حزب اختلاف کا احتجاج بدستور، ہنگامہ کام نہ آیا، پنجاب کے سالانہ اور ضمنی بجٹ کثرت رائے سے منظور

حزب اختلاف کا احتجاج بدستور، ہنگامہ کام نہ آیا، پنجاب کے سالانہ اور ضمنی بجٹ ...

  

لاہور سے چودھری خادم حسین

بجٹ اور منی بجٹ، ضمنی بجٹ یہ آج کا مسئلہ یا تنازعہ نہیں، یہ سب سابقہ ادوار سے چلا آ رہا ہے۔ضمنی بجٹ تو مجبوری بنا لیا گیا کہ جب سالانہ بجٹ منظور ہو جاتا ہے تو اصولاً اخراجات اسی کے مطابق ہونا چاہئیں لیکن ایسا ہوتا نہیں، حکومتی وزراء خصوصاً وزیراعلیٰ کو بجٹ میں مختص رقوم کے علاوہ بھی اخراجات کی اجازت دینا پڑتی ہے۔ سابقہ ادوار میں یہ تنازعہ صوابدیدی اخراجات پر پیدا ہو جاتا تھا کہ سربراہ حکومت کے لئے صوابدیدی اخراجات مختص ہونے کے باوجود زیادہ خرچ ہوتے تھے۔ ہر حکومت یہ کرتی اور ہر اپوزیشن اعتراض کرتی اور وعدہ کیا جاتا ہے کہ ضمنی اخراجات روکے جائیں گے، لیکن یہ ہو نہیں پاتا اس بار بھی یہی صورت حال تھی اور سالانہ میزانیہ کے ساتھ ضمنی میزانیہ بھی پیش کیاگیا۔ یہ رواں مالی سال (30جون تک) کے دوران سالانہ بجٹ سے ماوراء خرچ ہونے والے اخراجات ہوتے ہیں، چنانچہ حالیہ بجٹ سیشن میں بھی یہ دونوں بجٹ الگ الگ پیش ہوئے۔ اجلاس سپیکر چودھری پرویز الٰہی کی صدارت میں فلیٹیز ہوٹل میں ہوا، کورونا کے باوجود گہماگہمی رہی، حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان بجٹ میں مختص اخراجات پر بھی بات ہوئی، تاہم زیادہ زور آپس کی محاذ آرائی پر ہی رہا، حزب اختلاف بائیکاٹ بھی کرتی رہی، ایوان میں شور اور ہنگامہ بھی کیا گیا لیکن بجٹ منظور ہونا تھے ہو ہی گئے اور صوبائی وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے مبارک بادیں بھی وصول کرلیں کہ ان کے وزیر اطلاعات نے اپنے ذمہ جو فرائض لئے ان کے مطابق وہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی تعریفوں کے بعد بچنے والا وقت اپوزیشن کی ایسی تیسی کرنے میں گزارتے ہیں، چودھری پرویز الٰہی نے اپنے اختیارات (قانونی) استعمال کرتے ہوئے صوبائی قائد حزب اختلاف حمزہ شہبازشریف کے پروڈکشن آرڈری جاری کئے اور ان کو بجٹ اجلاس میں شرکت کا پورا موقع مہیا کیا۔

