” آپ نے مجھے تو گرفتار کرلیا چیف جسٹس کو اس جرم میں گرفتارکیوں نہیں کرتے جبکہ وہ بھی شریک جرم ہیں “ پولیس نے جب پاکستان کے مشہور صحافی کو گرفتار کیا تو جواب میں انکے ساتھ کام کیا گیا ،جان کر آپ بھی کہیں گے کہ ....

” آپ نے مجھے تو گرفتار کرلیا چیف جسٹس کو اس جرم میں گرفتارکیوں نہیں کرتے ...
 ” آپ نے مجھے تو گرفتار کرلیا چیف جسٹس کو اس جرم میں گرفتارکیوں نہیں کرتے جبکہ وہ بھی شریک جرم ہیں “ پولیس نے جب پاکستان کے مشہور صحافی کو گرفتار کیا تو جواب میں انکے ساتھ کام کیا گیا ،جان کر آپ بھی کہیں گے کہ ....

  

لاہور(ایس چودھری)ایوب خان کے زمانے میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کیانی جیسے دبنگ اور جراتمند انسان کے سامنے مارشل لا بھی زبان نہیں کھول پاتا تھا اور کسی میں ہمت نہیں تھی کہ جسٹس کیانی کے کاٹ دار جملوں کو روک پاتا اس پر مستزاد کہ شورش کاشمیری جیسا صحافی اور شعلہ بیاں مقرر بھی مارشل لا حکام سے سے سنبھالے نہیں سنبھلتا تھا ۔دونوں دودھاری شمشیر برہنہ تھے ۔ایک محفل میں جب دونوں شخصیات اکٹھی ہوگئیں تو مارشل لا حکام کی جان کو لال پڑگئے تھے ۔یہ ایوب خان کی حکومت میں پہلی تقریب تھی جس میں پہلی بارایک شعلہ بیاں صحافی نے حکمرانوں کی عیاشیوں اور غیر آئینی اقدامات کا جنازہ ایک چیف جسٹس کی موجودگی میں نکالا گیا تھا ۔

لاہور میں اقبال شناسی کے حوالے سے ایک تقریب میں جسٹس ایم آرکیانی کو بطور صدر بلایا گیا تھا ۔تقریب میں جہاں دیگر مہمان شامل تھے وہاں شورش کاشمیری کو خاص طور خطاب کے لئے مدعو کیا گیا تھا ۔شورش تو تقریر میں شروش برپا کردیتے تھے ۔ عطاء اللہ شاہ بخاری کے بعد، برصغیر ہندو پاک کے بہت بڑے خطیب تھے۔ اقبال کے عاشق تھے۔جب بولتے تو بے تکان اور ان تھک بولتے تھے۔کسی کا لحاظ نہ رکھتے ۔اس تقریب میں انہوں نے حکمرانوں کی عیاشیوں کا بھانڈا پھوڑ دیا ۔ ان کی تقریر کو خفیہ والوں نے نوٹس لے کر اوپر بھجوا دیے تو نواب امیر محمد خان گورنر مغربی پاکستان نے طیش میں آکرصدر پاکستان ایوب خان کی توثیق سے گرفتاری کا حکم جاری کردیا ۔

پولیس جب شورش کاشمیری کو گرفتار کرنے لگے تو کہا کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ مجھے گرفتار کرلو، لیکن چیف جسٹس کو بھی گرفتار کرو جنہوں نے اس تقریب کی صدارت کی ہے ۔ اس تقریب کے صدر کیانی تھے اور مقرر چیئرمین کی اجازت سے بولتے تھے۔ یہ سنتے ہی پولیس کا دستہ پریشان ہوگیا۔یہ پہلا موقع تھا کہ گورنر امیر محمد خان المعروف نواب آف کالا باغ کو زچ ہونا پڑا اور سرکار کو دوسرا حکم نامہ جاری کرناپڑا کہ ان دونوں ہستیوں کو گرفتار نہ کیا جائے ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس