”بلاول بھٹو کے ہاتھ میں ایک ایسی لکیر ہے جو بے نظیر بھٹوکے ہاتھ میں بھی تھی ،انہیں بھی ۔۔۔ “دست شناس کا ایسا دعویٰ کہ زرداری ایک بار تو سوچ میں پڑ جائیں گے

”بلاول بھٹو کے ہاتھ میں ایک ایسی لکیر ہے جو بے نظیر بھٹوکے ہاتھ میں بھی تھی ...
”بلاول بھٹو کے ہاتھ میں ایک ایسی لکیر ہے جو بے نظیر بھٹوکے ہاتھ میں بھی تھی ،انہیں بھی ۔۔۔ “دست شناس کا ایسا دعویٰ کہ زرداری ایک بار تو سوچ میں پڑ جائیں گے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نظام الدولہ) دنیا بھر میں بڑی شخصیات دست شناسوں اور ماہرین علم نجوم سے روابط رکھتیں اور ان سے مشورے لیتی ہیں اگر چہ وہ اسکا اعتراف بہت کم کرتی ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ امریکہ سے پاکستان تک حکمران سیاستدان طبقہ ان مخفی علوم سے استفادہ کرکے اپنی راہوں کو ہموار کرتا اور ممکنہ خطرات سے بچنے کی کوشش کرتا ہے ۔پاکستان کی موجودہ سیاسی نسل میں بھی یہ رجحان پایا جاتا ہے ۔ایک طرف وہ مزارات پر جاتی ہے تو دوسری جانب روحانی شخصیات سے اپنے مستقبل کے لئے دعائیں کرانے کے ساتھ ساتھ منجمین و دست شناسوں کی رائے باقاعدگی سے حاصل کرتی رہتی ہیں۔

پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سے پہلے ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو بھی دست شناسوں سے مشورے کئے کرتے تھے لیکن انکی کوئی تدبیر انہیں غیر فطری اموات سے نہ بچاسکیں۔بھٹو خاندان میں اقتدار اور قربانی کی رسم سالوں پرانی ہے اور اب بے نظیر بھٹو کے بیٹے بلاول زرداری بھٹو بھی میدان سیاست کے شاہسوار بن کر اقتدار کی طرف قدم بڑھا چکے ہیں ۔انکی سیاسی جدوجہد کو بھٹو خاندان کے سیاسی تسلسل کا حصہ سمجھا جارہا ہے ۔پیپلز پارٹی کو ان سے بڑی توقعات ہیں، جیالے ان کے اندر انکے نانا اور والدہ کی روح تلاش کررہے ہیں اور انہیں بلاول زرداری بھٹو کی جانب سے یقین دلایا جارہا ہے کہ وہ نانااور والدہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پیپلز پارٹی کے منشور کو مکمل طور پر نافذ کردیں گے ۔

ماہر ین نجوم کے علاوہ دست شناسوں نے بھی بلاول زرداری بھٹو کے متعلق قیافے لگانے شروع کردئے ہیں۔کہ ان کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا کیا ان میں حقیقت میں اپنی والدہ اور نانا کی روح پائی جاتی ہے ۔

بلاول زرداری بھٹو کے انٹرنیٹ پر موجود ہاتھوں کی تصاویر دیکھ کر ایک اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہاتھ کی بناوٹ کے اعتبار سے وہ اپنی والدہ یا نانا کے مقاصد کو کتنا کامیاب بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔حیرت انگیز طور پر بلاول زرداری بھٹو کے ہاتھ میں اپنی والدہ کی طرح خوش گمانی اورخوش قسمتی کی علامت موجود ہے اور وہ پاکستان کے وزیر اعظم بن سکتے ہیں لیکن جہاں تک ہاتھوں کی بنیادی لکیروں کا تعلق ہے تو بلاول زرداری بھٹو کی لکیریں اپنے والد سے بھی مماثلت رکھتی ہیں ۔گویا وہ اپنے والدین کا ملغوبہ ہیں ۔ان مین قائدانہ صلاحیتیں تو موجود ہیں لیکن ان میں کاموں کو منظم کرنے کی زیادہ صلاحیت نہیں پائی جاتی۔ان میں قمری رجحان پایا جاتا ہے جو ان کے اندر ڈپریشن پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے ۔دماغی طور پر وہ خود اپنی قسمت بنانے کے دھنی ہیں ۔لگی بندھی لکیروں پر نہیں چلیں گے بلکہ کشادہ ذہنی سے قسمت بنانے کی کوشش کریں گے ۔وہ دوسروں پر حد سے زیادہ انحصار نہیں کریں گے لیکن عجیب بات ہے وہ جذباتیت سے مغلوب ہوسکتے ہیں۔ دل کی لکیر کا زحل کے ابھار سے دماغی کی طرف لکیر کا پھینکنا ظاہر کرتا ہے کہ میچورٹی آنے تک ان کے دل کے فیصلے اثرانداز ہوں گے ۔ان میں قوت برداشت بہت زیادہ ہے جو ان کی ذہنی جھنجھلاہٹ کو قابو میں رکھنے میں مدد دے سکتی ہے ۔

بلاول زرداری بھٹو کی دماغی لکیر اور مریخ مثبت پر کچھ ایسی علامات کا شائبہ ہے کہ وہ بسا اوقات یکایک غصہ میں آجاتے ہیں ۔ مجموعی طور پر ان کا ہاتھ خوبصورت شخصیت کی عکاسی کرتا ہے لیکن وہ روایتی سیاست کے داو پیچ کو پسند نہیں کرتے ۔(واللہ اعلم الصواب)nizamdaola@gmail.com

مزید : لائف سٹائل /مخفی علوم