صوبائی دارالحکومت میں اس ماہ (رواں سال) کے آخری دو تین روز پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ پر احتجاج کے تھے کہ عوام کو یکایک 25روپے کے اضافے نے پریشان کر دیا تھا، عوام کو یہ بھی اعتراض ہے کہ حکومت نے یہ جو اضافہ کیا وہ 30جون کی شب (12بجے) سے نہیں کیا بلکہ فیصلہ کیا اور اسے نافذ بھی کر دیا اس سے پہلے صارف پورا مہینہ پریشان رہے اور مجموعی طور پر اکثر ٹرانسپورٹ بند رہی یا پھربلیک میں تیل خرید کر چلائی گئی تھی لوگوں کو یکم جون سے ہونے والی کمی کا فائدہ نہیں ملا تھا، اب قیمت بڑھی تو لوگوں نے احتجاج بھی کیا ہے، صارفین بھی اب سیانے ہیں کہ وہ جانتے ہیں۔وفاقی حکومت نے اپنی آمدنی میں اضافے کے لئے لیوی میں اضافہ کیا اور پٹرول پر 30روپے فی لیٹر لیوی وصول کی جا رہی ہے۔ جو سب براہ راست وفاقی خزانے میں جائے گی۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی مزید بڑھی، حتیٰ کہ ٹرانسپورٹر حضرات نے کرائے مزید بڑھا دیئے حالانکہ دیکھا جائے تو پٹرولیم کے سابقہ نرخوں کے مطابق جو ریلیف دی گئی وہ واپس لی گئی تھی اور اس دوران کرائے کم نہیں کئے گئے تھے اور یوں اب مزید اضافے کا کوئی جواز نہیں ہے، تاہم ایسا ہو گا اور حکومت کو عوامی احتجاج کی کوئی فکر نہیں ہوئی۔

حکومت کی طرف سے آٹے، چینی کی تحقیق کے لئے بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ شائع کرنے کا عوام کو براہ راست کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مہنگائی میں کوئی کمی نہیں ہوئی بلکہ چینی کے نرخوں میں مزید دو روپے فی کلو اضافہ ہو گیا ہے۔ آٹا بدستور مہنگا بک رہا ہے، جس کی وجہ سے روٹی اور نان بھی مہنگے ہو گئے ہیں، عوام پر بوجھ میں اضافہ ہوا، اس لئے وہ احتجاج بھی کر رہے ہیں۔ اس صورت حال سے برسراقتدار جماعت کی شہرت متاثر ہوئی ہے۔ اس اثناء میں کورونا وائرس نے عوام کو الگ پریشانی دی ہے کہ ابھی تک اس وبا میں نہ تو کمی آئی اور نہ ہی اس کے ختم ہونے کے کوئی امکانات ہیں، حکومت کی طرف سے حفاظتی اقدامات پر زور دیا جا رہا اور ”سمارٹ لاک ڈاؤن“ کا سلسلہ جاری ہے، یہ طریقہ اپنی نوعیت کا ہے کہ اس کے ذریعے شہر کے ایسے علاقوں میں پابندی لگائی جاتی ہے، جہاں سے کورونا کیسز کی اطلاع ملتی ہے۔ یوں ہر روز شہر کے بیشتر علاقے بند رہتے ہیں، جبکہ دوسرے علاقوں میں بھی کاروبار نہیں ہوپاتا، اب تو لوگ مجبوری کے تحت ہی گھروں سے نکلتے ہیں، اس کے باوجود بھی بازاروں اور سڑکوں پر بھیڑ ہوتی ہے، ایسے میں سماجی فاصلوں کا دھیان رکھنا ممکن ہی نہیں ہوتا، البتہ ماسک پہننے والوں کی تعداد بتدریج بڑھ رہی ہے، لیکن آبادی کی بہت بڑی اکثریت اس کی پروا نہیں کرتی۔

قومی قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ(ن) کے مرکزی صدر محمد شہبازشریف بھی کورونا کی لپیٹ میں ہیں اور گھر پر ہی قرنطینہ کئے ہوئے ہیں، وہ عدالت عالیہ سے ضمانت پر ہیں اور نیب کی طرف سے گرفتاری سے بچے ہوئے ہیں۔ پیر کو ان کی درخواست ضمانت پھر سنی گئی، اس میں استدعا تھی کہ عبوری ضمانت میں توسیع کی جائے۔ ڈاکٹروں نے مزید دو ہفتے قرنطینہ اور علاج کا مشورہ دیا ہے۔اطلاع یہ ہے کہ عدالت نے سات جولائی تک مزید توسیع کر دی ہے۔

لاہور میں جھکڑ چلنے اور بارش کی وجہ سے عوام کو سخت حبس سے نجات تو ملی لیکن درجہ حرارت میں کچھ زیادہ کمی نہیں ہوئی، البتہ سخت حبس کم ہو گیا اور جان میں جان آئی ہے، محکمہ موسمایت نے مزید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -