شہبازشریف ہسپتال ہیں نہ ہی وینٹی لیٹرپربلکہ گھرمیں ہیں،اصولی طورپرانہیں پیش ہوناچاہئے تھا،احتساب عدالت

شہبازشریف ہسپتال ہیں نہ ہی وینٹی لیٹرپربلکہ گھرمیں ہیں،اصولی طورپرانہیں ...
شہبازشریف ہسپتال ہیں نہ ہی وینٹی لیٹرپربلکہ گھرمیں ہیں،اصولی طورپرانہیں پیش ہوناچاہئے تھا،احتساب عدالت

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)رمضان شوگرملز ریفرنس میں احتساب عدالت کے جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ عام طورپر 3 ہفتے میں کوروناکا مریض ٹھیک ہوجاتاہے،اصولی طورپرشہبازشریف کوعدالت پیش ہوناچاہئے تھا،شہبازشریف ہسپتال ہیں نہ ہی وینٹی لیٹرپر بلکہ گھرمیں ہیں، شہبازشریف 2 منٹ کیلئے پیش ہوجائیں تاکہ ان کے دستخط کریں۔

نجی ٹی وی کے مطابق رمضان شوگر ملزکی احتساب عدالت میں سماعت ہوئی،نیب نے حمزہ شہباز کو عدالت میں پیش کردیا جبکہ شہبازشریف کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی ہے ،اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہبازشریف نے عدالت میں حاضری لگائی۔

شہباز شریف کی جانب سے درخواست میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ کوروناپازیٹو ہے،وائرس کی علامات ابھی موجودہیں،گھرمیں ہی آئسولیشن اختیار کررکھی ہے،شہبازشریف کادرخواست میں مزید کہنا ہے کہ لاہورہائیکورٹ نے بھی حاضری معافی کی درخواست منظورکی، آج پیش نہیں ہوسکتا، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت حاضری معافی کی درخواست منظورکرے۔

جج احتساب عدالت نے کہا کہ عام طورپر 3 ہفتے میں کوروناکامریض ٹھیک ہوجاتاہے،وکیل درخواست گزار نے کہاکہ شہبازشریف کی عمر 69 سال اوروہ کینسرکے مریض ہیں،ڈاکٹرزکی ہدایت کے مطابق 2 جون کو شہبازشریف کاکوروناٹیسٹ ہوگا،فاضل جج نے کہاکہ اصولی طورپرشہبازشریف کو عدالت پیش ہوناچاہئے تھا،شہبازشریف ہسپتال ہیں نہ ہی وینٹی لیٹرپربلکہ گھرمیں ہیں،شہبازشریف 2 منٹ کیلئے پیش ہوجائیں تاکہ ان کے دستخط کریں،فاضل جج نے کہاکہ شہبازشریف کے وکیل کی استدعاپرسماعت 3 ہفتے کیلئے ملتوی کی۔

عدالت نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظورکرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیدیا،ملزموں پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی ،احتساب عدالت نے رمضان شوگر مل کیس کی سماعت10اگست تک ملتوی کردی۔

مزید :

قومی -علاقائی -پنجاب -لاہور -