”پاکستان میں صرف PUBG موبائل ہی بند نہیں ہوئی بلکہ۔۔۔“ ویڈیوز گیمز کے دلدادہ افراد کیلئے آج کی سب سے افسوسناک خبر آ گئی

”پاکستان میں صرف PUBG موبائل ہی بند نہیں ہوئی بلکہ۔۔۔“ ویڈیوز گیمز کے دلدادہ ...
”پاکستان میں صرف PUBG موبائل ہی بند نہیں ہوئی بلکہ۔۔۔“ ویڈیوز گیمز کے دلدادہ افراد کیلئے آج کی سب سے افسوسناک خبر آ گئی

  

لاہور (کامران اکرم) پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر میں موبائل پر کھیلے جانے والی گیم ”پب جی“ پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے تاہم اس پابندی کے باعث جہاں موبائل صارفین گیم کھیلنے سے قاصر ہیں وہیں اس پابندی کا شکار کمپیوٹر پر دستیاب PUBG LITE اور PUBG STEAM کھیلنے والے افراد بھی ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پی ٹی اے کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ پب جی گیم کی سروس پاکستان میں عارضی طور پر معطل کی گئی ہے جبکہ مکمل پابندی کا حتمی فیصلہ مشاورت کے بعد کیا جائے گا تاہم اس میں کتنا وقت لگے گا، اس بارے میں انہوں نے کچھ واضح نہیں کیا۔ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اگر پی ٹی اے کی جانب سے PUBG Mobile پر مستقل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو کیا اس کا اطلاق صرف موبائل گیم پر ہو گا یا پھر کمپیوٹر، پلے سٹیشن اور ایکس باکس کیلئے دستیاب PUBG پر بھی ہو گا۔

واضح رہے کہ پب جی گیم کھیلنے کی اجازت نہ ملنے پر لاہور میں 2 بچوں نے خودکشی کی تھی جس پر دونوں بچوں کے ورثاءنے گیم کی بندش کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی جبکہ آئی جی پولیس نے بھی پی ٹی اے کو پب جی گیم بندکرنے کے حوالے سے خط ارسال کیا تھا۔

قبل ازیں پنجاب پولیس نے لاہور کے 3نوجوانوں کی خودکشی کے بعد ایف آئی اے اور پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ آن لائن ویڈیو گیم پب جی کی آئی پیز کو پاکستان میں بلاک کیا جائے تاکہ بچے گیم نہ کھیل سکیں۔ سی پی او لاہور ذوالفقار حمید کا کہنا تھا کہ گیم کی وجہ سے اب تک 3نوجوان خودکشی کر چکے ہیں، تینوں کیسز کی تفصیلات متعلقہ اداروں کو فراہم کر دی گئیں۔

یاد رہے کہ آن لائن گیم پب جی کی وجہ سے اب تک دنیا بھر کے کئی نوجوان اپنی زندگیوں کا خاتمہ کرچکے ہیں، اس گیم میں دو ٹیمیں بنائی جاتی ہیں اور دونوں کھلاڑیوں ہتھیاروں کی مدد سے ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں۔ ماہر نفسیات کا یہ بھی کہنا تھا کہ گیم کے باعث نوجوانوں ذہنی تناو¿ کا شکار ہورہے ہیں جبکہ ان میں تشدد کا عنصر بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

مزید :

قومی -ڈیلی بائیٹس -سائنس اور ٹیکنالوجی -