پشاور ہائیکورٹ کا گردوں کی پیوند کاری کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی

  پشاور ہائیکورٹ کا گردوں کی پیوند کاری کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ نے گردوں کی پیوند کاری کے خلاف ایف ائی اے کی کاروائی پرعدم اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ جسٹس قیصر رشید نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کیا کرونا کی وباء کی وجہ سے محکموں کا پہیہ بھی جام ہو گیا تھا یہ اچھی بات نہیں عدالت نے انسانی جانوں سے کھیلنے والے عطائی ڈاکٹروں اور غیرقانونی کلینکس کے خلاف سخت کاروائی کی ہدایت کرتے ہوئے اگلی سماعت پرتفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا کیس کی سماعت جسٹس قیصر رشید اور جسٹس محمد نعیم انور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی کورونا وائرس کی ٹیسٹ کی یکساں قیمتیں مقرر نہ ہونے کے خلاف دائر درخواست پر کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ایڈوکیٹ جنرل، اے اے جی سید سکندر حیات نمائندہ ایف آئی اے درخواست گزار وکیل ملک اجمل خان عدالت میں پیش ہو ئے ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو تبایا کہ کورونا وائرس پر نوٹس لیا ہے، کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، سپریم کورٹ میں جواب جلد جمع کریں گے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرنے کے بعد ہائیکورٹ میں بھی جواب جمع کریں گے جسٹس قیصر رشید نے عدالت میں موجود ایف ائی اے کے نمائندے سے استفسار کیا کہ غیر قانونی پیوند کاری کرنے والوں کے خلاف ایف آئی اے نے کیا کارروائی کی نمائندہ ایف ائی اے نے عدالت کو بتایا کہ کورونا وبا کی وجہ سے کام رکا ہوا تھا، اب دوبارہ کاروائی شروع کی ہے جس پر جسٹس قیصر رشید نے کہا کہ کیا کورونا وبا کی وجہ سے دیگر محکموں کا پہیہ جام ہوگیا تھا یہ تو اچھی بات نہیں ہے انسانی جانوں سے کھیلنے والے عطائی ڈاکٹروں کے ساتھ کوئی نرمی نہ کی جائے کارروائی ایک وقت کے لئے نہیں عطائیوں کے خلاف کارروائی جاری رہنی چاہیئے فاضل بینچ نے ایف آئی اے کو غیر قانونی کلینکس اور عطائی ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کرنے اور اگلی سماعت پر کی جانے والی کارائیوں کی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -