جتوئی: نواحی علاقوں میں دریائے سندھ کے کٹاو میں تیزی

      جتوئی: نواحی علاقوں میں دریائے سندھ کے کٹاو میں تیزی

  

جتوئی (نامہ نگار) تحصیل جتوئی کے نواحی علاقہ لنڈی پتافی بیٹ دریائی کے متاثرین کلیم اللہ محمد بلال محمد ساجد محمد خدابخش رسول بخش سجاد حسین احمد یار کریم بخش ودیگر نے احتجاج کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ 20سال سے دریائے سندھ کا کٹاو جاری ہے اور دوسو سے زاہد بستیاں دریا برد ہو چکی ہیں انہوں نے کہا کہ کئی ہنستے بستے گھر صفحہ ھستی سے مٹ چکے ہیں۔ متعدد مساجد بھی شہید ہوگئیں ہیں انہوں نے کہا کہ کئی بار پرامن احتجاج ریکارڈ کرائے گئے لیکن یہ احتجاج(بقیہ نمبر23صفحہ6پر)

دریائے سندھ کے مقام پر کیے گئے مگر ضلعی انتظامیہ اور مقامی سیاست دان ٹس سے مس نہ ہوئے اور دریائے سندھ میں پانی کی سطع بڑھتے ہی زمینی کٹاو میں اضافہ ہو گیا انہوں نے کہا کہ اب بھی دریائے سندھ پھر بپھر گیا ہے متاثرین نے یہ بھی کہا کہ کئی بار ہم نے مقامی سیاستدانوں اور انتظامیہ کو دریا سندھ کٹاو کے حوالے سے آگاہ کیا مگر آج تک کوئی حفاظتی انتظامات نہیں کیے گئے اور دریا سندھ کٹاو کے متاثرین اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ آنے والے الیکشن میں مقامی سیاستدان ووٹ مانگنے کے لیے سوچ سمجھ کر آئیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں مقامی ایم پی اے 54 کروڑ کی لاگت دریا کے کٹاؤ کے روکنے کے لیے منظور کرائیں مگر کام تو شروع کیا گیا مگر پانچ سال گزرنے کے باوجود بھی یہ 54 کروڑ روپے کا منصوبہ کرپشن کی نذر ہو گیا کئی بار مقامی سیاستدان نے فوٹو سیشن کروا کر غائب ہو جاتے ہیں متاثرین کا وزیر اعلی پنجاب سے اپیل کی ہے کہ خدار ہم پر رحم کھائیں اور دریا سندھ کے کٹاؤ کو روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

کٹاؤ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -