجھا نہیں شہزادہ حضور!‘‘

شہزادہ محمد ، قاسم کی بات سن کر مسکرادیا اور ہنس کر کہنے لگا۔ ’’کیا آپ کو یاد نہیں کہ مقابلے کے دوران آپ جب منصفین کے پاس کھڑے تھے اور تماشائیوں کی جانب دیکھ رہے تھے تو آپ کے عقب سے سکندر نے خطرناک وار کیا تھا۔ اس وقت آپ کو خبردار کرنے والی آواز سکندر بیگ کی البانوی کنیز کی بیٹی ’’مارسی‘‘ کی تھی۔

قاسم حیرت کے سمندر میں غوطے کھا رہاتھا۔ اس نے کسی قدر معصومیت سے کہا۔

’’آواز تو نہیں تھی البتہ ایک چیخ سی میں نے سنی تھی۔ لیکن مجھے یہ اندازہ نہ ہوسکا کہ وہ چیخ کس طرف سے بلند ہوئی۔‘‘

شہزادہ محمد اب مزے لے لے کر مسکرارہا تھا۔ اس نے پھر کہا۔ ’’ جی ہاں جناب! وہ چیخ مارسی کی تھی................خیر چھوڑیئے، ہم بھی ملتے ہی کیا گفتگو لے بیٹھے ہیں............سنا ہے کہ آپ کو شاہی سراغ رساں مقرر کیا گیاہے۔ برادرمحترم ، براہ کرم! ہمارے لیے بھی ایک دو سراغ ضرور ڈھونڈ یے گا۔‘‘ شہزادہ محمد نے ذومعنی جملہ کہا اور دونوں کھلکھلا کر ہنس دیئے ۔ لیکن قاسم کا ذہن متواتر اس چیخ پر لگا ہوا تھا۔ وہ ابھی تک سوچ رہاتھا کہ ایک لڑکی نے انتہائی نازک وقت میں اس کی جان بچا کر اس پر احسان کر دیا ہے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اسے البانوی کنیز کی بیٹی سے مل کر اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔

معاً کسی خیال کے تحت قاسم نے شہزادہ محمد سے کہہ دیا۔’’شہزادہ حضور !..............حق تو یہ ہے کہ میں اس لڑکی کا شکریہ ادا کروں ۔ لیکن سوچتا ہوں اس کو کہاں تلاش کروں۔؟‘‘

قاسم کے ذہن میں کچھ اور ہی خیالات گردش کر رہے تھے ۔ غالباً اس کے اندر کا سراغ رساں حرکت میں آچکا تھا۔ ورنہ اس طرح پہلی ملاقات میں شہزادہ محمد کے ساتھ وہ یوں بے تکلف ہونے کی کوشش نہ کرتا۔ شہزادہ محمد نے قاسم کی بات سنی تو اس کا قہقہہ نکل گیا۔

’’اچھا ! ............چند لمحوں میں نوبت بہ ایں جا رسید؟ کہیں ہمارے سراغ رساں صاحب غائبانہ عشق تو نہیں فرمانے لگے؟‘‘ نو عمر شہزادے نے اپنا قیافہ قائم کرتے ہوئے کہا۔

’’نہیں شہزادہ حضور ایسی بات نہیں! .............. میں تو بس ویسے یہ اخلاقی لحاظ سے کہہ رہا تھا۔ آخر اس لڑکی نے میری جان بچائی ہے۔‘‘

شہزادہ محمد پھر ہنس دیا۔ ’’برادرمحترم !............... آپ کی اخلاقیات اپنی جگہ بجا۔ لیکن یاد رکھیے کہ آپ مسلمان ہیں اور وہ ایک عیسائی ماں کی بیٹی ہے۔‘‘

قاسم کے لیے یہ بات پھر چونکادینے والی تھی۔ وہ اپنے مقدر پر رشک کر نے لگا کہ سراغ رسانی کی ذمہ داری سنبھالتے ہی پہلے قدم پر اسے سراغ ملنا شروع ہوگئے تھے۔ اس کا ذہن ایک عیسائی لڑکی کے بارے میں سوچ رہاتھا جس نے تہوار والے روز قاسم کی جان بچائی۔ اور جو سکندر کی البانوی کنیز کی بیٹی ہے۔ یہ یقیناً ایک عجیب اتفاق تھا۔ اس قدر عجیب کہ اسے جان کر قاسم کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ اس نے بے صبری سے بات کرتے ہوئے پوچھا۔

’’لیکن شہزادہ حضور ! اس لڑکی کا پتہ بھی تو عنایت فرمائیے، تاکہ ہم اس کا شکریہ ادا کرنے کے لیے جاسکیں۔‘‘

’’بہت خوب!.............سبحان اللہ ............... تو ہمارے پنج ہزاری سالار اور شاہی سراغ رساں جناب قاسم بن ہشام صاحب ایک عیسائی لڑکی کے دام حسن میں گرفتار ہو ہی گئے۔‘‘

شہزادہ محمد خوب ہنس رہاتھا ۔ قاسم نے بھی اس کی ہنسی میں شامل ہو کر ہنسی مزاح کا ماحول بنانے کی اداکاری کی۔ شہزادہ محمد نے پھر کہا۔

’’ٹھیک ہے، ہم آپ کو مارسی کا پتہ بتادیتے ہیں۔ لیکن اس کی ایک شرط ہے، پہلے وہ پوری کیجیے۔‘‘

قاسم نے چونک کر پوچھا۔ ’’بے شک!...........فرمائیے ، کون سی شرط ہے؟‘‘

شہزادہ محمد نے ہنستے ہنستے کہا۔ ’’ہماری شرط یہ ہے کہ آپ ہمارے دوست بننے کا وعدہ کیجیے!............آپ ہمارے ساتھ وعدہ کیجیے کہ آپ ہمارے ہمراہ شکار کے لیے بھی جایا کریں گے اور ہمیں ملنے کے لیے یہاں قصرسلطانی میں بھی تشریف لایا کریں گے۔‘‘

قاسم نے اطمینان کی سانس لی اور فورا کہا۔ ’’ آپ کی دوستی ؟........... زہے نصیب ! مجھے آپ کی شرط منظور ہے۔‘‘

قاسم کی بات کے ساتھ ہی دونوں ہنس دیئے۔ قاسم نے نوعمر شہزادے کے ساتھ وعدے کا ہاتھ ملایا اور کہا۔’’ ٹھیک ہے حضور ! اب آپ فرمائیے سکندر بیگ کی البانوی کنیز کا پتہ۔‘‘

شہزادہ محمد نے قاسم کو مزید تنگ نہ کیا اور بتادیا کہ شاہی محل کی عقبی کالونی میں البانوی کنیز مارتھا کا گھر ہے۔ اب قاسم کے لیے شہزادہ کے پاس مزید رکنا ممکن نہ تھا۔ اسے اپنے مشن کا پہلا سراغ مل چکا تھا۔ چنانچہ کچھ دیر بعد اس نے جانے کی اجازت چاہی تو نوعمر شہزادے نے مسکرا کر اسے جانے کی اجازت دے دی۔ شہزادہ محمد، قاسم کو دیوان خاص کے دروازے تک چھوڑنے آیا ۔ اور جب قاسم روانہ ہونے لگا تو شہزادے نے ایک عجیب بات کردی۔

’’دوست !ہم اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ آپ البانوی کنیز کے گھر شکریہ ادا کرنے سے زیادہ سکندر بیگ کی سازش کا سراغ ڈھونڈ نے جارہے ہیں۔ لیکن ہم آپ کو روکیں گے نہیں۔‘‘

قاسم نے خفیف نظروں سے شہزادے کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں اس کی بصیرت کی داد دی۔ قاسم نے سوچا کہ سلطان مراد خان ثانی کی نسبت اس کا بیٹا ’’محمد ‘‘ زیادہ ذہین اور صاحب بصیرت تھا............ پھر قاسم نے شہزادے کو سلام کیا اور محل سے نکل کر چلاگیا۔

اب اس کے دماغ میں سنسنی کے گھوڑے دوڑ رہے تھے۔ وہ چاہتاتھا کہ جلد سے جلد مارسی سے مل لے۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہاتھا، اس کا یہ یقین پختہ ہوتا جا رہاتھا کہ مارسی ہی وہی لڑکی ہے جو اسے زیتون کے باغات میں ملنے کے لیے آئی تھی۔ ابھی شام ہونے میں کچھ دیر تھی اور وہ رات کے اندھیرے میں مارتھا کے گھر جانا چاہتاتھا ۔ چنانچہ اس نے وقت گزارنے کے لیے اپنے گھوڑے کا رخ گھر کی جانب موڑ دیا۔ گھر پر اس کا بھائی طاہر موجود تھا۔ قاسم گھر میں داخل ہوا تو بچے دوڑ کر آئے اور اس کی ٹانگوں سے لپٹ گئے۔ اب اس کے بھتیجے اس کے ساتھ پوری طرح مانوس ہوچکے تھے۔ وہ گھر آتا تو اس کے ساتھ اچھلنے کودنے لگتے۔ اس کے والدین بھی ادرنہ کی زندگی سے مطمئن تھے۔ کیونکہ یہاں وہ اپنے دونوں بیٹوں ، بہو اور پوتوں کے ساتھ تھے۔ قاسم کی ماں زیادہ بوڑھی نہ تھی۔ وہ ایک دیندار عورت تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے دونوں بیٹے مذہبی خیالات کے مالک تھے۔ قاسم اپنے کمرے میں بچوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھا کہ طاہر داخل ہوا۔

’’سنا ہے آج سلطان نے بلوایا تھا تمہیں؟‘‘

’’آپ کو کیسے معلوم ہوا؟ میں نے تو کسی سے ذکر نہیں کیا۔‘‘ قاسم نے کسی قدر حیرت سے کہا۔

’’مجھے تمہارے دوست دس ہزاری سا لار آغاحسن نے بتایا ہے۔‘‘ طاہر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور قاسم کے قریب ہی فرش پر بیٹھ گیا۔

’’جی ہاں ! سلطان بیک وقت دو لشکر روانہ کر رہا ہے۔ ایک ’’ہونیاڈے‘‘ کے مقابلے میں یورپ کی جانب اور دوسرا ’’قونیا‘‘ کی بغاوت فرو کرنے کے لیے ۔‘‘ قاسم نے بتایا۔

’’تمہیں کون سے لشکر میں شامل کیا گیاہے؟‘‘

’’مجھے سلطان نے حکم دیا ہے کہ میں یہیں رہ کر قیصر کے جاسوسوں کا کھوج لگاؤں۔ اس نے مجھے شاہی سراغ رساں مقرر کیا ہے۔ ‘‘ قاسم نے کسی قدر جھجکتے ہوئے بتایا۔

’’یہ کیا بات ہوئی؟ شاہی سراغ رساں؟ کیا تم اب پنج ہزاری سالار نہیں رہے؟‘‘ طاہر نے حیرت سے پوچھا۔

قاسم بولا۔ ’’ نہیں ، ایسی بات نہیں ۔ دراصل میں نے خود سلطان کو بتایا تھا کہ ادرنہ میں قیصر کے جاسوس موجود ہیں۔‘‘

معاً قاسم کو ایک خیال آیا اور اس نے اپنے بھائی سے سوال کردیا۔’’ بھائی جان! ابو جعفر کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟ وہی ابو جعفر جو ایک بار ہمارے گھر آیا تھا ۔‘‘

طاہر نے سنسنی زدہ نظروں سے قاسم کی جانب دیکھا اور کچھ دیر سوچنے کے بعد دھیمے لہجے میں کہنے لگا۔ ’’ میں تو یہی جانتا ہوں کہ وہ ’’بغدادی دروازہ‘‘ کی مسجد کا خطیب ہے۔ ہاں البتہ یہ بھی سنا ہے کہ اس کے تعلقات دربار شاہی تک پھیلے ہوئے ہیں۔‘‘

طاہر کی بات سن کر قاسم درمیان میں بول پڑا۔

’’نہیں ، کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ ادرنہ میں کہاں سے آیا ہے؟ اس کا حدود اربعہ کیا ہے؟ اور یہ کہ کیا ادرنہ میں اس کا کوئی رشتہ دار بھی ہے؟‘‘

طاہر کچھ سوچنے لگا۔ اب اس کے ماتھے پر سوچ کی شکنوں کا بسیرا تھا۔ اس نے چند ثانیے خاموش رہنے کے بعد کہا۔ ’’ جہاں تک مجھے معلوم ہے ادرنہ میں ابوجعفر کا کوئی رشتہ دار نہیں۔ یہ شخص عرب کا باشندہ ہے اور پچھلے کئی سال سے یہاں ادرنہ میں مقیم ہے۔‘‘

یہ جان کر کہ ابو جعفر کا کوئی رشتہ دار ادرنہ میں نہیں، قاسم کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی۔ وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور طاہر سے کہنے لگا۔ ’’بھائی جان! آپ نے غور سے ابو جعفر کا چہرہ دیکھاہے.................آپ یاد کریں وہ عربوں کی طرح گورا چٹا اور صحت مند ضرور ہے۔ لیکن اس کی آنکھیں عربوں سے مشابہ نہیں ہیں۔ اس کی آنکھوں کی نیلی رنگت لاطینی اقوام جیسی ہے۔‘‘

قاسم کی بات سن کر طاہر ہنس دیا۔ ’’ ارے بھائی! تم سچ مچ جاسوس بن گئے............. اور اتنی دور دور کی کوڑیاں لانے لگے............ تمہیں وہم ہو رہا ہے۔ ابوجعفر یہاں بیس سال سے مقیم ہے۔ آج تک تو کسی نے اس پر شک نہیں کیا۔ اب تم ہو کہ اسے عرب ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہو........... حالانکہ وہ عمدہ لہجے میں عربی بولتا ہے۔‘‘

قاسم نے بھائی کی بات سنی لیکن خاموش رہا۔ اس کا دماغ کہیں اور تھا۔ قاسم کو خلاؤں میں گھورتا دیکھ کر طاہر بولا۔

’’ اچھا چھوڑو یہ سراغ رسانی۔ چلو، چل کر کھانا کھاتے ہیں۔‘‘

قاسم دسترخوان پر بھی خاموش رہا۔ جب سے سلطان نے اسے سراغ رسانی کی ذمہ داری سونپی تھی اس کا دماغ فعال ہوگیا تھا۔ اس وقت وہ قیصر قسطنطنیہ اور ابو جعفر کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ جو ذمہ داری اسے سونپی گئی ہے اس کی بجا آوری کے لیے ضرور ی ہے کہ اسے قیصر قسطنطنیہ کی ریشہ دوانیوں کے متعلق پوری معلومات ہوں۔ اسی خیال کے تحت اس نے طاہر سے سوال کیا۔

’’بھائی جان! قسطنطین کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ جنگ سے زیادہ سازش کے ذریعے اپنے دشمنوں کو مات کرتا ہے............ کیا یہ سچ ہے؟‘‘

طاہر نے قاسم کی بات دلچسپی سے سنی اور کہا۔ ’’یہ سچ ہے.............قیصر زیرزمین سرگرمیوں میں مہارت رکھتا ہے۔ ہمارے سلطان کے دادا ’’سلطان بایزید یلدرم‘‘ اور مشہور ایشیائی فاتح ’’امیر تیمور‘‘ کے مابین اسلامی تاریخ کی رسوا کن لڑائی فی الحقیقت قیصر کی خفیہ سرگرمیوں کی وجہ سے ہوئی تھی۔ میں نے تربیت گاہ کی لائبریری میں اس مکتوب کی نقل دیکھی ہے جو قیصر نے بایزید یلدرم کے خلاف امیر تیمور کو لکھا تھا۔ اس نے لکھا تھا..............

میری سلطنت بہت پرانی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور خلفائے راشدینؓ کے زمانے میں بھی قسطنطنیہ کے اندر ہماری سلطنت موجود تھی۔ اس کے بعد ’’بنو امیہ‘‘ اور ’’بنو عباس‘‘ کے زمانے میں بھی خلفاء سے بارہا ہماری صلح ہوئی اور کسی نے قسطنطنیہ لینے کا قصد نہیں فرمایا۔ لیکن اب عثمانی سلطان نے ہمارے اکثر مقبوضہ چھین لیے ہیں اور ہمارے دارالسطنت قسطنطنیہ پر اس کا دانت ہے۔ ایسی حالت میں سخت مجبور ہو کر ہم آپ سے امداد کے خواہاں ہیں اور ظاہر ہے کہ آپ کے سوا ہم اور کسی سے خواہان امدد ہو بھی نہیں سکتے ۔ اگر آپ بایزید خان یلدرم کے مسلمان اور ہمارے عیسائی ہونے کا خیال کرتے ہیں تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ بایزید خان کو اس طرف یورپ میں مسلسل فتوحات ہو رہی ہیں اور اس کی طاقت بڑی تیز رفتاری سے ترقی پذیر ہے۔ وہ بہت جلد اس طرف سے مطمئن اور فارغ ہوکر آپ کے مقبوضہ ممالک پر حملہ آور ہوگا اور اس وقت آپ کو اس کے زیر کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔ بایزید خان نے ’’سلطان احمد جلائر‘‘ اور ’’قراء یوسف ترکمان‘‘ کو جو آپ کے مفرور باغی ہیں اپنے یہاں عزت کے ساتھ مہمان رکھ چھوڑا ہے اور یہ دونوں باغی اس کو آپ کے خلاف جنگ کرنے اور مشورہ دینے میں برابر مصروف ہیں۔ یہ بات بھی آپ کے لیے کچھ کم بے عزتی کی نہیں کہ آپ کے باغی ، سلطان بایزید کے پاس اس طرح عزت و احترام کے ساتھ رہیں اور آپ ان کو واپس طلب نہ کرسکیں۔ بس مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایشیائے کوچک پر حملہ کردیں۔ کیونکہ اس ملک کو قدرتی طور پر آپ کے قبضے میں رہنا چاہیے...........

اور قاسم ! امیر تیمور اتنا بڑا بادشاہ ہو کر بھی قیصر کی چال میں آگیا۔ قیصر کے خط نے اسلامی دنیا میں بارود کا کام کیا اور اسلامی دنیا کے دو عظیم بادشاہوں کے درمیان ’’انگورہ ‘‘ کے مقام پر ایک ایسی دردناک لڑائی ہوئی کہ رزم گاہ میں مسلمانوں کو گرتا دیکھ کر آسمان کی بھی سسکیاں نکل گئی ہوں گی۔ اس جنگ میں تیمور نے بایزید کو عبرت ناک شکست دی.............. اور سلطان بایزید کو لوہے کہ پنجرے میں بند کرکے گلی گلی پھرایا اور رسوا کیا۔

قیصر ہمیشہ گھٹیا حربے استعمال کرتا رہاہے۔ یہ جب کمزور ہوتاہے تو دب کر مسلمانوں کے تلوے چاٹنے لگتا ہے۔ لیکن جب ذرا اسے موقع ملتا ہے یہ کوئی بھی گری ہوئی حرکت کرنے سے باز نہیں آتا۔ تم شاید نہیں جانتے ’’سلطان مراد خان اول‘‘ سے ڈر کر قیصر نے اپنی تین خوبصورت لڑکیاں مراد خان اول کو پیش کردیں۔ ایک اس کے لیے اور دو اس کے بیٹوں کے لیے ۔ اس کے باوجود قیصر ، سلطان مراد خان اول کے خلاف گھناؤنی شازشیں کیں اور پھر جب سلطان کے غضب سے خوفزدہ ہوا تواپنے بیٹے ’’تھیوڈورس‘‘ کو سلطان کی خدمت میں بھیج کر درخواست کی کہ اس کو ینی چری فوج میں بھرتی ہونے کی عزت دی جائے۔

قیصر مسلمان سلاطین کے حرم میں اپنی بیٹیاں اور بہنیں بھیجنے سے بھی باز نہیں رہتا۔ عثمانی سلاطین کے محل میں بھی قیصر کی شہزادیاں ہر دور میں خطرناک شازشوں کا حصہ رہی ہیں۔‘‘

طاہر نے پوری تفصیل کے ساتھ قاسم کو قیصر کے بارے میں بتایا۔ اس طرح تفصیل کے ساتھ بیان کرنا اس کا پیشہ تھا۔ آخر وہ ایک تجربہ کا ر معلم تھا۔ قاسم اپنے بھائی کی گفتگو سننے میں اس قدر محو تھا کہ اسے وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا۔ اچانک اسے خیال آیا کہ اسے مارسی سے ملنے جانا ہے تو وہ چونک گیا۔ وہ اس قدر اہم گفتگو کو چھوڑ کر جانا تو نہ چاہتا تھا لیکن اس نے فرض کو دلچسپی پر ترجیح دیتے ہوئے مارسی کے گھر جانے کا فیصلہ کیا اور کھانا ختم کرنے کے بعد ہاتھ صاف کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔

(جاری ہے)

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...