انڈسٹریل ٹریننگ سنٹر کے 96 ملازمین کی برطرفی کے احکامات معطل،جواب طلب

انڈسٹریل ٹریننگ سنٹر کے 96 ملازمین کی برطرفی کے احکامات معطل،جواب طلب

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ نے حکومت کی جانب سے انڈسٹریل ٹریننگ سنٹرز کے 96ملازمین کی برطرفی کے احکامات معطل کرتے ہوئے جواب مانگ لیا عدالت عالیہ کے دورکنی بنچ نے یہ احکامات ضیاء الرحمان تاجک ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر96درخواست گزاروں کی رٹ پر جاری کیے اس موقع پر عدالت کو بتایا گیا کہ حکومت نے 19مئی 2020کو اعلامیہ جاری کرکے صوبے کے مختلف اضلاع کوہاٹ، مردان، ایبٹ آباد، بنوں، ڈی آئی خان، ٹانک، لکی مروت، سوات، نوشہرہ ودیگر اضلاع کے انڈسٹریل ٹریننگ سنٹرز کے ملازمین کو فارغ کردیاتھا جن میں ووکیشنل ٹیچرز گریڈ 11کے علاوہ دیگر ملازمین شامل ہیں دوران سماعت ضیاء الرحمان تاجک ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ یہ ملازمین چارسال سے زائد عرصہ سے کام کررہے تھے اور انہوں نے انڈسٹریل ٹریننگ سنٹرز کے قیام میں اہم کردار ادا کیا اور اپنی خدمات پیش کی جو مختلف اضلاع میں خواتین کی فلاح وبہبود کیلئے قائم کی گئی ہیں تاہم حکومت کی جانب سے ان سنٹرز کی اہمیت تسلیم کرنے کی بجائے تمام ملازمین کو فارغ کردیا گیا انہوں نے مزید دلائل دیئے کہ ایک بار کوئی پراجیکٹ مستقل ہوجائے تو قانونی طور پر ملازمین کی سروس بھی مستقل کرنا ہوگی تاہم انکی ملازمت ختم کرکے رولز کی خلاف ورزی کی گئی ہے لہذا انہوں نے عدالت سے ملازمین کی بحالی کی استدعاکی عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر متعلقہ نوٹیفیکیشن معطل کرتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -