مہنگائی اور بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی اطلاع!

مہنگائی اور بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی اطلاع!

  

وفاقی محکمہ شماریات کے مطابق مہنگائی میں اضافے کا رجحان برقرار رہے اور جون کے آخری ہفتے میں مہنگائی کی شرح10.21 رہی،اس کے علاوہ یہ خبر بھی ہے کہ ملک کے یوٹیلٹی سٹورز پر مختلف اشیاء کے نرخوں میں 45روپے تک اضافہ کر دیا گیا،ان اشیاء میں مشروبات، بسکٹ اور نوڈلز وغیرہ شامل ہیں۔ یوں بھی گزشتہ روز(30جون) یوٹیلٹی سٹورز بند تھے۔محکمے کی اطلاع کے مطابق سالانہ جانچ پڑتال کے لئے ایک روز کے لئے بند کئے گئے جو آج(یکم جولائی) سے کھل جائیں گے۔ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو حکومت اربوں رپے کی سبسڈی دیتی ہے کہ عوام کو بازار کی نسبت سستی اشیاء مل سکیں،لیکن ان سٹورز پر قیمتوں میں اضافے کے رجحان کی وجہ سے عوام کی دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے،خود یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں شوگر ملز کی طرف سے70 روپے فی کلو چینی کی فروخت سے فائدہ نہ اٹھایا جا سکا کہ ٹینڈر کے نظام کی وجہ سے بروقت ٹینڈر نہیں ملا، چنانچہ ان سٹوروں پر بھی چینی80روپے فی کلو سے82روپے فی کلو تک بکتی ہے۔ اکثر سٹوروں پر آٹا اور چینی یوں بھی ختم ہو چکے، دوسری طرف آٹے کی مہنگائی کے حوالے سے پنجاب حکومت اور فلور ملز ایسوسی ایشن کے درمیان معاملات طے پا گئے، اس کے مطابق سرکاری گندم صرف فنکشنل فلور ملز کو دی جائے گی۔غیر فنکشنل مستحق نہ ہوں گے یہ گندم سرکاری نرخ چودہ سو روپے فی من پر اخراجات شامل کر کے دی جائے گی، جبکہ فلور ملز ایسوسی ایشن نے20کلو آٹے کی ایکس ملز قیمت850روپے مقرر کی ہے یہ پہلے800روپے تھی۔ یوں اب سرکاری طور پر ایکس ملز نرخ850 ہوں گے اور پرچون اس سے زیادہ مقرر کئے جائیں گے۔اس سلسلے میں یہ بھی غور کیا جائے کہ فلور ملز کو گندم درآمد کرنے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے وفد اور صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کے درمیان مذاکرات کے دور ہوئے اور یہ فیصلہ ہو گیا،تاہم تنوروں پر روٹی اور نان کے نرخ مقرر کرنے کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔یوں مجموعی طور پر عوام اشیاء خوردنی مہنگی خریدنے پر مجبور ہیں، آمدنی میں اضافہ نہیں ہو رہا،مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -