”مگر کوئی عناں گیر بھی تھا“

”مگر کوئی عناں گیر بھی تھا“
”مگر کوئی عناں گیر بھی تھا“

  

مرزا غالب کے ایک شعر کا مصرع ثانی ہے کہ ”آپ آتے تھے ، مگر کوئی عناں گیر بھی تھا“،ن لیگ میں فارورڈ بلاک بننے کی خبریں تو تحریک انصاف کی حکومت کے معرض وجود میں آنے کے چند دنوں بعد سے ہی شروع ہوگئیں تھیں ، کچھ ماہ قبل توایک محترم وفاقی وزیر جو اپنے بلند وبانگ دعوﺅں کے سبب کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں ببانگ دہل اعلان کیا تھا کہ پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی میں ن لیگ کے دو فارورڈ بلاک بننے جارہے ہیں۔بعدازاں وزیر موصوف کی یہ خبردرست تو ثابت نہ ہوسکی لیکن اس کی بازگشت اقتدار کے ایوانوں سے اکثر سنائی دیتی رہی ہے لیکن اب سابق لیگی رہنما یونس انصاری کی سربراہی میں ن لیگ کے 20 ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے وفد کی بنی گالا میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی خبر نے ثابت کردیاہے کہ پانی پلوں کے نیچے سے بہتا جارہاہے اور اب کہ شائد یہ روکے سے بھی نہ رکنے پائے۔ن لیگ کی جانب سے اس خبر کی پر زور تردید کی گئی ہے لیکن یونس انصاری نے میڈیا پر آکر جس طر ح وزیر اعظم سے ملاقات کی پرزورانداز میں تصدیق کی ہے اس سے ن لیگ کا موقف بہرحال کمزور ہوتا نظر آتاہے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل نے مزید ایک قدم آگے بڑھ کر پنجاب اسمبلی میں 46ن لیگی ارکان کے منحرف ہونے کی اطلاع دیدی ہے ، اگر شہباز گل کی یہ بات درست ہے تو پھر اندازہ کرلینا چاہئے کہ ملکی سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھنے کی تیاریاں کررہاہے ، سیاست کے پرندوں کو اندازہ ہوچکاہے کہ ن لیگ کے تلوں میں اب تیل نہیں رہا لہذٰامزید انتظار اب وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہے ۔اس لئے ضروری ہے کہ نئے آشیاں کی تلاش کی جائے ، وہ یہ بات بخوبی سمجھ چکے ہیں قیادت کی جانب سے بجٹ کے بعد مہنگائی کے باعث عوام کے سڑکوں پر نکلنے کے دعوے محض صحرا میں سراب ہی ثابت ہوئے ، حکومت نے ناصرف قومی و صوبائی اسمبلیوں میں بجٹ بہت آسانی سے پاس کروالئے بلکہ اپوزیشن کو آنکھیں بھی دکھائیں اور ہمارے پنجاب کے خمیر میں یہ بات شامل ہے کہ ہم آنکھیں دکھانے والوں سے بہت متاثر ہوتے ہیں، میاں نواز شریف اورشہباز شریف جوجاتی امراءمیں ٹینٹ لگوا کر ارکان اسمبلی کو گھنٹوں انتظار کروایا کرتے تھے ۔اس میں حکمت بھی شائد یہی تھی اور ان کا یہی رعب و دبدبہ تھا کہ ن لیگ کے تجربہ کار ارکان تحریک انصاف کی حکومت کے ایک سال ہونے کو آیامگر ن لیگ کی خشک ٹہنی پر بیٹھے اس کے سرسبز ہونے کے کسی معجزے کا انتظار کرتے رہے لیکن اب اپوزیشن رہنماﺅں کے تمام تردعوﺅں کے باوجود بجٹ کے پاس ہونے ، مہنگائی کے باوجود عوام کے سڑکوں پر نہ نکلنے اور تو اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب ایک تقریب سے خطاب کے دوران حکومت کے مشکل فیصلوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کرنے کے بعدبخوبی سمجھ چکے ہیں کہ ”ان ٹنڈ منڈ پیڑوں میں چھاﺅں کی کیاتلاش؟“اور کوئی ایسا عناں گیر بھی نہیں رہا جوسد راہ بن سکے ، اس لئے اب برگ لائے چمنستاں کی طرف مراجعت شروع کردی گئی ہے ، اگرچہ اس پر بار ابھی نہیں آیا۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -