وہ گاؤں جہاں پر مرد چند ہزار روپے میں ایک ماہ کے لیے دلہن کو کرائے پر حاصل کر سکتے ہیں

وہ گاؤں جہاں پر مرد چند ہزار روپے میں ایک ماہ کے لیے دلہن کو کرائے پر حاصل کر ...
وہ گاؤں جہاں پر مرد چند ہزار روپے میں ایک ماہ کے لیے دلہن کو کرائے پر حاصل کر سکتے ہیں

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار تو بنتا ہے لیکن آج بھی وہاں اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کی صورتحال ایسی مخدوش ہے کہ معمولی باتوں پر اقلیتی برادریوں کے افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے اور قاتلوں کو کوئی پوچھتا تک نہیں اور خواتین کے عدم تحفظ کے حوالے سے بھی اسے دنیا میں سرفہرست قرار دیا جا چکا ہے۔ خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی ہی نہیں بلکہ آج کے زمانے میں بھی بھارت میں خواتین کسی مادی شے کی طرح کرائے پر مہیا کی جاتی ہیں۔ اگرچہ یہ انسانیت سوز کام بھارت کے کئی علاقوں میں ہورہا ہے تاہم ریاست مدھیاپردیش کی گوالیار ڈویژن میں واقع شیوپوری نامی ایک گاؤں میں یہ دھندہ اپنے عروج پر ہے جہاں لڑکیوں کو ماہانہ یا سالانہ کرائے پر دلہنیں بنا کر ان کے خریداروں کے ساتھ روانہ کر دیا جاتا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق امیر مرد بڑی تعداد میں اس گاؤں میں آتے اور 10روپے کے ایک اسٹامپ پیپر پر معاہدہ کرکے لڑکی کو دلہن بنا کر لے جاتے ہیں۔ ان لڑکیوں کا ماہانہ کرایہ محض چند ہزار روپے ہوتا ہے۔معاہدے کے اختتام پر خریدار کے پاس دو آپشن ہوتے ہیں۔ یا تو معاہدے کی تجدید کرلے اور لڑکی کو اپنے پاس ہی رکھے اور یا پھر اسے گھر بھیج کر اپنی راہ لے اور کسی نئی لڑکی کو خرید کر اس کی زندگی سے کھیلنا شروع کر دے۔بھارتی ریاست گجرات میں بھی اس طرح کے واقعات منظرعام پر آ چکے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ہی ایک رپورٹ میں معلوم ہوا تھا کہ گجرات میں ایک والدین نے امیر بزنس مین کو اپنی بیٹی 8ہزار روپے ماہانہ کرائے پر دے رکھی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس