خدارا سر جوڑ کے بیٹھ جاؤ  

   خدارا سر جوڑ کے بیٹھ جاؤ  
   خدارا سر جوڑ کے بیٹھ جاؤ  

  

1857ئمیں جب دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی  تو دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں پھیل گئی اور اس میں کروڑوں انسان لقمہ اجل بن گئے،یہ کہانی تو سب لوگ جانتے ہیں لیکن آج کا موضوع گفتگو رہے گا کہ جنگ کے بعد کیا ہوا تو جنگ کے بعد بیماری نے ساری دنیا کو گھیر لیا، زرعی اجناس ختم  جبکہ  لوگوں نے اپنے مویشیوں تک کو ذبح کرکے کھانا شروع کر دیا اور بہت سے لوگ معذور ہو گئے۔ اس وقت بھی کچھ دور اندیش لوگ موجود تھے جنہوں نے بعد کے وقت کو بھی قبل از وقت محسوس کر لیا اور کچھ نہ کچھ بچت کرتے رہے یا یوں سمجھ لیں کہ اگر وہ پہلے تین وقت کا کھانا کھاتے تھے تو انہوں نے ایک یا دو وقت کر  دیا یا پھر اگر پہلے وہ ایک وقت میں دو روٹی کھاتے تھے تو اسے ایک یا آدھی  پر لے آئے(یہ بات احسن اقبال کے مشورے چائے کی ایک پیالی کم کردیں  اور اس پر قوم کے رویے پر کی گئی ہے)۔ انہوں نے انسانوں کو یہ سبق بھی دے دیا کہ جتنا کم ہوسکے کھائیں تاکہ خوراک زیادہ لمبے عرصے تک چل سکے اور تب تک وہ ان حالات سے بھی نکل جائیں گے، جن لوگوں کے پاس کچھ نہ کچھ جمع پونجی موجود تھی  انہوں نے اس سے اپنا کاروبار شروع کر دیا  جبکہ ملک کے تمام سیاسی لیڈر حکومتی اور اپوزیشن  والے  سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ آخر اس مشکل وقت سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ اس طرح دنیا کو دوبارہ بحال ہونے میں تقریبا پندرہ سال کا عرصہ لگ گیا۔

اس کالم کے ذریعے یہ ساری کہانی سنانے کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان اور اس کی معیشت کو جنگ عظیم دوم کے حالات تک پہنچا دیا گیا ہے اور اب  سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ کیا کس نے؟

معزز قارئین کرام پاکستان کو ان حالات تک پہنچانے میں تمام سیاسی پارٹیاں، اسٹیبلشمنٹ آمر،عدلیہ،انتظامیہ، میڈیا اور عام آدمی بھی شامل ہیں کیا۔خوب کہا ہے کسی نے:

پتہ ہے ہمیں لٹیروں کے سب ٹھکانوں کا 

شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے 

پاکستان اور اس کی معیشت کو برباد کرنے میں کسی ایک سیاسی پارٹی یا دو پارٹیوں کو قصور وار ٹھہرانا سراسر زیادتی ہوگی۔ ان حالات میں لازم ہو چکا ہے کہ اگر پاکستان کو برباد کرنے میں سب نے حسب توفیق اپنا حصہ ڈالا ہے تو اسے ٹھیک کرنے میں بھی سب کو مل کر کام کرنا پڑے گا، خدارا ابھی سے سر جوڑ کر بیٹھ جائیں،حل بھی نکل آئے گا۔ میں حکومت  اور جس جس  نے پاکستان کی بربادی میں  حصہ ڈالا ہے سب سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتا ہوں کہ برائے کرم اکٹھے ہو کر بیٹھ جائیں کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں، ریاست رہے گی تو سب رہیں گے پھر سیاست بھی کریں گے اور اپوزیشن بھی کریں گے، پروٹوکول بھی لیں گے اور سہولتیں بھی لیں گے،  اقتدار کو انجوائے بھی کریں گے۔

خاکم بد ہن! اگر ریاست نہ رہی ہے تو میں اور آپ سب بھی نہیں رہیں گے، آپ سب لوگوں نے مل کر میرے دیس کو اٹھارہ سو ستاون میں پہنچا دیا ہے، ملکی معیشت کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دیا گیا ہے۔ بجلی بحران، گیس بحران، پٹرول بحران، آٹا بحران،چینی بحران،پولٹری بحران،کوکنگ آئل بحران،بیروزگاری، قرض، سود اور غیر یقینی صورت حال نے عوام کو ذہنی دباؤ کا شکار کر دیا ہے۔ میں پاکستانی عوام سے بھی پرزور اپیل کرتا ہوں کہ برائے کرم چند سالوں کے لئے اپنی سیاسی وابستگیوں کو پس پشت ڈال کر ریاست کے لئے اکٹھے ہو جائیں۔   ہڑتالوں،دھرنوں،لانگ مارچ ،جلسے  اورجلوسوں نے  ہمارے وطن کو صرف  نقصان پہنچا یا ہے، ان چیزوں سے کبھی مشکلوں کا حل نہیں نکلا۔ برسرِ اقتدار جماعتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ برائے کرم روس اور چین جا کر انہیں منائیں کہ وہ اپنی انڈسٹری کاکچھ فیصد پاکستان منتقل کرنے پر آمادہ کریں۔ یہی نہیں بلکہ ہمارے قرضوں کو اتارنے کے لئے ان ممالک سے بڑی سرمایہ کاری پاکستان لانے کی بات کریں۔

دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ چین اور روس نے اپنے کسی دوست ملک کو مشکلات میں اکیلا چھوڑا ہو، ہمیں آئی ایم ایف کے شکنجے سے نکلنا ہوگا اور یہ اسی صورت ممکن ہے کہ چین اور روس سے سابقہ حکومتوں کے کئے گئے معاہدوں کو از سر نو ترتیب دیا جائے،اگر  چین اور  روس صرف اپنی دس فیصد انڈسٹری بھی  پاکستان منتقل کرلیتے ہیں تو پاکستان  ایک آزاد ریاست کی طرح اپنے فیصلوں میں خود مختار ہو جائے گا۔ برائے کرم ابھی بھی وقت ہے سب  سر جوڑ کر بیٹھ جائیں اور ملک کو سیاسی اور معاشی  بحران سے نکالنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیں، سر جوڑ لوابھی بہت سے در کھلے مل جائیں گے۔ چین اور روس برے نہیں ہیں کیونکہ چین جس کے ساتھ بھی چلا اسے ترقی کی راہوں پر ڈال دیا۔ ملائیشیا،سنگاپور، ہانگ کانگ کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں اس لئے میں وزیراعظم سے گزارش کرتا ہوں کہ برائے کرم دیر کیے بغیر آل پارٹیز کانفرنس بلائیں کہ ان سب سے مشاورت کریں، پاکستان کی معاشی  بحالی کے لیے   تمام سیاسی اور غیر سیاسی طاقتوں کو راضی کر لیں کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکل آئے گا۔

پاکستان تو انشاء اللہ تاقیامت آباد رہے گا لیکن تاریخ ان تمام قوتوں کو ہمیشہ کے لئے فراموش کردے گی جن کے پاس اقتدار آیا لیکن انہوں نے پاکستان کے لیے کچھ نہ کیا یا  دوسری طرف اگر آپ سب لوگ مل کر میرے دیس اور اس کی معیشت کو سہارا دیں گے  تو یقین کر لیں کہ یہ آپ کو یاد رکھے گا اورآپ لوگ ہمیشہ کے لیے امر ہو جاؤ گے۔ ہمارے دیس کے لوگ بہت سادہ ہیں، یہ آپ کے ماضی کی غلطیوں کو نظر انداز کر دیں گے، اگر آپ لوگ مل کر ملکی معیشت کو بحال کر گئے تو یقین کر لیں آپ ہی پاکستان ہوں گے، آپ زندہ باد ہوں گے اور وطن کی فضائیں آپ کو ہی سلام پیش کریں گی،انشاء اللہ!!!

مزید :

رائے -کالم -