پی آئی اے پائلٹس کی جعلی ڈگری کامعاملہ، یورپ کے بعد عرب ملک کابھی واضح اعلان ،پاکستانیوں کی نوکریاں داو پر لگ گئیں

پی آئی اے پائلٹس کی جعلی ڈگری کامعاملہ، یورپ کے بعد عرب ملک کابھی واضح اعلان ...
پی آئی اے پائلٹس کی جعلی ڈگری کامعاملہ، یورپ کے بعد عرب ملک کابھی واضح اعلان ،پاکستانیوں کی نوکریاں داو پر لگ گئیں

  

ابوظہبی(ڈیلی پاکستان آن لائن) پی آئی اے پائلٹس کی جعلی ڈگری کامعاملہ، یورپ کے بعد عرب ملک کابھی واضح اعلان ،پاکستانیوں کی نوکریاں داو پر لگ گئیں۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ان تمام پائلٹس اور انجینئرز کے لائسنسز اور ڈگریوں کی تصدیق کروانے کا اعلان کیا ہے جنہوں نے پاکستان سول ایوی ایشن کے تحت امتحانات پاس کرکے اس شعبے میں جگہ بنائی ہے۔

متحدہ عرب امارات کا یہ اعلان یورپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں یورپ نے پاکستانی ایئر لائن کے اس کی حدود میں داخلے پر پابندی لگائی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سیف محمد الصویدی نے پاکستانی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈی جی حسن ناصر جامی کو لکھے گئے ایک خط میں ان تمام پائلٹس ، انجینئرز اور فلائٹ آپریشنز کی اہلیت کی تصدیق طلب کی ہے جو  مشرق وسطیٰ میں مختلف فضائی کمپنیوں کے لیے کام کررہے ہیں۔

خط میں پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے تحت پائلٹ لائسنس حاصل کرنے والوں کے لائسنس کی جانچ پڑتال اور ان کی ڈگریوں کی تصدیق مانگی گئی ہے جو مذکورہ لائسنس کی بنیاد پر اماراتی طیارے اڑا رہے ہیں۔

اس سے قبل یورپی یونین ائیر سیفٹی ایجنسی (ایازا) کی جانب سے پاکستان انٹرنیشل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے یورپین ممالک کے لیے فضائی آپریشن کے اجازت نامے کو چھ ماہ کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔

اس فیصلے کے نتیجے میں جہاں پی آئی اے کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے وہیں ان سینکڑوں پائلٹس کے روزگار بھی داؤ پر لگتے نظر آ رہے ہیں جنھوں نے پاکستان سے پائلٹس لائسنس حاصل کر رکھے ہیں اور پی آئی اے کے علاوہ دوسری ملکی اور بین الاقوامی ایئرلائنز کے لیے کام کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ  وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان کی جانب سے اسمبلی میں  پائلٹس کی ڈگریوں اور لائسنسز کو مشکوک قرار دیا گیا تھا جس کے بعد سول ایوی ایشن نے اپنے 860میں سے265پائلٹس کو برطرف کرنے کااعلان کیا تھا جس کے بعد سے دنیا بھر میں نہ صرف پی آئی اے بلکہ ریاست پاکستان کی ساکھ بھی داو پر لگی ہوئی ہے۔

مزید :

قومی -بین الاقوامی -عرب دنیا -