وہ شہر جس کے رہنے والوں نے جرائم سے تنگ آ کر تمام پولیس اور سیاستدانوں کو شہر سے باہر نکال دیا، اب 7سال بعد یہاں کیا حالات ہیں؟ جواب آپ تصور بھی نہیں کر سکتے

وہ شہر جس کے رہنے والوں نے جرائم سے تنگ آ کر تمام پولیس اور سیاستدانوں کو شہر ...
وہ شہر جس کے رہنے والوں نے جرائم سے تنگ آ کر تمام پولیس اور سیاستدانوں کو شہر سے باہر نکال دیا، اب 7سال بعد یہاں کیا حالات ہیں؟ جواب آپ تصور بھی نہیں کر سکتے

  

میکسیکوسٹی(مانیٹرنگ ڈیسک) شہروں کا انتظام چلانے کے لیے مقامی حکومتیں اور تحفظ کے لیے پولیس جیسے محکمے بنائے جاتے ہیں لیکن میکسیکو کے ایک شہر کے باسیوں نے ان دونوں سے چھٹکارا پا کر ثابت کر دیا ہے کہ دراصل یہی جرائم کا بنیادی سبب اور مجرموں کے سرپرست ہوتے ہیں۔ وائس نیوز کی رپورٹ کے مطابق میکسیکو کے علاقے میچواکون میں واقع اس شہر کا نام شیرون ہے جس کی آبادی لگ بھگ 20ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ یہاں جرائم پیشہ گروہ بہت منظم تھے۔ قتل و غارت اور چوری و ڈکیتی کی وارداتیں معمول کی بات تھیں اور یہ گینگ شہر کے گرد موجود جنگلات کا بھی صفایا کر رہے تھے اور کاٹ کاٹ کر لکڑی فروخت کر رہے تھے اور خالی ہونے والی زمینوں پر قبضے کرکے وہاں کاشتکاری کر رہے تھے۔ امن وامان کی اس مخدوش صورتحال سے تنگ آ کر 7سال قبل اس شہر کے باسیوں نے ایکا کیا اور پولیس اور سیاستدانوں کو شہر سے نکال دیا، کیونکہ انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ ان میں سے اکثر جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ وہ جنگلات کے کاٹے جانے کی شکایت متعدد بار مقامی حکام اور پولیس کے پاس لے کر گئے لیکن انہوں نے کان نہیں دھرے، جس پر شہریوں نے انہیں ہی کان سے پکڑا اور شہر بدر کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق مقامی حکومت کا خاتمہ کرکے سیاستدانوں اور پولیس کو شہر سے نکالنے کے بعد شہریوں نے جرائم پیشہ گروہوں پر مل کر حملے کرنے شروع کر دیئے۔ جب بھی جنگل کی طرف سے لکڑی سے بھرا کوئی ٹرک آتا تو وہ مل کر اس پر حملہ کر دیتے اور ٹرک چھین لیتے۔ ایسے مواقع پر شہریوں کا اکٹھے ہونے کی اطلاع گرجاؤں کی گھنٹیاں بجا کر اور ہوا میں علامتی روشنی جلا کر دی جاتی۔ پھر شہر والوں نے مقامی مردوخواتین پر مشتمل ایک فورس بنائی جس نے پورے شہر میں امن و امان قائم کرنے کی ذمہ داری سنبھال لی۔ اب 7سال گزرنے کے بعد شہر میں جرائم مکمل طور پر تو ختم نہیں ہوئے لیکن ان کی شرح انتہائی کم ہو گئی ہے اور قتل جیسے سنگین جرائم نہ ہونے کے برابر ہو چکے ہیں کیونکہ شہریوں کی اس سات سالہ جدوجہد کے نتیجے میں جرائم پیشہ گروہ بھی شہر چھوڑ کر جانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔یوں شیرون کے شہریوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بدامنی اور خون خرابے کے بنیادی ذمہ داروں کا تعین کیا جائے تو اس میں سیاستدان اور پولیس سرفہرست آتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس