فلسطینی ریاست اور دو ریاستی فارمولے کی موت

فلسطینی ریاست اور دو ریاستی فارمولے کی موت
فلسطینی ریاست اور دو ریاستی فارمولے کی موت

  

یورپ کے 1000 سے زائد پارلیمینٹرینز (قانون سازوں) نے اپنے حکمرانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو مغربی کنارے کے علاقوں کو ریاست اسرائیل میں ضم کرنے سے روکیں کیونکہ ایسا کرنا نہ صرف قانونی اور اخلاقی طور پر درست نہیں بلکہ اس سے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی امیدیں دم توڑ جائیں گی اور خطے میں تصادم کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور خطے میں اقوام متحدہ کے امن نمائندے اسرائیل کو ایسے منصوبے پر عمل درآمد کرنے سے باز رہنے کی تلقین کر چکے ہیں کیونکہ ایسا کرنے سے فلسطین، اسرائیل تنازع کے حل کی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچے گا، اسرائیلی وزیر اعظم (نیتن یاہو آج یکم جولائی 2020ء کو ایسا کرنے کا پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں)

ریاست اسرائیل صہیونی تحریک کی کاوشوں کے نتیچے میں 1948ء میں قائم ہوئی تھی اس کے بڑے لیڈروں میں ڈیوڈ بن گوریان بھی شامل تھے جنہوں نے اقوام متحدہ کے اس پلان کو عارضی طور پر تسلیم کیا جس کے مطابق خطے میں دو ریاستوں کے قیام کی منظوری دی گئی تھی یہودیوں کے لئے اسرائیل اور عربوں (فلسطینیوں) کے لئے ریاست فلسطین کا قیام اس تقسیم کے منصوبے کا حصہ تھا صیہونی قیادت نے اس پلان کوً قبول توکیا اور 2000 سالوں کی جلا وطنی اور دشت نوردی کے بعد وہ اس موعودہ سرزمین میں آن بسے جس کا ان کے بقول ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ لیکن فلسطین اس تقسیم سے خوش نہیں تھے انہوں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ انکی پہلی غلطی تھی جس کا خمیازہ وہ آج تک بھگت رہے ہیں۔

15 مئی 1948ء کی شام جب برطانوی افواج عرب مقبوضہ علاقوں سے نکلی تو اسی شام یہودیوں نے اسرائیل کا اعلان آزادی کر دیا

1979ء میں کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل، مصر دشمنی کا خاتمہ ہوا۔ مصر نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا۔ عرب لیگ نے مصر کو نکال دیالیکن مصر نے اسرائیل کے ساتھ مل جل کر رہنے کا جو راستہ اختیار کیا وہ راستہ پی ایل او نے بھی 1993ء میں اوسلو امن معاہدہ کر کے اختیار کیا۔ یہ معاہدہ فلسطینی قیادت اور اسرائیل کے درمیان اس فریم ورک کے تحت کیا گیا جس کے تحت مصر اور اسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کیا گیا تھا دونوں معاہدوں میں مغربی کنارے کے علاقوں اور غزہ کے بارے میں یکساں موقف اختیار کیا گیا تھا۔ اوسلو معاہدے میں طے کیا گیا کہ 5 سال تک فلسطینی اندرونی خود مختاری کے تحت حکومت بنائیں گے پھر اس کے بعد 2 ریاستی نظام کو حتمی شکل دینے کے لئے گفتگو کی جائے گی دونوں ریاستوں کی حتمی سرحدات کا فیصلہ کیا جائے گا۔ دونوں فریق یعنی اسرائیلی حکومت اور پی ایل او کے یاسر عرفات نے بادل نخواستہ اس معاہدے کو قبول کیا اس معاہدے میں یہ بھی طے کیا گیا کہ فلسطینی اسرائیل کے قیام اور بقا کو تسلیم کریں گے اور اس کے خلاف فلسطینیوں کی مسلح جدوجہد ختم کی جائے گی۔ اس معاہدے کے تحت مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کو تین علاقوں، زونوں میں تقسیم کیا گیا علاقہ اے جہاں فلسطینی اتھارٹی کا سول اور سیکیورٹی کنٹرول تھا۔

علاقہ بی جہاں، اسرائیل کا سول کنٹرول اور اسرائیل و فلسطینیوں کا سیکیورٹی کنٹرول (مشترکہ) اور علاقہ سی جہاں اسرائیلی سول و سیکیورٹی کنٹرول طے پایا طرفین میں اس انتظام کو زیادہ پذیرائی نہ مل سکی حتیٰ کہ 1994ء میں ایک بنیاد پرست یہودی گروپ نے ہیبرون میں مسلم زائرین پر حملہ کیا گولیاں برسائیں اس کے بعد حماس نے دو ریاستی فارمولا مسترد کرنے کا اعلان کر دیا اور خود کش بمبار مہم شروع کر دی 4 نومبر 1995ء میں اسرائیلی وزیر اعظم رابن کو ایک متشدد یہودی گروپ نے قتل کر دیا۔ 1996ء میں ”امن سیکیورٹی کے ساتھ“ کے منشور پر نتن یاہو الیکشن جیت کر اسرائیل کے وزیر اعظم بنے اگلے سال یاسر عرفات اور یاہو کے درمیان ہیبرون معاہدہ ہوا جس کے تحت اسرائیل نے مغربی کنارے سے جزوی طور پر انخلاء کرنا اور یاسر عرفات نے فلسطینیوں کو تشدد سے روکنا قرار پایا لیکن اگلے ہی مہنے پر معاہدہ معطل ہو گیا کیونکہ اسرائیلی پارلیمینٹ نے یاہو کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ کر دیا۔ اور قبل از وقت انتخابات کا اعلان کر دیا۔

1999ء میں ایہود بارک اسرائیلی وزیر اعظم بنے لیکن انہیں 2000 میں مستعفی ہونا پڑا۔ اس طرح کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ حماس نے عسکری جدوجہد کا دوسرا مرحلہ (انتفاضہ) شروع کرنے کا اعلان کر دیا 2001ء میں ایریل شیرون منتخب ہوئے اور اسرائیلی فوج ایک بار پھر مغربی کنارے کے علاقوں میں داخل ہو گئی ا ور یاسر عرفات کو اس کے دفتر تک محدود کر دیا گیا۔ لیکن شیرون نے یکطرفہ طور پر غزہ کی پٹی میں قائم یہودی بستیوں کو ختم کر دیا اور وہاں سے فوج واپس بلا لی یہودیوں نے اس کی شدید مخالفت کی شیروں 2006ء کے شروع میں شدید بیمار ہو گئے الیکشنوں کے نتیجے میں انہی کی پارٹی جیت گئی اور آلرٹ وزیر اعظم بن گئے فلسطینی اتھارٹی کے انتخابات میں حماس جیت گئی جس کی اتھارٹی کو اسرائیل نے تسلیم نہیں کیا حالانکہ حماس قیادت نے یاسر عرفات کے کئے گئے تمام معاہدوں کی پاسداری کا بھی اعلان کیا اور ”دو ریاستی حل“ کے بارے میں بھی مثبت رائے دی لیکن اسرائیل حماس کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار نہ ہوا۔

پھر فلسطینی اتھارٹی اور حماس کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی جس کے بعد 2001ء میں محمود عباس نے حماس کی حکومت ختم کر دی اور حماس کو فلسطینی اتھارٹی سے بھی نکال دیا اس کے بعد فلسطین اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان 2008ء تک مذاکرات ہوتے رہے۔ ان مذاکرات میں طے پا گیا تھا کہ فلسطینیوں کو مغربی کنارے میں ان کی خواہشات کے مطابق علاقہ دے دیا جائے گا۔ یروشلم کی تقسیم اور جذبہ خیر سگالی کے تحت کچھ فلسطینی مہاجروں کو اسرائیل میں آباد بھی کیا جائے گا۔ 2009ء میں نتن یاہو ایک بار پھر وزیر ا عظم بن گئے اور معاملات 2017ء تک یونہی تعطل کا شکار رہے حتیٰ کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا ”امن منصوبہ“ پیش کیا ابتدا میں ً فلسطینیوں نے اس بارے اچھی امید رکھی لیکن جب دسمبر 2017ء میں ٹرمپ انتظامیہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت ماننے اور امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا تو عربوں پر یہ راز کھلا کہ ٹرمپ اسرائیل کا ساتھی ہے اس کے بعد امریکہ میں فلسطینی اتھارٹی کے دفاتر بند کر دیئے گئے اور اقوام متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کے لئے کام کرنے والے اداروں کو دی جانے والی امداد بھی بند کر دی۔

اب صورت حال یہ ہے کہ اسرائیل ٹرمپ ”امن منصوبے“ جسے ”ڈیل آف دی سینچری“ کہتے ہیں، کے مطابق اسرائیل مغربی کنارے میں قائم ساری کی ساری یہودی بستیوں کے علاوہ،مغربی کنارے کے ساتھ کی اردن وادی پر بھی اپنا قبضہ برقرار رکھے گا اور یہ سارے علاقے ریاست اسرائیل کا علاقہ کہلائیں گے، جبکہ سارے کے سارے یروشلم کو پہلے ہی اسرائیل میں ضم کرنے اور اسے ریاست اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کا اعلان کر چکا ہے۔ اس سارے عمل میں اسے امریکہ کی مکمل تائید حاصل ہے۔

عربوں نے فلسطینی ریاست کے قیام کے لئے نہ تو ذہانت کا مظاہرہ کیا اور نہ ہی اتحاد ویگانگت دکھائی۔ ریاست اسرائیل جغرافیائی طور پر اور یہودی عددی اعتبار سے کبھی بھی عربوں کے ہم پلہ نہیں رہے لیکن یہودیوں نے 1948ء میں اپنی موجودہ مملکت کے قیام سے پہلے اور اس کے بعد اپنی طے شدہ منزل سے ایک لمحے کے لئے بھی صرف نظر نہیں کیا۔آج یہودی عالمی حکمران کا روپ دھار چکے ہیں۔5درجن سے زائد ممالک میں ڈیڑھ ارب سے زائد بسنے والے مسلمانوں کی پرکاہ کے برابر وقعت نہیں ہے۔ عرب خاک و خون میں نہلائے جا رہے ہیں۔ عرب حکمرانوں نے اپنے اپنے زیر اقتدار ریاستوں میں کسی اجتماعی قوت و تنظیم کو پنپنے کا موقع نہیں دیا ہے۔ اخوان المسلمون کو خود عرب حکمرانوں نے کمزور کیا۔ پی ایل او اور حماس کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا گیا آج عربوں میں کوئی بھی ایسی انفرادی تنظیم یا تحریک اور اجتماعی قوت موجود نہیں ہے جو یہودیوں کو ان کی من مانیوں سے روک سکے۔ 70سالوں سے جاری فلسطینی ریاست کے قیام کی تحریک آج ایک نیا جنم لے گی۔ آزادی کے سفر میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔ نئی قیادت اور نئی تنظیم وصف بندی کے ساتھ ایک نئے عزم و حوصلے کے ساتھ جدوجہد کی ضرورت ہے وگرنہ غلامی تو پہلے بھی ان کا مقدر بنی ہوئی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -