پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) نے پنجاب کی سیاست سے متعلق اہم فیصلے کر لئے

پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) نے پنجاب کی سیاست سے متعلق اہم فیصلے کر لئے
پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) نے پنجاب کی سیاست سے متعلق اہم فیصلے کر لئے

  

لاہور (جاوید اقبال  سے)تحریک انصاف اور اس کی اتحادی مسلم لیگ (ق)نے آج وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے ہونے والے دوبارہ  انتخاب کے لیے پنجاب اسمبلی کے  اجلاس  میں شرکت کے حوالے سے کئی اہم فیصلے کیے ہیں ، دونوں جماعتیں لاہور ہائیکورٹ کے حمزہ حکومت کے بارے میں فیصلے کو پہلے سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گی۔

لاہور ہائی  کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا  اور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی ، اس میں ناکامی ہوئی تو پنجاب اسمبلی کے آج ہونے والے اجلاس کا بائیکاٹ کیا جائے گا ۔  اسمبلی کے اندر ہلا گلہ کر کے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لئے ہونے والی دوبارہ گنتی یا دوبارہ  پولنگ کے عمل کو لڑائی کی نذر کرنے کی کوشش کریں گی ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی دونوں جماعتوں میں اس بات پر اتفاق ہوگیا ہے دوسری طرف بادی النظر میں ہائی کورٹ کا فیصلہ پنجاب میں جاری آئینی اور سیاسی  بحران ختم کرنے کا باعث بنے گا مگر حقیقت میں فیصلے سے سیاسی بحران میں شدت آئے گی جس کا فائدہ  اپوزیشن جماعت بھرپور طریقے سے اٹھانے کے لئے تیاری کر چکی ہے ، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مسلم لیگ (ق) اور تحریک انصاف کی صوبائی اور مرکزی قیادت میں طےپا چکا ہے  کہ اب کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے کی پالیسی کو آگے بڑھایا جائے گا اس کا آج پنجاب اسمبلی میں عملی ثبوت فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ، جماعتوں کی پالیسی کے مطابق پنجاب اسمبلی کا ماحول زیادہ سے زیادہ خراب کرنے کی کوشش کی جائے گی اس کا مقصد وزیراعلیٰ کے انتخاب میں خلل ڈال کر کا بھی عمل کو متاثر کرنا ہے ،  دونوں اپوزیشن جماعتیں اس بات پر متفق ہوچکی ہیں کہ  آج سپریم کورٹ سے انصاف نہ ملا تو وہ انتخابی عمل کا بائیکاٹ کریں  گی اور کسی صورت  بھی  پنجاب کا انتخاب نہیں ہونے دیں گی ،اس کے لئے لڑائی جھگڑے  سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا ، مدد کے لئے آؤٹ سائیڈ  سے نوجوانوں کو بھی ہر صورت اسمبلی کے اندر داخل کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔

دوسری طرف مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی جماعتوں نے بھی منصوبہ بندی  کرلی ہے ، رات گئے   پنجاب اسمبلی کے اندر اور باہر پولیس کی بھاری نفری  جس کی اکثریت سادہ کپڑوں میں ملبوس ہے تعینات  کر دی گئی ہے  ۔ ذرائع  کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے پولیس کے اعلیٰ افسران کو خصوصی ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ پنجاب اسمبلی کے داخلی گیٹوں اور اس کی طرف آنے جانے والے راستوں کی نگرانی کریں ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر دونوں اطراف سے لڑائی ہوئی تو بہت بڑا تصادم ہوگا اس سے بڑا نقصان بھی ہو سکتا ہے ۔  پولیس کوبھی ہدایات دی گئی ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتوں نے تصادم یا لڑائی جھگڑا کرنے کی کوشش کی تو فوری طور پر گرفتار کرلیا جائے  اور نقص امن اور کار سرکار میں مداخلت  کی دفعات کے تحت ان کے خلاف مقدمات درج کر لئے جائیں۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -الیکشن -پنجاب اسمبلی -علاقائی -پنجاب -