بلو چستان لبریشن آرمی نے کراچی سٹاک ایکسچینج پر حملے کی ذمہ داری قبول کی

بلو چستان لبریشن آرمی نے کراچی سٹاک ایکسچینج پر حملے کی ذمہ داری قبول کی

  

ڈائری۔ کراچی۔مبشر میر

وفاق اور صوبوں میں آئندہ مالی سال کے بجٹ زیربحث ہیں اور رواں ہفتے کے آغاز میں ہی ملک کے اقتصادی سرگرمیوں کے شہر، کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشتگردوں نے حملہ کردیا۔ گارڈز اور سیکورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں نے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے چاروں دہشت گرد ٹھکانے لگادیئے۔ خودکش انداز میں حملہ آور ہونے والوں کا تعلق بی ا یل اے نامی کالعدم تنظیم سے ہے، جس نے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرلی۔ بلوچستان کی علیحدگی پسند اس تنظیم کو حکومت پاکستان نے دہشتگردی ایکٹ 2000 کے تحت 17جولائی 2006 کو دہشتگرد تنظیم قرار دیا تھا، لیکن اس سے وابستہ افراد اب تک بلوچستان اورکراچی سمیت 17حملے کرچکے ہیں، اس سے پہلے انہوں نے چائنا قونصلیٹ کراچی پر بھی حملہ کیا تھا۔ 2013 میں قائد اعظم ریزیڈنسی زیارت پر حملے کی ذمہ داری بھی بی ایل اے نے قبول کی تھی۔ کالعدم بی ایل اے نے اپنے قیام کے بعد پہلا حملہ 14اکتوبر 2005کو کوہلو میں سیکورٹی فورسز پر کیا تھا۔ اس وقت صدر جنرل پرویز مشرف کوہلو،بلوچستان کا دورہ کررہے تھے۔

تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو بلوچستان میں بدامنی سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شروع ہوئی۔ یہ 1973-77 کا دور تھا، 10فروری 1973 میں اسلام آباد میں عراقی سفارتخانے پر سرچ آپریشن کیا گیا تو بہت سا اسلحہ برآمد ہوا تھا، تحقیقات سے اندازہ ہوا کہ مسروقہ اسلحہ بلوچ نوجوانوں میں ریاست کے خلاف لڑنے کیلئے استعمال ہونا تھا، اس وقت پاکستان نے عراقی سفیر حکمت سلیمان کو اسٹاف کے ہمراہ ناپسندیدہ قرار دے کر ملک بدر کردیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے امریکی صدر نکسن کو ایک خط کے ذریعے اطلاع بھی دی تھی کہ ان واقعات میں بھارت اور افغانستان ملوث ہیں۔

تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد کے جی پی کے دو اہلکاروں نے بلوچستان اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ممبران سے چند لوگوں کا انتخاب کرکے بلوچستان لبریشن کیلئے کام کرنے کیلئے ٹریننگ دی، جس سے باقاعدہ بلوچستان لبریشن آرمی کی بنیاد پڑی۔

اس تنظیم کا ہیڈ کوارٹر، قندھار افغانستان میں بتایا جاتا ہے، جس کے سربراہ نواب خیربخش مری تھے جو 86برس کی عمر میں 2014 کو وفات پاگئے۔ ان کے چھ بیٹے ہیں جن میں بالاج مری، افغانستان میں 2007کو جاں بحق ہوئے، ایک بیٹا غازان مری، 18سالہ جلاوطنی کے بعد 2017میں کوئٹہ ایئرپورٹ پر دبئی سے آتے ہوئے گرفتار ہوا۔ ان کا ایک بیٹا ہربیار مری لندن میں پناہ لیے ہوئے ہے، 2015 میں اپنے ایک انٹرویو میں اس نے اس تنظیم سے لاتعلقی کا اعلان بھی کیا تھا، اگرچہ برطانیہ نے بھی بی ایل اے کو یورپین یونین اور یوایس اے کی طرح گلوبل دہشتگرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے، لیکن ہربیار مری کو پناہ بھی دے رکھی ہے۔ 2جولائی 2019 سے بی ایل اے کو عالمی دہشتگرد تنظیم قرار دیا گیا تھا۔

کسی مسلم ملک نے ابھی تک اس حوالے سے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا، پاکستان نے او آئی سی کے پلیٹ فارم پر بھی اس مسئلے کو نہیں اٹھایا۔ ایک عام اندازے کے مطابق مختلف حملوں میں موجودہ تنظیم سے وابستہ افراد بلوچستان میں غیربلوچ بشمول پشتون، پنجابی اور سندھی کئی سو افراد کو قتل کرچکے ہیں۔

کراچی میں اسٹاک ایکسچینج پر حملہ، بھارت چین لداخ تنازع اور پاک چین اقتصادی راہداری میں پیشرفت کے تناظر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ سی پیک کا دوسرا فیز شروع ہوچکا ہے۔ منصوبوں کا آغاز ہورہا ہے، اس تنظیم کو افغانستان میں بھارت کی پراکسی تصور کیا جاتا ہے۔بھارتی اخبار ”دی ہندو“ کے مطابق اس سے وابستہ لوگ نئی دلی میں متقیم رہے ہیں، جن میں اسلم بلوچ اچھو بھی شامل ہے، جو قندھار میں ایک حملے میں مارا گیا تھا۔ بھارت، قندھار اور جلال آباد قونصلیٹ سے ان کی مدد کرتا رہا ہے۔

شہر کراچی جو کئی دنوں سے ہیٹ ویو کا سامنا کررہا تھا، اس کے ساتھ ساتھ بجلی کے بحران نے شہریوں کیلئے زندگی جہنم بنادی، کئی علاقوں میں گھنٹوں کے حساب سے بجلی کی آنکھ مچولی دیکھی گئی، لوگوں کو بجلی کے بل جون 2020 سے بہت زیادہ موصول ہورہے ہیں، جس سے شہری سراپا احتجاج ہیں۔ پانی کی کمی، کورونا و باء کا پھیلا ¶ اور پھر بجلی کا بحران، بیروزگار شہریوں کیلئے کسی عذاب سے کم نہیں۔ اس دوران سیاستدان ایک دوسرے کو محض الزام تراشیوں کے ساتھ ہی اورمسائل کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہراتے ہوئے وقت گذار رہے ہیں۔ اگر چہ لاک ڈا ¶ن کی سختیاں ختم ہوگئی ہیں، لیکن شہر میں کاروبار کرنا بہت دشوار ہوگیا ہے۔ دکانداروں اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ پولیس سے تعاون کیے بغیر کام کرنا ممکن نہیں ہے ا ور یہ ایک اضافی بوجھ ہے۔

پیٹرول کی قیمتوں میں یک لخت ایک بڑا اضافہ کرکے حکومت نے اپنے مقبولیت کے گراف کو مزید منفی کرلیا ہے۔ عوام کا غم و غصہ یہ تھا کہ پیٹرولیم مافیا نے پیٹرولیم کی قلت پیدا کردی تھی، لیکن قیمت میں اضافہ کے بعد تمام پیٹرول پمپس پر تمام مصنوعات کی فروخت شروع ہوگئی ہے۔

عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ملک میں اینٹلی جنس کے ادارے اور اعلیٰ عدلیہ اگر اتنی فعال اور مضبوط ہے تو پھر مافیا اس قدر طاقتور کیسے ہوگیا، یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ کئی اعلیٰ افسران اور اراکین اسمبلی بظاہر اور درپردہ پیٹرول پمپس کے مالکان ہیں، حکومت کا اس مافیا کے آگے جھک جانا عوام کیلئے مایوسی کا باعث بن گیا ہے۔

جعلی ڈگریوں کا شور پی آئی اے کے حوالے سے سننے میں آیا، کئی پائلٹس کو نوکریوں سے نکالا جائے گا، مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر مشاہد ا? خان کے بیان کو بہت مضحکہ خیز قرار دیا جارہا ہے کہ جعلی ڈگریوں کے حامل افراد کو جہاز اڑانے کی اجازت ہونی چاہیے وہ اپنی سیاست کے چکر میں غیر منطقی بیان دینے سے بھی گریز نہیں کررہے، مشاہد ا? خان سینیٹ کی ایوی ایشن کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں، راقم نے پی آئی اے طیارہ حادثہ کے موقع پر مطالبہ کیا تھا کہ موصوف کو اپنی کمیٹی میں اس حادثے کو زیربحث لانا چاہیے لیکن ایسا کرنے کی بجائے وہ جعلسازی کو سپورٹ کرتے نظر آئے۔ اس وقت بھی قومی اسمبلی میں ایسے اراکین بیٹھے ہیں جن کی ڈگریوں کو مشکوک قرار دیا گیا تھا، اگر اس پر ایکشن لیا جائے تو پھر ان اراکین کی کیا عزت رہ جائے گی۔

کراچی کی معروف سیاسی شخصیت اور دانشور، سابق امیر جماعت اسلامی سید منور حسن بھی خالق حقیقی سے جاملے، آپ نے نوجوانوں میں خود کو سوشلسٹ تحریک سے وابستہ کیا اور پھر جماعت اسلامی سے زندگی کی آخری سانسوں تک منسلک رہے، کئی اہم ذمہ داریاں نبھائیں، ان کو ملک کے نامور سیاسی دانشور کی حیثیت سے بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان سے پہلے علامہ طالب جوہری اور مفتی محمد نعیم بھی خالق حقیقی سے جاملے۔ گویا شہر کراچی کو پے در پے صدمات دیکھنے پڑے ہیں۔

وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کا ایک بیان سامنے آیا کہ تینوں اہم شخصیات کورونا وائرس کا شکار ہوئیں۔ اور اسی سے وہ جانبر نہ ہوسکے۔ ا? تعالیٰ ان بزرگ شخصیات کو جوار رحمت عطا کرے اور ان کی خدمات کو نوجوان نسل کیلئے مشعل راہ بنائے۔

کراچی میونسپل کارپوریشن نے بھی بجٹ اجلاس شروع کردیا ہے، لیکن حیرت ہے کہ 309 اراکین کے ایوان میں سے کسی کا کورونا ٹیسٹ نہیں کروایا گیا، میئر کراچی نے فنڈز کی کمی کو اس کی وجہ قرار دیا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -