قوم غریب اور لٹیرے امیر ہوگئے ، قائداعظم کا پاکستان بنے گا یاچوروں اور ڈاکوﺅں کا؟فیصلہ چار ہفتے میں ہوگا :عمران خان

قوم غریب اور لٹیرے امیر ہوگئے ، قائداعظم کا پاکستان بنے گا یاچوروں اور ...
قوم غریب اور لٹیرے امیر ہوگئے ، قائداعظم کا پاکستان بنے گا یاچوروں اور ڈاکوﺅں کا؟فیصلہ چار ہفتے میں ہوگا :عمران خان

  

بنوں (ڈیلی پاکستان آن لائن)تحریک انصاف کے چیئر مین عمران نے کہا ہے کہ قوم غریب اور لٹیرے امیر ہوگئے ، مولانا فضل الرحمن مقناطیس ہیں جہاں اقتدار ہو چمٹ جاتے ہیں،کے پی میں پن بجلی کے منصوبے لگائے ،تعلیم اور صحت کا نظام بہتر کیا ، 4ہفتے میں فیصلہ ہوگا کہ پاکستان قائداعظم کا پاکستان بنے کا چوروں اور ڈاکوﺅں گا ۔

تفصیلات کے مطابق بنوں میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ جو پارٹی اقتدار میں آتی ہے فضل الرحمان اس کے ساتھ ہوجاتا ہے ، سب جانتے ہیں 2002سے پہلے اکرم درانی کی پوزیشن کیاتھی لیکن آج وہ ارب پتی بن گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قیمت 100روپے تھی جو آج 125روپے ہوگئی ہے ۔ قوم غریب ہو گئی ہے لیکن جو نواز شریف اور زرداری کی طرح منی لانڈرنگ کرکے پیسہ باہر لے گئے وہ امیر ہوگئے ہیں۔ بنوں کے لوگوں کے حالات خراب ہوئے ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمان کے حالات ٹھیک ہوگئے ہیں۔ آج پاکستان میں بجلی بنگلہ دیش ، بھارت اور سری لنکا سے مہنگی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے روپیہ گرے گا اس سے بجلی ، پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہو تا جائے گا ۔ ہم نے کوشش کی پانی سے بجلی بنانے کی اور چار پراجیکٹ لگائے پن بجلی بنانے کے جس سے پہلی دفعہ 74میگاوٹ بجلی پیدا کی ۔ اس کے علاوہ تین سو چھوٹے چھوٹے پاور سٹیشن لگائے جس سے چھوٹے چھوٹے گاﺅں کو جہاں کبھی بجلی نہیں تھی بجلی میسر آئی ۔ اس کے علاوہ ہم نے 700میگاواٹ کے ایم او یو سائن کئے لیکن ”‘مجھے کیو ں نکالا‘ ‘ حکومت نے موقع نہیں دیا کیونکہ کہیں خیبر پختونخوا میں ترقی ہوگئی اور بیروز گاری ختم ہوگئی تو عمران خان شریفوں کا تختہ نہ الٹا دے!عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے حوالے سے میرا خواب یہ ہے کہ ایک یتیم بچہ اٹھے اور سرکاری سکول میں جائے جہاں وہ ایسی تعلیم حاصل کرے کے ملک کا سب سے بڑا بزنس مین بن سکے۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں ایک عام آدمی محنت کرتا ہے تو اوپر آسکتا ہے لیکن ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہے ۔ میری کوشش ہے کہ میں سب سے پہلے سکولوں کی حالت کو ٹھیک کروں۔ ہم نے کے پی میں سکولوں کا نظام بہتر کیا جس سے بچے بڑی تعداد میں پرائیویٹ سکولوں سے سرکاری سکولوں میں گئے ۔ اس لئے میری یہ خواہش ہے کہ سب سے پہلے میں سکولوں کا نظام ٹھیک کروں ۔ ہم ایسا نظام بنائیں کے جو محنت کرے وہ اوپر آئے کیونکہ یہ لوگوں کو اوپر آنے ہی نہیں دیتے ۔ عمران خان نے کہا کہ 4ہفتے میں یہ فیصلہ ہوگا کہ یہ ملک قائداعظم کا پاکستان بنے گا یا چوروں اور ڈاکوﺅں کا پاکستان ر ہے گا ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ان سے موازنہ نہیں جو 6،چھ مرتبہ باریاں لے چکے ہیں ۔ آج پاکستان کی سب سے بہتر پولیس فورس کے پی میں ہے ۔ تاریخ میں پہلی بار کے پی میں قانون پاس ہوا ہے کہ کوئی سول کیس ایک سال سے اوپر نہیں جا سکتا ۔ کے پی میں تعلیم اور صحت کا نظام سارے پاکستان سے بہتر ہے ۔ہمار ی حکومت آنے سے پہلے 3000ڈاکٹر تھے آج 9000ہزار ڈاکٹر ہیں۔ ہیلتھ پالیسی دی ہے جس میں پہلی دفعہ ہوا ہے کہ غریب آدمی سال میں ساڑھے پانچ لاکھ تک کا علاج کروا سکتا ہے ۔

عمران خان کا کہناتھا کہ پورے پاکستان کے بلدیاتی نمائندوں سے پوچھ لیں وہ کہیں گے کہ ہم کو کے پی والا بلدیاتی نظام چاہئے ۔ ہم نے کے پی میں ایک ارب درخت لگائے ہیں۔ پاکستان میں گرمی پڑ رہی ہے اور گلوبل وارمنگ میں پاکستان 7ویں نمبر پر ہے اس لئے درخت لگانا بہت ضروری ہے ۔عوام مجھے جتوائیں میں ان کو جتواﺅں گا ۔انہوں نے کہا کہ عو ام اللہ سے دعا کریں کے اللہ پاکستان میں وہ حکومت لیکر آئے جو ایک چھابڑی والے کو ایک بارسوخ آدمی کے سامنے کھڑا کردے اور دنیا میں پاکستان کے گرین پاسپورٹ کو باوقار بنائے ۔

مزید : اہم خبریں /قومی