”اگلا وزیراعظم کون ہو گا؟ “معروف اینکر پرسن نے ایسی خبر دے دی کہ شہباز شریف کے ساتھ ساتھ عمران خان کے بھی ہوش اڑ جائیں گے

”اگلا وزیراعظم کون ہو گا؟ “معروف اینکر پرسن نے ایسی خبر دے دی کہ شہباز شریف ...
”اگلا وزیراعظم کون ہو گا؟ “معروف اینکر پرسن نے ایسی خبر دے دی کہ شہباز شریف کے ساتھ ساتھ عمران خان کے بھی ہوش اڑ جائیں گے

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان میں عام انتخابات رواں ماہ 25جولائی کو ہونے جا رہے ہیں ،ایسے میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور اپنی جماعتوں سے ناراض رہنما بھر پور سیاسی مہم چلا رہے ہیں ،عمران خان کو سادہ اکثریت ملنے کی امید ہے تو شہباز شریف قومی حکومت کا نعرہ لے کر چل پڑے ہیں ،ادھر چوہدری نثار جیپ کے نشان سے آزاد امید وار کی حیثیت سے بھر پور حصہ لے رہے ہیں ،سابق وزیراعظم نواز شریف نے لندن میں سوال اٹھا یا کہ یہ جیپ کا نشان کس کا ہے ؟،بہت سے امید واروں نے جیپ کے انتخابات پر الیکشن لڑنے کی تیاری پکڑ لی ہے ۔موجودہ سیاسی صورتحال میں تمام پاکستانیوں کی زبان پر ایک ہی سوال ہے کہ ا گلا وزیراعظم کون ہے ؟معروف اینکر پرسن ڈاکٹر دانش نے اپنے ذرائع سے اگلے ممکنہ وزیر اعظم کی خبر دے دی ہے ۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ڈاکٹر دانش نے اہم ترین ذرائع کے مطابق خبر دی کہ اگلا وزیراعظم چوہدری نثار ہو سکتے ہیں شاہ محمود سمیت ساوتھ پنجاب کے کئی ایم این نے انہیں سپورٹ کر سکتے ہیں ۔اس کے بعد انہوں نے کہا کہ میری ٹوئٹ غلاموں کے لیے نہیں باشعور لوگوں کے لیے ہوتی ہے ،ذرائع کا مطلب ہر گز رائے نہیں خبر ہوتی ہے ،انہوں نے ایک خبر بھی شیئر کی جس کے مطابق 100سے زائد امید واروں نے جیپ کا انتخابی نشان مانگ لیا ہے ۔

اینکر پرسن کے ان ٹوئٹس پر تحریک انصاف کے کارکنوں نے ان پر تنقید کی تو ان کا کہنا تھا کہ اہم ترین ذرائع کا مطلب کسی کی خبر ہوتی ہے خبر دینے اور لکھنے میں اینکر کی رائے شامل ہونا ضروری نہیں ،شائد اس سے کچھ لوگوں کی جہالت کم ہوئی ہو،معافی کے ساتھ وہ دنیا کا جاہل ترین شخص ہوتا ہے جو صرف اچھی اور اپنے مطلب کی خبر کو عقلمندی اور درست خبر سمجھے اور تالیاں بجائے ۔

ان کا کہنا تھا کہ جس خبر کو سن کر خان کہے میرے پاس بھی یہ ہی خبر ہے اور دوسروں کو بتا ئے اسکے پیروکار اس بات پر گالیاں دیں ،اگر میں بتا دوں کہ اہم ترین ذرائع خود خان ہے تو آپ کیا کریں گے ؟ڈوب مرینگے ؟اسی لیے کہتے ہیں جہالت کسی پارٹی کی میراث نہیں ہوتی ۔

مزید : اہم خبریں /قومی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...