وزیراعظم کے رویے میں تبدیلی،ناراض ارکان کو ترقیاتی فنڈز ملیں گے،فریقین میں محاذ آرائی جاری

وزیراعظم کے رویے میں تبدیلی،ناراض ارکان کو ترقیاتی فنڈز ملیں گے،فریقین میں ...

  

گذشتہ ہفتے کے دوران پاک فوج نے کنٹرول لائن پر بھارت کا ایک اور کواڈ کاپٹر مار گرایا اور یوں ایسے جاسوسی طیاروں کی کھیپ میں مزید اضافہ ہوا۔ یہ نواں کواڈ کاپٹر تھا جو کنٹرول لائن پر آزاد کشمیر کی حدود میں 850میٹر تک اندر آ گیا تھا، پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں سے شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے عمل کی شدید مذمت اور بھارتی ہائی کمیشن کے سینئر اہلکار کو بُلا کر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے،بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کو ضم کرنے کے عمل اور کشمیریوں پر مسلسل ظلم کی طرف سے عالمی نگاہیں اور توجہ ہٹانے کے لئے لائن آف کنٹرول پر مسلسل گولہ باری جاری رہتی ہے اور اس لائن کو باقاعدہ جنگ کے میدان میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔بھارت کی طرف سے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ گولہ باری کی جاتی ہے۔لائن آف کنٹرول پر متعین پاک فوج کو جواب دینا ہوتا ہے اور پاک فوج بڑی احتیاط کے ساتھ بھارتی فوج کی چوکیوں کو نشان بناتی ہے کہ اس کنٹرول لائن کے آر پار دونوں اطراف کشمیری بستے ہیں،پاک فوج کو ان شہریوں کی بھی حفاظت کرنا پڑتی ہے۔بھارتی فوج کی طرف سے جاسوسی کے لئے ڈرون(کواڈ کاپٹر) کا استعمال بھی عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور پاک فوج کو مشتعل کرنے کا سبب ہے،پاک فوج معقول جواب دیتی ہے۔

دفتر خارجہ نے کراچی سٹاک ایکسچینج پر دہشت گردانہ حملے پر بھی شدید احتجاج کیا اور کہا کہ اس حملے کے تانے بانے براہِ راست بیرونی مداخلت سے ملتے ہیں۔دفتر خارجہ کی ترجمان کا مطلب یہ ہے کہ کراچی میں ہونے والا ناکام دہشت گردانہ حملہ ”را“ کی معاونت سے ہوا،کراچی سے امن و امان کے ذمہ دار اداروں نے بھی یہی کہا ہے کہ یہ ”را“ کی معاونت ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے کی ذمہ داری بی ایل اے (بلوچستان لبریشن آرمی) نے قبول کی، جس کے اراکین بھارت میں تربیت حاصل کرتے ہیں۔دفتر خارجہ کی ترجمان نے عالمی برادری کو بھارتی ارادوں سے بھی خبردار کیا اور کہا کہ بھارت بوکھلا کر پھر سے فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر چکا ہے،جس کا پہلا اشارہ وہ ہائی الرٹ ہے،جو کراچی دہشت گردی کے فوری بعد جاری کیا گیا۔اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ پاکستان نے نیپال کے راستے ایک درجن تخریب کار بھارت میں داخل کئے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے دُنیا کو لمحہ بہ لمحہ خبردار رکھا اور بتایا گیا کہ بھارت دُنیا کی توجہ کشمیر اور لداخ میں چینی لبریشن آرمی کی طرف سے ہزیمت کی طرف سے ہٹانے کے لئے یہ سب کچھ کر رہا ہے وہ خود اپنے عوام کو بھی بے وقوف بنا تا ہے،عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہئے۔

کنٹرول لائن، مقبوضہ کشمیر میں ظلم اور بھارت کے معاوندانہ اقدامات کے باوجود پاکستان کی قومی سیاست میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور یہاں محاذ آرائی نہ صرف جوں کی توں ہے،بلکہ اس میں اضافہ ہوا ہے۔قومی قیادت کی طرف سے الگ الگ بھارتی عزائم اور کراچی میں دہشت گردی کی مذمت کی گئی،لیکن مشترکہ قومی موقف سامنے نہیں آیا،حالانکہ قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں ہنگامی طور پر متفقہ قرارداد بھی منظور کی جا سکتی تھی۔بہرحال یہ سب اپنی جگہ حکمران جماعت اپنے اتحادیوں کی بڑی تعداد کو پھر سے منانے میں کامیاب رہی اور قومی اسمبلی سے سالانہ بجٹ سہولت سے منظور کرا لیا۔اگرچہ اس کے لئے سپیکر اسد قیصر کی کوشش سے ان کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں پہلے ہی یہ فیصلہ ہو چکا ہوا تھا اور اسی کے تحت بجٹ منظور ہوا،تناسب160اور119 کا رہا، بقول اسد عمر عمران خان کی حمایت میں اضافہ ہو گیا۔وزیراعظم عمران خان کو اختر مینگل کے احتجاج اور خود اپنی جماعت کے اراکین اسمبلی کی طرف سے ناراضی کے اظہار پر خود ان کو منانے کے عمل میں شامل ہونا پڑا۔ سپیکر اسد قیصر اور خود وزیراعظم کے نرم رویے کے باعث یہ ممکن ہوا کہ بجٹ کی منظوری والے دن سے ایک روز قبل عشائیہ دیا گیا اور اراکین کو مدعو کیا گیا،اس سے قبل وزیراعظم نے اراکین اسمبلی سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں اور ان کی شکایات کے ازالے کا یقین دلایا،وزیراعظم نے راجہ ریاض سمیت دیگر اراکین کو بھی ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کا وعدہ کر لیا۔

قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں منظوری کا عمل توقع کے مطابق رہا، تاہم ایوان میں محاذ آرائی والا سلسلہ بھی جاری رکھا گیا۔پیپلزپارٹی کے بلاول بھٹو زرداری، مسلم لیگ(ن) کے خواجہ آصف اور احسن اقبال نے سخت تنقیدی تقاریر کیں،ان کے جواب میں سرکاری اراکین نے بھی ایسا ہی جارحانہ رویہ اختیار کیا،خواجہ آصف اور فواد حسین چودھری کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا،خواجہ آصف نے طنزیہ کہا کہ انہوں نے فواد حسین چودھری کے حوالے سے سب کچھ بتایا تو وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں گے۔فواد حسین نے جواباً کہا، اگر میں بتاؤں گا تو خواجہ آصف سیالکوٹ میں شکل نہیں دکھائیں گے تاہم انہوں نے سپیکر سے کہا کہ وہ ان کو ان کے چیمبر میں آ کر بتا دیں گے۔بلاول بھٹو زرداری کی سخت تقریر اور وزیراعظم سے استعفیٰ کے مطالبے کا جواب حزبِ اقتدار کی طرف سے مراد سعید تھے،جن کو جواب دینے کے لئے معمول کے مطابق فلور دے دی گئی اور انہوں نے بلاول بھٹو کو مناظرے کا چیلنج دے دیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ ان کے مقابلے میں جہاں سے چاہیں انتخاب لڑ لیں اس کا نتیجہ بھی معمول ہی کے مطابق تھا کہ اپوزیشن نے مراد سعید کو خلافِ معمول بولنے کی اجازت دینے کے خلاف احتجاج کیا اور واک آؤٹ کر گئی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ بجٹ ٹیکس فری ہے تا ہم فنانس بل کی منظوری سے ثابت ہو گیا کہ بالواسطہ ٹیکسوں میں بہت ردوبدل کیا گیا۔اس کی ایک مثال موبائل سم پر250 روپے سیلز ٹیکس اور موبائل کی درآمد پر ٹیکس بڑھانے کی منظوری جیسے عوامل موجود ہیں۔بہرحال قومی اسمبلی میں بجٹ تو منظور ہونا ہی تھا اور ہو گیا،لیکن وزیراعظم اپنے سخت گیر رویے میں تبدیلی کر چکے اور احتجاج کرنے والے اراکین کے مطالبات ماننے پر مجبور ہو گئے ہیں۔یہ سب ان کی حمایت کا مظہر ہے،لیکن درون خانہ بات گندم کی بوری میں سوراخ والی ہے کہ امن ممکن نہیں ہو گا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -