سٹاک ایکسچینج میں دہشت گردی کی ناکام واردات

سٹاک ایکسچینج میں دہشت گردی کی ناکام واردات

  

کراچی میں پاکستان سٹاک ایکسچینج کی عمارت پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا،چاروں دہشت گرد مارے گئے،جنہوں نے پیر کی صبح دس بج کر دو منٹ پر بلڈنگ میں داخل ہونے کے لئے مرکزی دروازے پر دستی بم پھینکنے شروع کر دیئے، جس کا پولیس اور سیکیورٹی گارڈز نے انتہائی مستعدی سے جواب دیا، تین سیکیورٹی گارڈوں اور ایک پولیس اہلکار نے اپنی جان فرض کی ادائیگی پر نچھاور کر دی،دہشت گرد حملے کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی نے قبول کی ہے،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اسے مُلک اور قومی معیشت پر حملہ قرار دیا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو آہنی ہاتھوں سے کچل دیا جائے گا، ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل عمر بخاری اور ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے رینجرز ہیڈکوارٹرز میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ رینجرز، پولیس اور پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈ پر مشتمل سیکیورٹی ونگ نے یہ کارنامہ انجام دیا اور8 منٹ کی کارروائی میں دہشت گرد مارے گئے، رینجرز کی انٹی ٹیررسٹ فورس اور پولیس کی رپیڈ رسپانس فورس دونوں اندر داخل ہوئیں اور اگلے25منٹ میں عمارت کو کلیئر کر دیا۔ ڈی جی رینجرز کا کہنا تھا کہ دہشت گرد اِس ارادے کے ساتھ آئے تھے کہ اندر جا کر لوگوں کو ماریں گے اور یرغمال بنا لیں گے،لیکن وہ اپنے اِس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے،حالیہ دِنوں میں رینجرز پر ہونے والے حملوں اور سٹاک ایکسچینج پر ہونے والے حملے میں ہمسایہ مُلک کی خفیہ ایجنسی ”را“ ملوث ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں اور اُن کی پشت پناہی کرنے والے اب مایوسی کا شکار ہیں۔

تفتیشی حکام کا خیال ہے کہ دہشت گردوں کو مقامی طور پر لاجسٹک سپورٹ ملی،اُن کے پاس سے اسلحہ اور کھانا ملا جس میں نیٹو سپلائی کی چالیس رشین رائفل، دستی بم،گولیاں، شولڈر بیگ اور چنے کے بیگ شامل تھے۔ بلوچستان کی کالعدم تنظیم بی ایل اے نے شہر میں دوسری بار دہشت گردی کی بڑی کارروائی کی کوشش کی، اس سے قبل چینی قونصل خانے پر بھی حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی تھی۔ دہشت گرد کب اور کہاں سے آئے یہ فی الحال حتمی طور نہیں کہا جا سکتا،اگرچہ دہشت گردی کی یہ واردات ناکام ہو گئی تاہم یہ سوال چھوڑ گئی کہ اب بھی دہشت گرد مُلک کے مختلف حصوں میں سرگرمِ عمل ہیں اور انہیں مقامی مدد بھی حاصل ہے۔”را“ کے ساتھ بھی اس کا گٹھ جوڑ بظاہر نظر آتا ہے، کیونکہ فارن فنڈڈ تنظیموں کے دہشت گرد عموماً ایسے ہی طریقوں سے کارروائیاں کرتے ہیں، ماضی میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کا باریک بینی سے جائزہ لے کر ہی کوئی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔دفتر خارجہ نے بھی اس حملے میں ”را“ کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ سلیپر سیلز متحرک ہو رہے ہیں اگر ایسا ہے تو پھر ہر قسم کے ثبوت جمع کر کے اس معاملے کو جلد از جلد عالمی اداروں میں لے جانے کی کوشش کرنی چاہئے اور بھارت کا چہرہ بے نقاب کرنا چاہئے۔ بھارت کشمیر میں حریت پسندوں کی جدوجہد کو دہشت گردی سے جوڑنے میں کبھی نہیں ہچکچاتا اور کشمیر میں کوئی بھی واقعہ ہو جائے وہ اس میں پاکستان کو گھسیٹ لیتا ہے۔ بھارت اگر ثبوت کے بغیر پاکستان پر الزام تراشی سے باز نہیں آ رہا تو جس دہشت گردی میں اُس کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی موجود ہوں اسے موخر نہیں ہونا چاہئے۔

سٹاک ایکسچینج کی عمارت پر حملے کی دھمکیاں اگر پہلے سے بھی مل رہی تھیں اور انہی کی روشنی میں پولیس اور سیکیورٹی اہلکار الرٹ تھے تو بھی مستعدی کے ساتھ جوابی کارروائی کرنا واقعی شاندار کارنامہ ہے،دہشت گرد جدید ترین ہتھیاروں سے مسلح تھے،پولیس کے اہلکار اور سیکیورٹی گارڈ عام طور پر روایتی ہتھیار ہی رکھتے ہیں اِس لئے جدید ہتھیاروں والے دہشت گردوں کا مقابلہ کر کے یہ ثابت کر دیا گیا ہے کہ ہمارے جوان ذہنی طور پر چاک و چوبند تھے، اچانک دستی بموں کے حملے اور فائرنگ سے وہ ہراساں نہیں ہوئے اور جان کی پروا کئے بغیر لمحوں میں کامیاب جوابی کارروائی کر کے سرخرو ہوئے،شہدا کی اس قربانی کا فراخ دلی سے اعتراف ہونا چاہئے اور ان کے پس ماندگان کی بہتر نگہداشت اور ان کے بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ایسی منصوبہ بندی کرنی چاہئے کہ پس ماندگان اپنے آپ کو بے یارو مددگار اور تنہا محسوس نہ کریں،انسانی زندگیوں کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا،لیکن جن خاندانوں کو زخم لگے ہیں اُن کا اندمال تو ضروری ہے۔یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ جنہوں نے اس حملے کی منصوبہ بندی کی۔ یہ ان کی دہشت گردی کے ترکش کا کوئی آخری تیر نہیں تھا اور نہ ہی وہ اس ناکامی کے بعد خاموش ہو کر بیٹھ رہیں گے وہ اپنی سازشیں اور منصوبہ بندیاں جاری ر کھیں گے اور نہیں کہا جا سکتا کہ اُن کی اگلی واردات کس شہر اور کس صوبے میں ہو گی، اِس لئے پورے مُلک میں زیادہ بہتر چوکسی کی ضرورت ہے،عام طور پر دہشت گرد ایسی کسی واردات کی ناکامی کے بعد کوئی کمزور گوشہ تلاش کرتے ہیں،جہاں اُن کے لئے دوبارہ واردات کرنا آسان ہو،دہشت گردوں کا نیٹ ورک اور دہشت گردی کی زنجیر کسی ایک واردات کی کامیابی یا ناکامی سے جڑی ہوئی نہیں ہوتی،ان تنظیموں کے طریق ِ واردات کو سمجھنے والوں کو بخوبی معلوم ہے کہ وہ اپنی ہر کامیابی اور ہر ناکامی کے بعد ازسر نو حملہ آور ہوتے ہیں،جیسے کراچی میں چینی قونصل خانے پر ناکام حملے کے بعد اب سٹاک ایکسچینج کا ٹارگٹ چُنا گیا اگر پہلے حملے کا مطلب پاک چین دوستی کی مضبوط کڑیوں کو توڑنا اور سی پیک پر وار کرنا تھا تو اس تازہ حملے کا مقصد معیشت کو براہِ راست نشانہ بنانا تھا، جو ناکام ہو گیا لیکن آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اُن کا پیچھا کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ وہ مایوسی کے عالم میں کسی اگلی کارروائی میں اپنے ہدف تک پہنچ کر زیادہ نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔

دہشت گردوں نے واردات سے قبل بازار سے نئی لگژری گاڑی خریدی اور اسے حملے میں استعمال کیا، جس کا مقصد بظاہر یہی لگتا ہے کہ اُنہیں کار پارکنگ تک پہنچنے میں آسانی رہے،نئی چمکتی گاڑی دیکھنے والوں پر رعب ڈالنے کا بھی ایک نفسیاتی حربہ ہے،گاڑی کھڑی کرنے کے بعد دہشت گردوں نے کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر دستی بموں اور فائرنگ کے حملے بیک وقت شروع کر دیئے تھے، ایک دہشت گرد جب دستی بم پھینکنے لگا تو پولیس اہلکار نے تاک کر اس کے ہاتھ کا نشانہ بنایا اور وہ بم پھینکنے سے پہلے ہی ڈھیر ہو گیا،ڈراپ سین میں چند منٹ ہی لگے۔ منصوبہ بندی میں تو کوئی خلا نہیں تھا، مرکزی دروازے سے داخل ہونے کی کوشش اگر کامیاب ہو جاتی اور سٹاک ایکسچینج کے اندر کاروبار میں مصروف لوگوں کو اچانک بے بس کر دیا جاتا تو ایک بڑا المیہ وجود میں آ سکتا تھا، پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بروقت کارروائی نے جس کا موقع نہ دیا۔اب ضرورت ہے کہ دہشت گردوں کے مقامی ہمدرد اور سہولت کار تلاش کئے جائیں،جن کا اپنا نیٹ ورک بھی بہت وسیع ہے اور دہشت گردی کے لئے جنہیں غیر ملکی فنڈز بھی ملتے ہیں،ہدایات بھی اور اسلحہ بھی۔ سہولت کاروں کا یہ نیٹ ورک توڑنا اِس لئے ضروری ہے کہ کوئی بڑی یا چھوٹی واردات ان کی معاونت کے بغیر نہ تو شروع کی جا سکتی ہے اور نہ ہی پایہ تکمیل تک پہنچائی جا سکتی ہے۔

وسیع تر کینویس پر اس کارروائی کا مقصد دُنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش ہے کہ بلوچستان میں انتہا پسند عناصر طاقت پکڑ رہے ہیں، کالعدم تنظیم بی ایل اے نے اس کارروائی کو اپنے کھاتے میں ڈالنے کا جو اعلان کیا ہے اس کا مقصد بھی اپنی سرپرست تنظیم ”را“ کو یہ یقین دلانا ہے کہ وہ اس کے مقاصد کے لئے سرگرم عمل ہے، بلوچستان اور سندھ میں مسلح دہشت گرد کارروائیاں ”را“ کا پرانا منصوبہ ہے اور جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس کا واضح ثبوت ہے،جس نے تسلیم کیا تھا کہ اس نے اپنی دہشت گرد کارروائیوں کا دائرہ ان دونوں صوبوں میں وسیع پیمانے پر پھیلا رکھا تھا اور اپنے بہت سے مقامی آلہ کاروں کو مختلف اہداف دے رکھے تھے،اب ضرورت ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے مقامی سہولت کاروں کے خلاف کسی تاخیر کے بغیر سخت کارروائی کی جائے اور جو لوگ پہلے سے گرفتار ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائیاں مکمل کی جائیں، کسی قسم کی ڈھیل خطرناک ہو سکتی ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -