21 سال تک موت کاانتظار کرنے والے کوآزادی کا پروانہ مل گیا

21 سال تک موت کاانتظار کرنے والے کوآزادی کا پروانہ مل گیا
21 سال تک موت کاانتظار کرنے والے کوآزادی کا پروانہ مل گیا

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) کراچی کی ایک جیل میں کم عمری میں سزائے موت پانے والا دو دہائیوں تک موت کاانتظارکرنے بعد جیل سے رہا و کر اپنے گھر پہنچ چکا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے اور بے سہارا لوگوں کو قانونی امداد فراہم کرنے والی فلاحی تنظیم جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے مطابق اقبال نامی شخص کو سال قبل اس وقت سزائے موت سنائی گئی تھی جب ان کی عمر اٹھارہ برس سے کم تھی۔

جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے مطابق اقبال 1998میں جب گرفتار کیے گئے تو ان کی عمر 17برس تھی۔ اس بات کی تصدیق کے باوجود کے وہ نابالغ ہیں انہیں ایک سال بعد سزائے موت سنا دی گئی جس کا انہوں نے اکیس سال تک انتظار کیا تاہم اب رہائی کا پروانہ ملنے کے بعد وہ گھر پہنچ گئے ہیں.

گھر پران کا پرتپاک استقبال کیا گیا جب کہ اس دوران گھروالوں سے ملاقات کے انتہائی جذباتی مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔

جسٹس پروجیکٹ کے مطابق سال 2000 میں پاکستان نے جوینائل جسٹس سسٹم آرڈیننس منظور (جے ایس ایس او) کیا جس کے بعد نابالغوں کو موت کی سزا دینا غیر قانونی ٹھہرا۔جس کے بعد 2001 میں ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے آرڈیننس سے قبل سزائے موت پانے والے قانونی نابالغوں کو معافی دے دی گئی۔تاہم محمد اقبال قانونی طور پر نابالغ ثابت ہوجانے کے باوجود سزائے موت پانے والوں کی قطار میں موجود رہا۔

ڈان نیوز کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ حکومت پنجاب نے 2003 میں لاہور ہائی کورٹ کو ایک خط لکھا اور اقبال کو ان قیدیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا جو رہائی کے حقدار تھے۔

انسانی حقوق کی متعدد تنظیمیں، اقوامِ متحدہ کے نمائندگان خصوصی نے مارچ میں حکومت پاکستان کو خط لکھ کر رحم کا مطالبہ کیا اور اقبال کی سزائے موت تبدیل کرنے کی درخواست کی۔

ڈان نیوز کے مطابق 

خط میں کہا گیا کہ اقبال پر کو جب چوری اور قتل کی سزا سنائی گئی اس وقت ان کی عمر صرف 17 برس تھی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’2 دہائی بعد بالآخر لاہور ہائی کورٹ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اقبال پر ظلم کیا گیا اور وہ سزائے موت کے انتظار کرنے کے مستحق نہیں تھے‘۔

چنانچہ رواں برس فروری میں ان کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی گئی تھی اور جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ وہ قید میں عمر قید کی سزا کا عرصہ کاٹ چکے ہیں تو 30 جون 2020 کو انہیں رہا کردیا گیا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -جرم و انصاف -