3خواتین قتل، حادثات میں 13افراد جاں بحق، نوجوان کی خود کشی

    3خواتین قتل، حادثات میں 13افراد جاں بحق، نوجوان کی خود کشی

  

ملتان،گگومنڈی،ہارون آباد،میلسی، میر ہزار خان،مظفرگڑھ،ڈہرکی،ترندہ محمد پناہ،رحیم یار خان(وقائع نگار، نمائندگان پاکستان)تھانہ کینٹ کے علاقے میں نوجوان نے مکان کے تنازعہ پر اپنی سگی پھوپھی کو سر میں راڈ مار موت کے(بقیہ نمبر32صفحہ7پر)

گھاٹ اتار دیا۔نعش گٹو میں باندھ کر واش میں پھینک دی۔اور خود مقامی پولیس کے سامنے پیش ہوگیا۔پولیس نے ملزم کی شناخت پر نعش برآمد کرکے کاروائی پولیس شروع کردی یے۔پولیس ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ تھانہ کینٹ کے علاقے گلی نمبر دو علی پارک فیز ون قاسم بیلا پی سی کینٹ میں 22 ڈالا محمد جہانزیب راجپوت بھٹی نے اپنی پھوپھی 65 سالہ گلناز بیگم سر میں راڈ مارکر قتل کردیا۔اور بعد ازاں نعش گٹو میں ڈال کر اور باندھ کر واش روم میں پھینک دی۔ اور تقریبا رات 10 بجے تھانہ کینٹ میں خود بخود پیش ہو گیا۔پولیس نے ملزم کو حراست میں لیکر جائے وقوعہ پر چھاپہ مارا۔جہاں واش روم سے مقتولہ کہ نعش برآمد کرلی گئی۔پولیس نے خاتون کے لاش قبضے میں لیکرضروری قانونی کاروائی شروع کردی یے۔پولیس ذرائع کے مزید مطاب بقول قاتل وجہ عناد یہ معلوم ہوئی ہے کہ پھوپھی گلناز بیگم کا 5 مرلے کا مکان جس پر گل ناز بیگم رہائش پذیر تھی وہ محمد جہانزیب اپنے نام کروانا چاہتا تھا جو کہ گلناز بیگم اس کے نام نہ کررہی تھی.اسی وجہ سے قاتل نے طیش میں آکر مذکورہ خاتون کو موت نیند سلا دیا ہے۔ جبکہ ناجائز تعلقات قائم نہ کرنے پر مبینہ طور پر ایک شخص نے 40 سالہ خاتون کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔واقعہ نیو ملتان کے علاقے میں پیش آیا۔جبکہ ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔ذرائع کے مطابق باوا صفرہ کا رہائشی خالد شاہینہ کو پسند کرتا تھا۔شاہینہ شادی شدہ خاتون تھی۔ گزشتہ روز خالد اس کے گھر پہنچا اور دروازہ کھٹکھٹایا شاہینہ کے دروازہ کھولا۔تو ملزم خالد نے موقع سے تعلقات قائم کرنے سے انکاری پر مبینہ طور پر شاہینہ کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔۔ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی جائے وقوعہ کا جائزہ لیا اور خاتون کی لاش کو پوسٹمارٹم کے لیے نشتر منتقل کردیا۔چائنہ چوک کے قریب نامعلوم شخص کی لاش ملی ہے۔جسے پولیس نے نشتر منتقل کردیا ہے۔بتایا جاتاہے کہ تھانہ مظفرآباد کے علاقے چائنہ چوک کے قریب 55 سالہ شخص کی لاش ملی ہے جس کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی تاہم اس کی شناخت نہ ہوسکی۔پولیس کا کہنا ہے کہ متوفی کے جسم پر تشدد کے نشانات نہ ہیں۔تاہم اسکی لاش نشتر منتقل کردی گئی۔جبکہ تھانہ جلیل آباد کے علاقے 35سالہ شخص کی نعش برآمد ہوئی ہے۔تفصیل کے مطابق لوہے والی پل کے نیچے نامعلوم شخص مردہ حالت میں موجود تھا کہ علاقہ مکینوں کی اطلاع پر متعلقہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر نعش کو قبضے میں لیکر نشتر ہسپتال سرد خانہ منتقل کردیا،پولیس کے مطابق ملنے والی نعش نشئی کی تھی جو نشے کا عادی معلوم ہوتا جس کی شناخت نہ ہوسکی تاہم کارروائی شروع کردی ہے۔ادھر تھانہ چہلیک کے علاقے حرکت قلب بند ہونے سے ایڈووکیٹ دم توڑ گیا ہے۔تفصیل کے مطابق ضلع کچہری میں سیٹ نمبر64عزیز بلاک کے ایڈووکیٹ غلام رسول کو ضلع کچہری میں اپنی سیٹ پر اچانک حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے،ریسکیو1122کے پہنچنے پر وکیل مردہ حالت میں پایا گیا، جہنیں ریسکیو1122کی مدد سے نعش کو ان کے گھر واقع منظور ا?باد منتقل کردیا گیا ہے۔جبکہ غازی یونین سی بی سے واسا کے صدر ملک وحید رجوانہ کے برادر نسبتی شہباز جو دو بچوں کا باپ تھا گھر کے باہر دارالامان کے ساتھ واپڈا کی تاروں کے بے ہنگم جال جو زمین کے ساتھ جھول رہے تھے جن کی وجہ سے علاقہ کی مختلف دیواروں میں کرنٹ کی وجہ سے موقع پر ہی زندگی کی بازی ہار گیا، واقع کی اطلاع پر متعلقہ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر نعش تحویل میں لیکر ضروری کاغذی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ورثا کے حوالے کردی گئی، علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ واپڈا ا?فس میں متعدد بار ہاں درخواستیں دی گئی کہ علاقہ میں بجلی کی تاروں کو درستگی فرمائی جائے جن کی وجہ سے ا?ئے روز کوئی نی کوئی واقعہ رونما ہورہے تھے لیکن واپڈا عملہ کی کانوں پر جو تک سرکی جو ا?ج نوجوان کرنت سے اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا، علاقہ کے سیاسی و سماجی رہنماوں نے واپڈا کی نااہلی بارے حکام سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر علاقہ میں فل فور تاروں کو ٹھیک نہ کیا گیا تو ہمیں مجبورا چیف میپکو ا?فس کا گھیراوں کرنا پڑے گا جن کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں کے اوپر عائد ہوگی۔ادھر چک نمبر367 ای بی کے محمد امیر اور اس کے بیٹے ارشاد نے صحافیوں کو بتایا کہ ارشاد احمد اور اس کی بہن زرینہ بی بی کی شادی وٹہ سٹہ کے تحت چک نمبر197۔ای بی کے رہائشی زبیدہ بی بی اور مشتاق کے ساتھ 2004میں ہوئی کچھ عرصہ بعد ارشاد کی بیوی زبیدہ فوت ہو گئی جس کے بعد زرینہ بی بی کے سسرالی اور اس کا شوہر مشتاق نے اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا شروع کر دیا اور اسے گھر سے نکلنے کے لیے مجبور کرنے لگے لیکن زرینہ بی بی نے اپنے بچوں کی وجہ سے گھر نہ چھوڑا مورخہ 27مارچ 2020کو محمد اصغر،محمد زمان،اقبال،مشتاق وغیرہ نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں وہ دم توڑ گئی ملزمان نے ہمیں اگلے روز فون پر زرینہ بی بی کی وفات کی اطلاع دی متوفیہ کے سر گردن اور جسم کے دیگر حصوں پر تشدد کے نشانات دیکھ کر ہمیں شک گزرا کہ اس کی موت طبعی نہیں بلکہ اسے قتل کیا گیا ہے جس پر ہم نے پولیس اسٹیشن گگو منڈی میں درخواست دی اور مقدمہ نمبر 229/2020بجرم302درج ہوا لیکن سب انسپکٹر ارشاد سکھیرا نے ملزمان سے بھاری رشوت لے کر مقدمہ خارج کر دیا جو سرا سر ظلم اور نا انصافی ہے اس موقع پر موجود زرینہ بی بی کے ورثا محمد ظفر،اللہ دتہ،محمد صدیق،منظور،باہو،زاہد،لشکر علی،عارف، گل شیراور دیگر نے پولیس اور ملزمان کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان وزیر اعلیٰ پنجاب،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او وہاڑی سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ملزمان کو گرفتار اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ڈونگہ بونگہ کے رہائشی جمعہ خاں اپنے برادرنسبتی ابراہیم اور بیوی بچوں کے ہمراہ موٹر سائیکل پر نواحی گاؤں روڈا سنگھ سے اپنے گھر جا رہے تھے اور ایک ہی موٹرسائیکل پر پانچ افراد سوار تھے،جب وہ ڈونگہ بونگہ موڑ کے قریب پہنچے تو لاہور سے ہارون آباد آنے والی مسافر بس نے موٹرسائیکل کو ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں جمعہ خان کی بیوی رانی بی بی، بیٹا علی حیدراور برادرنسبتی ابراہیم موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ جمعہ خاں اور بیٹا علی اکبر زخمی ہو گئے، اطلاع پر مقامی پولیس اور ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچ گئی، زخمیوں اور لاشوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا، پولیس نے مسافر بس کو قبضے میں لیا،جبکہ بس ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا، پولیس مصروف تفتیش۔جبکہ چوک میتلا کے قریب ٹرک اور مزدا ڈالہ کے درمیان تیز رفتاری کے باعث خوفناک تصادم ہوا جس کی وجہ سے گاڑیوں کے پرخجے اڑ گئے اور مزدا ڈالہ کا ڈرائیور ملتان کا رہائشی محمد بلال موقع پر مہلک زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا پولیس نے موقع پر پہنچ کر قانونی کاروائی شروع کردی_میلسی (نمائندہ پاکستان)بوگس چیک دینے والے کے خلاف مقدمہ درج تفصیل کیمطابق میلسی کے چک نمبر158دبلیوبی کے رہائشی عبدالروف روئی کا کاروبار کرتا ہے اس کا پھول نگر کے رہائشی محمد بوٹا کے ساتھ کاروباری اعتماد اور دوستی کا رشتہ تھا محمد بوٹا نے عبدالروف سے ایک کروڑ60لاکھ8ہزار249روئپے مالیت کی روئی کی گانٹھیں خریدیں کچھ رقم مختلف طریقوں سے ادا کر دی اور باقی رقم 83لاکھ روپئے کا چیک دیا جو بنک سے کیش نہ ہوسکا پولیس تھانہ ٹبہ سلطان پور نے مقدمہ درج کر لیا۔ادھر میر ہزار خان کے نزدیک پاسکو سنٹر کے سامنے ڈمپر کے اگلے پچھلے ٹائر اچانک پھٹ گئے جس سے راہگیر بوڑھی فقیرنی پٹھانی بی بی زد میں آگئی۔ڈمپر پر پیسٹیسائیڈ کا سامان لدا ہوا تھا۔ٹائر پھٹنے سے ڈمپر بے قابوہو گیا۔ڈرائیور نے پوری مہارت سے زیادہ نقصان سے اسے بچا یا۔ڈمپر کی قلا بازیوں سے پیسٹیسائیڈ کا سامان بوڑھی عورت پر آن گرا جس سے وہ شدید زخمی ہو گئی۔جسے فوری طور پر ٹی ایچ کیو جتوئی ریفر کر دیا گیا جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں دم توڑ گئی۔۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ بقول مالک ڈمپر ابھی کل ہی اس کے سارے ٹائر تبدیل کر کے نئے ٹائر لگوائے گئے۔ جبکہ خان گڑھ کا رہائشی نوجوان ملائیشیا میں 16 منزلہ عمارت سے گر کر جاں بحق ہو گیا, محلہ حافظ مقبول والا خان گڑھ کے محمد خالد کا بیٹا محمد ناصر مزدوری کے سلسلے ملائیشیا میں 5 سال سے مقیم تھا, جو گزشتہ روز 16 منزلہ عمارت سے گر گیا اور جانبحق ہو گیا, اسکی موت کی خبر ملنے پر گھر میں کہرام مچ گیا, متوفی 2 بچوں کا باپ تھا, متوفی کی نعش 3 جولائی کو پاکستان پہنچے گی۔جبکہ محبوبہ نے فون نہ سنا, نوجوان نے خود کشی کر لی, محلہ قیوم نگر عقب پولیس لائین مظفرگڑھ کے رہائشی نوجوان شہزاد کی موبائیل فون پر مبینہ طور پر دوستی تھی, جس نے کئی روز اس کا فون نہ سنا, جس سے دل برداشتہ ہو کر نوجوان نے گندم میں رکھنے والی گولیاں کھا لیں. جسے ضلعی صدر ہسپتال مظفرگڑھ منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا اور دم توڑ گیا. جس کی نعش ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی گئی, متوفی کا والد بیرون ملک کام کرتا ہے۔ جبکہ بجلی کا کرنٹ لگنے سے نوجوان جابحق،تفصیل کے مطابق بہاری کالونی مظفرگڑھ کا رہائشی 18 سالہ نوجوان محمد آصف ولد محمد نذیر جھنگ روڈ پر واقع ایک دکان میں چلتے پنکھے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے لگا پنکھا شارٹ ہونے کیوجہ سے اسے بجلی کا کرنٹ لگا،کرنٹ لگنے کے بعد اسے ہسپتال لے جایا جا رہا تھا کہ وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ادھردومختلف روڈحادثات 2 افراد موقع پر ہلاک پولیس جائے حادثہ پر پہنچ گئی لاش ہسپتال منتقل پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں ورثاء کیحوالے کریں. خبر کے مطابق موٹر وے ایم 5کے روڈ پر پہلے سے خراب کھرے ٹرالر کو پیچھے سے آنے والے ایک دوسرے ٹرالر نے ٹکر ماردی جسکے نتیجے میں پنجاب شہر فیصل آباد کا رہائشی ٹرالر کا ڈرائیور خادم حسین گجر موقع پرہی جانبحق ہوگیا جبکہ ایک اور روڈحادثہ نیشنل ہائی وے اعجاز پیٹرول پمپ کے قریب روڈعبورکرتیہوئے ٹریکٹر ٹرالی کی زد میں آکر گھوٹکی کے قریب کچو بنڈی کا 22سالہ نوجوان صاحب علی چاچڑ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔جبکہ ترنڈہ محمد پناہ صرافہ بازار کے رہائشی شاہد حسین بلوچ کا 15 سالہ بیٹا بیٹا بلال احمد پنکھا چلاتے ہوئے کرنٹ لگنے سے انتقال کر گیا 15سالہ بلال کی وفات پر گھر میں کہرام مچ گیا اور والدین پر غشی کے دورے پڑنے لگے جبکہ جواں سالہ لڑکے بلال کی وفات پر اہل محلہ کی کی آنکھیں بھی غم سے اشکبار تھیں، بعد ازاں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد محمد بلال کو سپرد خاک کر دیا گیا۔جبکہ ٹریفک حادثات میں شدید زخمی ہونے والے 2 افراد ہسپتال میں دم توڑ گئے،تفصیل کے مطابق ٹریفک کا پہلا حادثہ آدم والی کے رہائشی 12 سالہ محمد حفیظ کے ساتھ پیش آیا جو اپنے رشتے دار کہ ہمراہ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر جا رہا تھا کہ تیز رفتاری کے باعث موٹر کاٹتے ہوئے وہ موٹر سائیکل سلپ ہو گیا اور وہ سر کے بل سڑک پر جا گرا اور شدید زخمی ہو گیا جبکہ دوسرا واقعہ خانپور کے رہائشی 40 سالہ سیف اللہ کے ساتھ پیش آیا جو اپنے موٹر سائیکل پر سوار ہو کر جا رہا تھا کہ تیز رفتاری کے باعث سامنے سے آنے والی کار سے ٹکرا گیا اور شدید زخمی ہو گیا ورثاء نے طبی امداد کیلئے شیخ زید ہسپتال منتقل کیا جہاں طبی امداد کے باوجود دونوں افراد جانبر نہ ہو پا? اور دم توڑ گئے۔

قتلؔ\حادثات

مزید :

ملتان صفحہ آخر -