ڈاکٹرجس جھڑپ کے زخمیوں کا دن بھر علاج کرتا رہا ، اسی میں اس کے بیٹے کی جان چلی گئی

ڈاکٹرجس جھڑپ کے زخمیوں کا دن بھر علاج کرتا رہا ، اسی میں اس کے بیٹے کی جان چلی ...
ڈاکٹرجس جھڑپ کے زخمیوں کا دن بھر علاج کرتا رہا ، اسی میں اس کے بیٹے کی جان چلی گئی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)جموں و کشمیر میں سنگ باروں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ میں زخمی ہوئے لوگوں کا علاج کررہے ڈاکٹر کے بیٹے کی موت بھی اسی جھڑپ میں ہوگئی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق پلوامہ ڈسٹرکٹ ہسپتال میں تعینات ڈاکٹر عبد الغنی خان دن بھرزخمیوں کا علاج کرنے کے بعد اپنے کوارٹر میں لوٹے ہی تھے کہ انہیں فوراہسپتال واپس آنے کیلئے کہا گیا۔ جب وہ ہسپتال پہنچے تو انہیں خبر دی گئی کہ اسی جھڑپ میں ان کے 16 سالہ بیٹے فیضان احمد کی بھی موت ہوگئی ہے۔خیال رہے کہ جمعہ کو پلوامہ کے تھمنہ گاوں میں دہشت گردوں کے ساتھ مڈبھیڑ کے دوران سیکورٹی فورسز پر پتھراو کیا گیاتھا، جس کے بعد سیکورٹی اہلکاروں کی کارروائی میں کئی افراد زخمی ہوگئے اور ان میں فیضان بھی شامل تھا۔ مڈبھیڑ میں لشکر طیبہ کا ایک مجاہد بھی شہید ہوا تھا۔فیضان کو سنگین حالت میں راجپورہ کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا ، لیکن حالت زیادہ نازک ہونے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے انہیں ضلعی ہسپتال منتقل کردیا۔جہاں وہ ہلاک ہو گیابچے کے والد کے مطابق جب زخمیوں کے وارڈ میں بیٹے کو دیکھنے گئے اور ان کے صبر کا باندھ ٹوٹ گیا۔انہوں نے کہا کہ قسمت اسے اسی ہسپتال میں لے کر آئی جہاں وہ پیدا ہوا تھا۔ فیضان کی لاش کو تدفین کیلئے اس کے آبائی گاوں لادو لے جایا گیا۔

مزید : بین الاقوامی