پولیس کلچر تبدیل نہ ہوسکا‘ تقرر،تبادلوں کے مینول احکامات معمول

  پولیس کلچر تبدیل نہ ہوسکا‘ تقرر،تبادلوں کے مینول احکامات معمول

  

ملتان (وقائع نگار) تبدیلی سرکار بھی پولیس کے روایتی کلچر کو تبدیل نہ کرسکی۔آئے روز نت نئے تجربات نے محکمہ پولیس کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔محکمہ پولیس کے انتظامی امور کمپیوٹرائزڈ ہونے کے بعد مینول چھٹیاں اور تقرر و تبادلے کے احکامات ہاتھ سے لکھنے کا رواج آج بھی بدستور قائم ہے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے سابق ن لیگی حکومت نے اپنے دور حکومت میں پولیس کلچر کی تبدیلی کا نعرہ لگایا تھا۔اور اس کلچر کو تبدیل کرنے کیلئے پولیس ریکارڈ کو آن لائن کرنے کا کام (بقیہ نمبر39صفحہ6پر)

شروع کیا گیا۔اس کام کے لئے کروڑوں روپے فنڈز کو مختص کیا گیا۔تاکہ عوام پولیس کی روایتی بے حسی اور تھانہ کلچر کی سیاست ختم ہو جائے۔سابق حکومت نے جلد از جلد پولیس کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے ساتھ آن لائن بھی کردیا گیا۔روزنامچہ تھانہ کا سب سے اہم رجسٹرڈ ہے۔جسکو کو بھی کپیوٹرئزاڈ کر دیا گیا تھا۔اسی طرح او ایس آئی برانچز کے ریکارڈ سمیت دیگر ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کے ساتھ آن لائن کر دیا گیا۔مگر ملتان پولیس افسران کی انوکھی منطق ہمیشہ حکومتی فیصلوں کے آڑے آجاتی ہے۔جیسا کہ ایک روز قبل سی پی او ملتان کی او ایس آئی برانچ نے ایس ایچ اوز کے تبادلوں کی ایک لسٹ جاری کی۔جس میں پولیس افسران کے تبادلوں کے احکامات کو مینول طریقے (ہاتھ سے تحریر) سے درج کیا گیاہے۔جو غلط ہے۔پولیس افسران کے مطابق تمام ریکارڈ کمپیوٹرائز ہونے کے باوجود مینول احکامات جاری کرنے سمجھ سے باہر ہے۔اعلی پولیس حکام کو مذکورہ صورت حال پر فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔تاکہ اکیسویں صدی میں داخل تو ہوگئے۔مگر شرمندگی سامنا نہ کرنا پڑے۔

مینول احکامات

مزید :

ملتان صفحہ آخر -