سٹاک ایکسچینج حملے میں صرف ایک جماعت شامل نہیں، کراچی پولیس چیف

    سٹاک ایکسچینج حملے میں صرف ایک جماعت شامل نہیں، کراچی پولیس چیف

  

کراچی(کرائم رپورٹر)ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے کہاہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی پہلے سے تھریٹ تھی، تھریٹ کی وجہ سے سیکیورٹی بھی بڑھائی گئی تھی، حملے میں صرف ایک جماعت شامل نہیں ہے۔خصوصی گفتگوکرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے کہا کہ حملہ آوروں کو کراچی سے سپورٹ حاصل تھی۔انہوں نے کہا کہ کسی ایک تنظیم کی جانب سے یہ حملہ نہیں کیا گیا، کالعدم بی ایل اے(بلوچستان لبریشن آرمی)کے ساتھ دیگر دہشت گرد تنظیمیں بھی کراچی حملے میں شامل ہو سکتی ہیں۔غلام نبی میمن نے کہاکہ دہشت گرد مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ آئے تھے، ان کے پاس سے 50 سے زائد دستی بم، 4 کلاشن کوف اور متعدد گولیاں ملی ہیں۔ ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ دہشت گرد حملے کی تحقیقات کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈپارٹمنٹ(سی ٹی ڈی)کر رہی ہے، یہ دیکھا جا رہا ہے کہ ملزمان نے یقینا پہلے ریکی اور منصوبہ بندی کی ہوگی۔انہوں نے کہاکہ چینی قونصلیٹ اور پی ایس ایکس پر حملے کا ماسٹر مائنڈ ایک ہی لگتا ہے۔دونوں حملوں کی کافی چیزیں مماثلت رکھتی ہیں، مختلف سلیپر سیل ایکٹیو دکھائی دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حملے کے وقت حملہ آوروں کے ساتھ بیک اپ پر کوئی موجود نہیں تھا، حملہ آوروں سے ملنے والے اسلحے اور ایمونیشن سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -