قبائلی اور دوسرے اضلاع انٹرنیٹ سروس کی سہولت سے محروم

قبائلی اور دوسرے اضلاع انٹرنیٹ سروس کی سہولت سے محروم

  

پشاور(سٹی رپورٹر)مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن خیبر پختونخوا کے ترجمان عثمان آفریدی نے کہا ہے کہ یونیورسٹیوں کی انتظامیہ کی طرف سے آن لائن کلاسز کے اجراء کے باوجود صوبے کے قبائلی اور دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ سروس کو بحال نہیں کیا گیا جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ موجودہ حکومت طلبہ کے مسائل حل نہیں کرنا چاہتی انہوں نے کہاکہ یونیورسٹیوں کے اس اقدام کو جہاں چند لوگوں نے سراہا وہیں اس سسٹم نے کئی سوالات اور مسائل کو بھی جنم دیا کیونکہ آن لائن تعلیم کیلئے طلبہ کے پاس لیپ ٹاپ یا انڈرائید فون کا ہونا ضروری ہے اسی طرح انٹرنیٹ کی تیز سپیڈ بھی اہم ضرورت ہے مگر یہ تمام سہولیات ہر طالبعلم کو میسر نہیں ہیں قبائلی اضلاع سمیت خیبر پختونخواکے ایسے بہت سے علاقے ہیں جہاں انٹرنیٹ کی تھری جی اورفورجی سروس میسر نہیں جبکہ بعض ایسے اضلاع ہیں جہاں 20 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ کے باعث طلباء کیلئے ان آن لائن ذرائع سے سیکھنا ممکن ہی نہیں اور اکیسویں صدی میں یقینا یہ ایک المیہ ہے کہ یہاں کے لوگ بجلی اور انٹرنیٹ سے محروم ہیں ان مسائل کے تناظر میں طلباء نے یونیورسٹیوں اوراداروں کو اپنے مسائل سے آگاہ بھی کیا مگر بدقسمتی سے ابھی تک کوئی ایسی پالیسی منظر عام پر نہیں لائی جاسکی جس میں ان مسائل کا حل موجود ہو آن لائن کلاسز کیلئے انٹرنیٹ کی سہولت کی عدم فراہمی صوبائی اور مرکزی حکومت کی بھی ناکامی ہے جس کے خلا ف تمام طلبہ کو متحد ہوکر احتجاج کرنا چاہیے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -