سانحہ تہکال پر عوامی غیض و غضب فطری!

سانحہ تہکال پر عوامی غیض و غضب فطری!

  

جوڈیشل کمیشن واقعات کی تحقیقات کے لئے قائم

خیبرپختونخوا بالخصوص صوبائی دارالحکومت پشاور میں ٹاک آف دی ٹاؤن خبر سانحہ تہکال ہے، جس پر عوامی ردعمل بھی خوب ہوا اور ہونا بھی چاہئے تھا کیونکہ تھانے میں کسی بھی ملزم کی اس انداز میں تحقیر یا تذلیل انسانیت کی توہین ہے۔ ایک طرف تو عامر تہکالی نامی نوجوان پر بہیمانہ و سفاکانہ تشدد اور دوسری جانب اس کی برہنہ ویڈیو شیئر کرنے کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے، پشاور کی سڑکوں اور گلیوں سمیت شہر بھر میں اس قبیح واقعہ پر جس نفرت کا اظہار کیا گیا وہ جہاں عوامی غم و غصے کا اظہار ہے وہاں اسے پولیس کے خلاف نفرت اور مجرمانہ فعل پر شہری ردعمل بھی کہا جا سکتا ہے، اس سانحے کی بازگشت خیبرپختونخوا اسمبلی میں بھی سنی گئی جہاں اپوزیشن سمیت حکومتی ارکان نے بھی اسے زبردست تنقید کا نشانہ بنایا، جس دن سے پولیس گردی کا یہ واقعہ سامنے آیا ہے اسی روز سے بھرپور شہری رد عمل بھی دیکھنے میں آ رہا ہے، کئی سڑکیں تو ایسی ہیں جہاں ہر روز لوگ پولیس کی زیادتی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، سانحے کے تیسرے روز تو صوبائی دارالحکومت میدان جنگ بنا رہا، پولیس اور مظاہرین میں زبردست جھڑپیں ہوئیں، مشتعل شہریوں کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال بھی کیا، شیلنگ کی وجہ سے قرب و جوار کے رہائشی ہزاروں افراد کو سخت پریشانی اٹھانا پڑی، عوامی احتجاج اب تو پر تشدد مظاہروں میں تبدیل ہو رہا ہے، شہر کی کئی سڑکیں میدان کارزار بنی ہوئی ہیں، ان مظاہروں کے دوران پولیس نے درجنوں افراد کو گرفتار بھی کیا، پریس کلب کے باہر بھی شہری سراپا احتجاج ہیں، مختلف علاقوں میں پولیس کی بکتر بند گاڑیاں اور مسلح دستے رات دن گشت کرتے رہتے ہیں۔ اگر چہ سخت عوامی ردعمل کے نتیجے میں پولیس افسر عامر تہکالی پر تشدد کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ کے اندراج پر مجبور ہو گئے لیکن حزب روایت ایف آئی آر کمزور اور لولی لنگڑی تھی ابتدا میں 5 نامزد پولیس والوں کو گرفتار کیا گیا لیکن بعد ازاں تھانہ تہکال کے مزید 11 اہلکاروں کو بھی ایف آئی آر میں نامزد کر دیا گیا، بتایا گیا ہے کہ عامر نامی نوجوان کے ساتھ تہکال اور یکہ توت پولیس سٹیشن کے اہلکاروں کی جانب سے تشدد اور انہیں برہنہ کر کے اس کی ویڈیو بنانے کی تحقیقات کے لئے صوبائی حکومت کی درخواست پر پشاور ہائی کورٹ نے جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا ہے اس سلسلے میں محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ٹربیونل آف انکوائری آرڈیننس 1969ء اور مغربی پاکستان آرڈیننس نمبر ٹو آف 1969ء کے سیکشن 3 کے تحت پشاور میں گزشتہ دنوں پولیس کے بعض افسروں اور اہلکاروں کی جانب سے ایک شخص راضی اللہ عرف عامر ولد اللہ گل کے ساتھ مبینہ تشدد اور غیر انسانی سلوک اور بعد ازاں اس کو برہنہ کر کے اس کی ویڈیو وائرل کرنے کے واقعے کی تحقیقات کے لئے پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس لعل جان خٹک پر مشتمل ایک رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دے دیا ہے جسے واقعہ کی بنیادی وجوہات کی انکوائری، ذمہ دار اہلکاروں کی نشاندہی اور ایسے واقعات کا سبب بننے والی ادارہ جاتی خامیوں کی نشاندہی کے ساتھ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لئے سفارشات مرتب کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ اعلامیہ کے مطابق کمیشن انکوائری کے لئے تاریخ اور جگہ کا تعین کرنے اور انکوائری کے اجراء کے بعد انکوائری کے نتائج سے حکومت کو ترجیحی طور پر 15 دن کے اندر آگاہ کرنے کا مجاز ہوگا۔ انکوائری کمیشن میں ہونے والی کارروائی تعزیرات پاکستان کی دفعات 193 اور 228 کے تحت عدالتی کارروائی تصور کی جائے گی انکوائری کمیشن کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تمام حکومتی اداروں کی معاونت حاصل ہو گی۔ ایس ایس پی انوسٹی گیشن کی جانب سے بھی ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں عامر کی کب اور کس کے کہنے پر گرفتاری ہوئی، ویڈیو کس نے بنائی اور کس نے وائرل کی اور کس افسر کے کہنے پر ایسا کیا گیا اس بارے میں متعلقہ پولیس اہلکاروں کے موبائل فونز ضبط کر کے فرانزک کے لئے بھیج دیئے گئے ہیں جبکہ تحقیقاتی ٹیم کو اصل حقائق سامنے لانے اور نہایت باریک بینی کے ساتھ انوسٹی گیشن کی ہدایت کی گئی ہے آئی جی خیبر پختونخوا کی ہدایت پر پشاور میں تہکال کے رہائشی پر تشدد کے الزام میں معطل ہونے والے دونوں ایس ایچ اوز کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے گرفتار ہونے والے دونوں ایس ایچ اوز کو کورونا کے باعث پولیس ہسپتال میں رکھا گیا ہے۔ ایک اور اہم خبر یہ ہے کہ صوبائی کابینہ میں ایک مرتبہ پھر ردوبدل زیر غور ہے اور اس امر کا غالب امکان ہے کہ مختلف اقدامات کے تحت کابینہ سے الگ کئے جانے والے صوبائی وزراء عاطف خان، شکیل خان اور شہرام خان ترکئی میں سے آخر الذکر کو دوبارہ وزارت دی جا رہی ہے اور انہیں صحت کا قلمدان سونپے جانے کا امکان ہے، دو وزیر اور ایک مشیر سے بھی وزارت واپس لے لی جائے گی اور ان کی جگہ نئے ارکان اسمبلی کابینہ کے رکن بن جائیں گے، یہ تبدیلیاں آئندہ چند روز میں ہی متوقع ہیں اور وزیر اعلیٰ محمود خان اس حوالے سے اپنے کپتان عمران خان اور دیگر اقربا سے مشاورت میں مشغول ہیں، بلدیات اور تعلیم کی وزارتوں کے انچارج صاحبان کے محکمے بھی ردوبدل کے اس سیلاب میں تبدیل کئے جا سکتے ہیں۔ دوحہ معاہدے کے تحت افغان حکومت کی جانب سے طالبان قیدیوں کی جزوی رہائی کے باوجود افغانستان میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا اور وقفے وقفے کے ساتھ امن دشمن کارروائیاں جاری ہیں جس کا ردعمل پاکستان میں بھی دکھائی دے رہا ہے، خیبرپختونخوا تو خدا کے فضل سے تا حال محفوظ ہے تاہم سندھ کے دارلحکومت عروس البلاد کراچی میں پاکستان سٹاک ایکسیچنج پر حملے کے ماسٹر مائینڈ کا تعلق بھی افغانستان سے ہے اور سیکیورٹی فورسز کی طرف سے فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق کالعدم تنظیم کا بشیر زیب نامی کمانڈر دہشتگرد حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے، وہ ہلاک دہشتگرد اسلم اچھو کے بعد کمانڈر بنا تھا،اسلم اچھو چائینز قونصلیٹ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔کالعدم تنظیم نے بھارتی خفیہ ایجنسی‘’را”کی فنڈنگ سے چائنیز قونصلیٹ پر بھی حملہ کیا تھا۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج پر حملے میں‘’را”فنڈنگ کے شواہد بھی ملے ہیں۔ دہشتگرد بشیر زیب آج کل اپنے ساتھی کیساتھ افغانستان کے شہر قندھار میں ہے۔ دوسری جانب عین اسی وقت جب کراچی میں دہشت گردی جاری تھی تو مختلف افغان علاقوں میں بھی وقفے وقفے سے دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے رہے، افغانستان میں طالبان کے مارٹر حملوں اوردیگر کاروائیوں میں 10شہری ہلاک ہو گئے جبکہ طالبان شوٹر کی فائرنگ سے ضلعی پولیس کے سربراہ سمیت2اہلکار بھی شہید ہوئے اس دوران چارعسکریت پسند بھی مارے گئے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -