پاکستان سٹاک ایکس چینج پر حملہ

پاکستان سٹاک ایکس چینج پر حملہ
پاکستان سٹاک ایکس چینج پر حملہ

  

پرسوں (29جون، سوموار) کراچی میں پاکستان سٹاک ایکس چینج پر دہشت گردانہ حملہ ہوا جس میں 4سیکیورٹی گارڈز اور ایک پولیس انسپکٹر شہید ہو گئے۔ چاروں دہشت گرد بھی مارے گئے۔ کہا گیا کہ دہشت گرد ایکسچینج کی بلڈنگ میں داخل نہ ہو سکے اور پہلے ہی ہلاک کر دیئے گئے وگرنہ خدا جانے کتنا نقصان ہوتا۔ یہ گویا اس حملے کا ایک مثبت پہلو بتایا گیا۔ ٹیلی ویژن پر دہشت گردوں کی کار سے جو اسلحہ وغیرہ برآمد کیا گیا، اس میں دستی بم، رائفلیں، پستول، گولیاں اور دہشت گردوں کے جوگرز وغیرہ بھی دکھائے گئے۔ وزیراعظم اور آرمی چیف نے ’اپنے‘ بہادر سیکیورٹی گارڈوں اور پولیس آفیسر کی شہادت پر جہاں افسوس کا اظہار کیا وہاں ان کی دلیری اور جرائت کی داد بھی دی۔

لیکن اس جیسے سانحات کی کئی باتیں مجھے ہمیشہ پریشان کرتی آ رہی ہیں۔ ایک یہ کہ ہمارے وزیراعظم اور آرمی چیف یا کسی اور وی وی آئی پی کی طرف سے مرنے والوں کی بہادری کی تعریف کرنے یا ان کے لواحقین کو چند لاکھ روپے نقد دینے سے کیا ان لواحقین کی وہ محرومیاں دور ہو جائیں گی جو ان کی شہادت کے بعد ان کے نصیب میں آئیں؟…… دوسرے کیا اس طرح کے حملوں کی کوئی پیشگی اطلاع (یا وارننگ) نہیں دی جا سکتی تھی؟ کیا ایسا کیا گیا؟…… تیسرے یہ کہ کیا یہ دہشت گرد اس Rawکے تربیت یافتہ نہیں تھے جس کا بیج کلبھوشن اور اس سے بھی پہلے کئی انڈین ایجنٹوں (جاسوسوں) نے بویا تھا؟ اب تو یہ کہا جا رہا ہے کہ کار کا مالک، دہشت گردوں میں سے ایک تھا جس نے چند روز پہلے کراچی سے گاڑی خریدی اور اسی کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔

تو کیا اس قسم کی خرید و فروخت پر کوئی نگرانی نہیں کی جاتی؟ ان دہشت گردوں کے سہولت کار کون لوگ تھے؟کیا وہ کبھی منظرِ عام پر لائے جا سکیں گے؟ کیا یہ حملہ پاکستانی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے منصوبوں میں شامل نہیں تھا؟اگر تھا تو حکومت (وفاقی /صوبائی) کیا سوچ رہی ہے اور ان کو کب پکڑ کر کیفر کردار کو پہنچائے گی؟…… اور سب سے آخر میں جو بڑا اہم سوال میرے ذہن کو حد درجہ پریشان کرتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا ان ”خوابیدہ ڈربوٍں“ (Sleeping Cells) کی کھوج لگانا اتنا ہی مشکل ہے کہ سالہا سال سے یہ کام ہو رہا ہے اور ہم اسے روٹین سمجھ کر برداشت کررہے ہیں؟…… کیا یہ ہماری انٹیلی جنس کی ناکامی نہیں ہے؟ آرمی چیف کو اپنے ISI چیف یا MI چیف یا IB چیف سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ ان دہشت گردانہ حملوں کی پنیری اب بھی اگر لگائی جا رہی ہے تو اس کی آبیاری کون سے عناصر کررہے ہیں؟ اس موضوع پر میڈیا پر ٹاک شوز کا اہتمام کیوں نہیں کیا جاتا؟…… ہمارا میڈیا آئے روز سیاسیات کی ادھیڑ بُن میں مصروف رہتا ہے لیکن جو کام پہلے کرنے کا ہے اسے پسِ پشت ڈالا جا رہا ہے اور لایعنی موضوعات کو ٹاک شوز کے ذریعے اچھال کر وابستہ مفادات کو فائدہ (یا نقصان)پہنچایا جا رہا ہے…… میرے حساب سے یہ حملہ (اور اس سے پہلے بھی ایسے حملے) ہمارے انٹیلی جنس آپریٹس کی 100%ناکامی ہے…… خدارا اس طرف توجہ دیجئے۔

یہ تو مقامی اور داخلی سطح پر انٹیلی جنس کی ناکامی ہے لیکن خارجی سطح پر بھی یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ میں کل ہی کہیں یہ خبر پڑھ رہا تھا کہ ایل او سی پر نواں بھارتی کواڈ کاپٹر مار گرایا گیا ہے۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ جو بھارتی کواڈ کاپٹر مارے نہیں جا سکے ان کی تعداد کتنی ہے۔ انڈین آرمی کا دماغ اتنا خراب نہیں کہ اس کے جاسوس ڈرون یکے بعد دیگرے مار گرائے جائیں اور وہ ان کو ایل او سی سے 500میٹر یا 600میٹر یا 850میٹر اندر بھیجتی رہے۔ یہ درست ہو گا کہ یہ کواڈ کاپٹر مار گرائے جا رہے ہیں لیکن ایل او سی پار کرنے سے 850میٹر اندر کے پاکستانی علاقے کی جو گراؤنڈ ریکی یہ ڈرون کرکے اپنے لانچنگ سنٹر کو بھیج چکا تھا اس کی تفصیلات کیا تھیں؟ ان ڈرونوں میں دہرا (Dual)سسٹم نصب ہوتا ہے یعنی ایک تو یہ رئیل ٹائم جاسوسی کرکے تمام اطلاعات و معلومات اپنے لانچنگ سنٹر کو بھیج رہے ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ایک CD میں وہ جاسوسی معلومات بھی ریکارڈ ہو رہی ہوتی ہیں جو یہ ڈرون اپنے تفویض کردہ (Assigned) مشن کی تکمیل کے دوران کر رہا ہوتا ہے۔ ان ڈرونوں میں یہ اہتمام بھی ہوتا ہے کہ اگر دشمن ان کو مار گرائے تو وہ CD یا کیسٹ جس پر دشمن علاقے کی مطلوبہ ریکی کی تفاصیل ہوتی ہیں ساتھ ہی وہ CD/ کیسٹ بھی خود بخود تباہ (Self Destruct) ہو جائے!…… بظاہر یہ مار گرائے جانے والے ڈرون ”بے ضرر“ معلوم ہوں گے لیکن انڈیا کو معلوم ہے کہ پاکستان نے اگر ان کو مار بھی گرایا تو ان سے موصول ہونے والی ریکی معلومات تو لانچنگ سنٹر میں موصول ہو ہی جائیں گی۔اس قسم کے ڈرونوں کی غرض و غائت یہی تو ہوتی ہے!

آیئے اس بحث کو ذرا اور دراز کرتے ہیں …… چین کے ہاتھوں 15جون (2020ء) کو دریائے گلوان کے ایک موڑ پر ایک جھڑپ کے دوران 20 انڈین سولجر مارے گئے جن میں ان کی پلٹن (16بہار رجمنٹ) کا کمانڈنگ آفیسر بھی تھا۔ انڈین میڈیا یہ کہہ رہا ہے کہ اس شب چین کے 20سے لے کر 30سولجرز بھی مارے گئے تھے جن کی کوئی خبر چین نہیں دے رہا۔29جون کو شائع ہونے والے ایک آرٹیکل میں ”دی نیویارک ٹائمز“کے ایک مضمون نگار کا ایک لمبا چوڑا آرٹیکل بھی صفحہ اول پر شائع ہوا ہے۔ اس کالم نگار کا نام Steven Lee Myers ہے۔ وہ لکھتا ہے: ”چین کا جو جانی نقصان ہوا ہے اس کی کوئی خبر چین کی طرف سے نہیں دی گئی حالانکہ India Today جو بھارت کا ایک بڑا اخبار ہے وہ لکھتا ہے کہ بھارت نے مرنے والے چینی سولجرز کی 16لاشیں چین کے حوالے کر دی تھیں۔ واشنگٹن میں امریکہ کے ایک انٹیلی جنس اہلکار کا کہنا ہے کہ چین جان بوجھ کر اپنے جانی نقصانات کو چھپا رہا ہے جو انڈیا کے نقصانات جتنے ہی تھے یعنی 20سے لے کر 30سولجرز تک!“…… اللہ اللہ خیر سلا!

اگر امریکیوں نے بھارت کی طرفداری کرنی ہی تھی تو اتنے بڑے جھوٹ کا کوئی لولا لنگڑا ثبوت تو پیش کیا ہوتا!

میں یہ عرض کر رہا تھا کہ یہ خونریز جھڑپ تو 15جون کو ہوئی۔ اب انڈین میڈیا اس کی لمبی چوڑی تفصیلات بتا رہا ہے کہ چینی سولجرز دریائے گلوان کی پشت پر اس بلند مقام پر سینکڑوں خیمے گاڑ چکے تھے جو انڈین سولجرز کے گشتی دستے (Patrols) ”اوٹ“ میں ہونے کی وجہ سے دیکھ نہ سکے…… اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا……

کیا چین نے گزشتہ برس 5اگست کو انڈیا کو یہ نہیں کہا تھا کہ لداخ ایک متنازعہ علاقہ ہے، اس کا آئینی سٹیٹس تبدیل نہ کرو؟…… کیا پٹرولنگ پوائنٹ نمبر14پر چینی اور بھارتی سولجرز کی آتے جاتے جھڑپیں رپورٹ نہیں ہوئی تھیں؟ کیا 5جون کو سارے عالمی میڈیا پر ان جھڑپوں کی Footage نہیں دکھائی گئی تھی؟…… اگرایسا تھا تو انڈیا نے دریائے گلوان کے موڑ کی اوٹ میں مجتمع ہونے والے چینی سولجرز کا پتہ لگانے کے لئے اپنے ڈرون کیوں نہ اڑائے؟…… یہ ڈرون انہی دنوں ایل او سی پر تو دھڑا دھڑ بھیجے جا رہے تھے اور پاکستان آرمی ان کو ”دھڑا دھڑ“ گرا بھی رہی تھی تو کیا لداخ کے کور کمانڈر کو یہ عقل نہ آئی کہ ان ڈرونوں کو دریائے گلوان پر بھی بھیج دیا جائے؟…… اب انڈیا صبح و شام خبریں دے رہا ہے کہ لداخ ایریا میں فوجی کمک بھیجی جا رہی ہے، فائٹر انٹرسیپٹر اڑائے جا رہے ہیں، بمباروں کو ٹیسٹ کیا جا رہا ہے، ہوائی اڈوں اور رن ویز کو زیادہ فراخ، طویل اور مستحکم بنایا جا رہا ہے، Su-30 MKI اور مگ 29-لیہ (Leh) میں سٹیشن کئے جا رہے ہیں، فرانس کا بنایا ہوا لڑاکا طیارہ رافیل جو کئی ہفتے پہلے انڈیا میں آ چکا تھا اور جس کی رسم افتتاح راج ناتھ سنگھ نے فرانس میں دیئے جلا کر اور آرتی اتار کر ادا کی تھی اس کی اگلی کھیپ جو 6رافیل طیاروں پر مشتمل ہوگی وہ 27جولائی (2020ء) کو انڈیا پہنچ جائے گی اور اسے ایک الگ سکواڈرن کی صورت میں انبالہ ائر بیس پر سٹیشن کر دیا جائے گا۔ یہ سکواڈرن اگست میں ڈیپلائے منٹ کے لئے تیار ہوگا اور باقی 30عدد رافیل بھی 2022ء تک انڈین ائر فورس (IAF) میں انڈکٹ کر لئے جائیں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔

میرا سوال یہاں بھی یہی ہوگا کہ لداخ میں جو کچھ ہوا وہ انڈیا کی طرف سے انٹیلی جنس کی ناکامی ہے۔ یہ اسی طرح کی ناکامی ہے جس کا خمیازہ انڈیا کو کارگل وار (مئی، جون 1999ء) میں بھگتنا پڑا تھا۔ انڈیا نے سوچا تھا کہ 1971ء کے بعد سے کوئی پاکستانی سولجر کارگل، دراس وغیرہ کی طرف نہیں آتا تو ان انتہائی بلندیوں پر بنائے گئے مورچوں سے انڈین سولجرز کو سردیوں میں واپس بلا لیا جاتا تھا۔ اکتوبر سے لے کر مئی تک وہ مورچے خالی رکھے جاتے تھے۔ یہ پریکٹس یا ڈرل 1971ء سے 1999ء تک 28برس تک جاری تھی۔ لیکن پھر مئی 1999ء میں کیا ہوا؟…… کارگل کے بریگیڈ کمانڈر کو سیک کر دیا گیا کہ اس نے کارگل کی چوٹیوں پر کوئی ایک آدھ سولجر ہی باقی رکھا ہوتا…… اس سہو یا غلطی یا بلنڈر کا خمیازہ ایک ایسی جنگ کی صورت میں نکلا جس میں انڈیا کا زیادہ اور پاکستان کا کم جانی نقصان ہوا۔

یہی غلطی انڈیا نے لداخ میں بھی دہرائی۔ بروقت انٹیلی جنس کی نایابی، ناقابلِ معافی جرم ہے خواہ وہ لداخ میں ہو خواہ پاکستان کی سٹاک ایکسچینج میں!!

مزید :

رائے -کالم -