برطانوی کمپنی کی ملازم نوجوان لڑکیوں نے ان غباروں میں کیا شرمناک چیز بھر بھر کر سالانہ لاکھوں روپے کمانا شروع کردیا؟ جان کر آپ کی بھی حیرت کی انتہاء نہ رہے گی کیونکہ۔۔۔

برطانوی کمپنی کی ملازم نوجوان لڑکیوں نے ان غباروں میں کیا شرمناک چیز بھر بھر ...
برطانوی کمپنی کی ملازم نوجوان لڑکیوں نے ان غباروں میں کیا شرمناک چیز بھر بھر کر سالانہ لاکھوں روپے کمانا شروع کردیا؟ جان کر آپ کی بھی حیرت کی انتہاء نہ رہے گی کیونکہ۔۔۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک کمپنی کی ملازم نوجوان لڑکیاں غباروں میں ایسی شرمناک چیز بھر بھر کر سالانہ لاکھوں روپے کما رہی ہیں کہ سن کر آدمی حیران رہ جائے۔ میل آن لائن کے مطابق اس کمپنی نے یہ انوکھا کاروبار شروع کیا ہے جس میں وہ غباروں میں ’نائٹرس گیس‘، جسے ہنسانے والی گیس بھی کہا جاتا ہے، بھر کر بیرون ملک فروخت کر رہی ہے حالانکہ یہ گیس منشیات کی فہرست میں آتی ہے اور اس سے آدمی کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

کمپنی نے غباروں میں گیس بھرنے کے لیے نوعمر لڑکیاں بھرتی کر رکھی ہیں، جنہیں ’لافنگ گیس کریو‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ رات 11سے صبح 5بجے تک غباروں میں گیس بھرتی ہیں اور انہیں ان چھ گھنٹوں کا معاوضہ 80یورو(تقریباً 11ہزار روپے) ادا کیا جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’نائٹرس گیس انتہائی حفاظتی تدابیر کے ساتھ ماہرین ہی استعمال کر سکتے ہیں۔ اس طرح لڑکیوں کا گیس بھرنا ان کے لیے اور ان غباروں کے خریداروں کے لیے جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ جب یہ گیس سانس کے ذریعے کسی شخص کے جسم میں جاتی ہے تو فوراً اس کے جسم میں جذب ہو جاتی ہے اور اس کے دماغ پر گیس کے فوری اثرات مرتب ہوتے ہیں۔گیس اندر جانے سے اس شخص کو دیگر منشیات کی طرح فوری بشاشت اور سکون کا احساس ملتا ہے۔ اس کی نظر دھندلا جاتی ہے اور اسے سوچنے میں مشکل پیش آنے لگتی ہے۔اس کی زیادہ مقدار آدمی کو بے ہوش بھی کر سکتی ہے اور موت کے منہ میں بھی دھکیل سکتی ہے۔‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس