وزیراعلیٰ پنجاب کا دوبارہ انتخاب 22 جولائی کو ہوگا، سپریم کورٹ

وزیراعلیٰ پنجاب کا دوبارہ انتخاب 22 جولائی کو ہوگا، سپریم کورٹ
وزیراعلیٰ پنجاب کا دوبارہ انتخاب 22 جولائی کو ہوگا، سپریم کورٹ

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سپریم کورٹ میں لاہور ہائیکورٹ کے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق درخواستوں کو منظور کرنے کے فیصلے کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت ہوئی،  وکیل امتیاز صدیقی نے عدالت کو آگاہ کر دیاہے کہ اتفاق رائے ہو گیاہے وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب ضمنی الیکشن کے بعد ہوگا، حمزہ شہبازشریف دوبارہ انتخاب تک وزیراعلیٰ رہیں گے،کسی کو ہراساں نہیں کیا جائے گا ۔بابراعوان نے بینچ کے سامنے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے حمزہ شہباز کو ضمنی انتخابات تک نگران وزیراعلیٰ قبول کر لیا ہے،عمران خان کا کہناہے کہ پنجاب الیکشن کمشنر، چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس قانون پر عمل کریں، ملکی اداروں کا احترام کرتے ہیں، جن حلقوں میں الیکشن لڑ رہے ہیں وہاں پبلک فنڈز استعمال نہیں ہوں گے۔ چوہدری پرویز الہیٰ اور حمزہ شہباز شریف کے درمیان 22 جولائی کو وزیراعلیٰ کے انتخاب پر اتفاق ہو گیا ہے۔

حمزہ شہباز نے عدالت میں کہا کہ شفاف انتخابات کروائیں گے،سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کرنے کا کہہ دیتے ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ میدان میں مقابلہ کریں جو بہتر ہو گا وہ جیت جائے گا،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حمزہ صاحب آپ کا ارادہ ہے دھاندلی کرنے کا؟۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تین ماہ کا بحران ہم نے تین سیشنز میں حل کر دیا ہے۔حمزہ شہباز نے کہا کہ متفق ہوں کسی کو ہراساں نہ کیا جائے ۔جسٹس جمال مندو خیل  نے کہا کہ کیا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ اجلاس پنجاب اسمبلی میں ہو گا ؟ 

سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کی لاہور ہائیکورٹ کے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے خلاف درخواستوں کے فیصلوں پر چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت ہوئی ،جس دوران  چوہدری پرویز الہیٰ نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی اور حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ برقرار رکھنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے لیکن تحریک انصاف کی جانب سے اس تجویز پر اختلاف کیا گیا لیکن محمو دالرشید نے بیان دیا کہ ہم نے ہاوس کو مکمل ہونے دینے کا طے کیا ہے ، محمود الرشید کے بیان کے بعد بابر اعوان نے عدالت سے پارٹی سربراہ سے مشاورت کا وقت مانگا جبکہ چیف جسٹس نے چوہدری پرویز الہیٰ کو بھی  عمران خان سے مشاورت کرنے کی ہدایت کی۔عدالت میں سماعت کچھ دیر کیلئے ملتوی۔

سماعت کے دوران عدالت نے چوہدری پرویز الہیٰ سے پوچھا کہ کیا آپ کو حمزہ شہباز ضمنی انتخاب تک وزیراعلیٰ منظور ہیں؟ جس پر پرویز الہیٰ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز پر اعتماد نہیں کر سکتے ، کوئی بھی حادثہ ہو سکتا ہے ، حمزہ شہباز کسی صورت وزیراعلیٰ قبول نہیں ہیں۔چوہدری پرویز الہیٰ نے عدالت میں کہا کہ ان سے کہیں کہ مل بیٹھ کر بات کر لیں ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وہ آپ سے مل بیٹھ کر بات کرنے کیلئے تیار نہیں ، آپ حمزہ کو وزیراعلیٰ تسلیم کر لیں یا پھر 2 دن دیں گے لوگ اکھٹے کر لیں ، چوہدری پرویز الہیٰ نے کہا کہ یہ معاملات طے کر لیں اور خلاف قانون گرفتاریاں نہ کریں تو پھر اعتراض نہیں ۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ  آپ حمزہ شہباز کو 17 جولائی تک وزیراعلیٰ مانتے ہیں تو دیگر چیزیں طے ہوں گی ، چوہدری پرویز الہیٰ نے کہا کہ حمزہ کو نگران وزیراعلیٰ رہنا ہے تو یہ اپنا اختیار طے کریں، یہ بادشاہ بن جاتے ہیں ۔ بعدازاں عدالت میں چوہدری پرویز الہیٰ نے رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز 17 تاریخ کے ضمنی انتخاب تک وزیراعلیٰ رہیں ،جس پر عدالت نے کہا کہ چوہدری پرویز الہیٰ کی شرائط عائد کی جا سکتی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی درخواست پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی، جس میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس جمال مندو خیل شامل ہیں۔ پی ٹی آئی کی طرف سے بابراعوان نے دلائل کا آغاز کیا تو  چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کس کی طرف سے پیش ہو رہے ہیں ؟ بابراعوان نے جواب دیا کہ میں درخواست گزار سبطین خان کا وکیل ہوں ۔بابراعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اپریل میں وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن ہوا جس میں لڑائی ہوئی ، جس کے بعد پولیس کو طلب کیا گیا تھا ، ایک جج نے اختلافی نوٹ لکھا ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے کہا کہ اگر دوبارہ گنتی سے 186 ووٹ نہیں بنتے تو ری پول ہو گا، اتفاق نہیں کرتا کہ کوئی ممبر موجود نہیں تو انتظار کر کے ووٹنگ کروائی جائے ، ممبران موجود ہوتے ہیں، اسمبلی ہال میں ہوں یا چیمبرز میں ، ان کے ووٹ شمار ہو تے ہیں، آپ صرف بتائیں کہ ووٹنگ کیلئے کم وقت دینے کی درخواست پر کیا دلیل ہے ۔

چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ بظاہر آپ کے حق میں ہواہے ، آپ بتائیں آپ کے حق میں فیصلہ ہوا یا نہیں ، آپ اپنی درخواست کی بنیاد بتائیں ، کس بنیاد پر لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے حکم میں مداخلت کریں ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لمبے عرصے تک صوبہ بغیر وزیراعلیٰ نہیں رہ سکتا ، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر وزیراعلیٰ کسی وجہ سے دستیاب نہ ہو تو صوبہ کون چلائے گا ؟ بابراعوان نے جواب دیا کہ میری نظر میں موجودہ حالات میں سابق وزیراعلیٰ بحال ہو جائیں گے ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ وزیراعلیٰ بیمار ہو جائے یا باہر جائے تو کون صوبہ چلاتاہے ، بابراعوان نے کہا کہ سینئر وزیر کو وزارت اعلیٰ کا چارج دیا جاتاہے ، کابینہ نہیں ہو گی تو سینئر وزیر کہاں سے آئے گا ، بابراعوان نے کہا کہ دوسری صورت میں نگران وزیراعلیٰ بنایا جا سکتا ہے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سابق وزیراعلیٰ کے دوبارہ آنے کی کوئی صورت نہیں ہے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سوال صرف یہ ہے کہ آج4بجے اجلاس ہونا ہے یا نہیں ، اجلاس نہ ہونے پر فائل کریں پھر دیکھیں گے کہ آج نہیں تو کب ہو سکتا ہے ، 

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ملک کے اندرموجودارکان ایک دن میں پہنچ سکتے ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ اختلافی نوٹ میں ووٹنگ کی تاریخ کل کی ہے، کیاآپ کل ووٹنگ پرتیارہیں؟پی ٹی آئی نے عدالت سے دوبارہ انتخابی عمل کیلئے 7 دن کا وقت مانگ لیاجس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ 7 دن کا وقت دینا مناسب نہیں ہے ، بابراعوان نے کہا کہ ہماری استدعاہے زیادہ سے زیادہ ممبران کوووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ درخواست میں یہ بات نہیں،آپ کی درخواست پڑھ کرآئے ہیں، بنیادی طورپرآپ یہ مانتے نہیں کہ فیصلہ آپ کے حق میں ہوا۔

بابراعوان نے کہا کہ اصولی طور پر اس فیصلے کو مانتے ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ4 ججز نے آج اورایک نے کل کی تاریخ دی، آپ کل کی تاریخ پرراضی ہیں؟عدالت نے کہا کہ جوممبران کہیں گئے ہیں وہ 48 گھنٹے میں پہنچ سکتے ہیں، بابراعوان نے کہا کہ الیکشن لڑناچاہتے ہیں لیکن لیول پلیئنگ فیلڈکیلئے وقت دیاجائے،ہم تو 10 دن چاہتے تھے جناب،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ بتائیں جومناسب وقت آپ کوچاہیے،بابراعوان نے کہا کہ ہماری 5مخصوص نشستوں پرنوٹیفکیشن ہوناہے،اسے سامنے رکھاجائے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ یہ کہناچاہتے ہیں کہ 7دن صوبہ وزیراعلیٰ کے بغیررہے گا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وزارت اعلیٰ کاجب الیکشن ہوا 63 اے واضع نہیں تھا۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعلیٰ کے پاس 186 نہیں تو ان کا فی الحال برقرار رہنا مشکل ہے ، بابراعوان نے کہا کہ پنجاب میں قائم مقام کابینہ تشکیل دی جا سکتی ہے ،عدالت نے کہا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ صوبہ 2 دن بغیروزیراعلیٰ رہ سکتاہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعلیٰ کسی بھی وجہ سے مو جودنہ ہوتوحکومتی کام کیسے چلے گا؟بابراعوان نے کہا کہ ایسی صورت میں عبوری حکومت آئےگی، اگر وزیراعلیٰ بیمارہوتوسینئروزیرانتظامات سنبھالے گا،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اب ہم سمجھے کہ  ہائیکورٹ کے 5رکنی ججزنے ایسافیصلہ کیوں دیا، وہ چاہتے ہیں کہ صوبے میں حکومت قائم رہے، موجودہ وزیراعلیٰ نہیں توپھرسابق وزیراعلیٰ کے رہنے کاسوال ہی پیدانہیں ہوتا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر 25 ووٹرزنکال لیں توپھرموجودہ وزیراعلیٰ بھی نہیں رہتا،فیصل چوہدری نے کہا کہ  ہمارے 25ممبران نکل بھی جائیں تو 169ممبرزہمارے پاس ہیں،عدالت نے کہا کہ اس وقت سوال یہ ہے کہ کیا 4 بجے صوبائی اسمبلی اجلاس ہوسکتاہے یانہیں؟جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دوسراسوال یہ پیداہوتاہے کہ مزیدکتناوقت درکارہوگا؟ وہ کونسانکتہ ہے جس پر 4بجے والاسیشن روک سکیں؟جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ اپنااستعفیٰ گورنرکودے سکتاہے،عدالت نے کہا کہ کیاگورنرانتخابی نتیجہ آنے تک صوبے کے معاملات کودیکھ سکتاہے؟چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کاایشوسمجھتے ہیں،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کو صوبے کا اختیار غیر آئینی ہو گا ، آپ آدھے گھنٹے میں سو چ کر بتائیں کہ وزیراعلیٰ کا متبادل کیا ہو گا، تیاری کریں آپ  دماغ لڑائیں ، آئین کے تحت منتخب نمائندے ہی صوبہ چلا سکتے ہیں ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اسمبلی تحلیل ہونے پر نگران حکومت ہی بن سکتی ہے ۔سپریم کورٹ نے سماعت میں 30 منٹ کا وقفہ کر دیاہے ، 

وقفے کے بعد سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہوئی تو چوہدری پرویز الہیٰ نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی اور حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ برقرار رکھنے پر آمادگی ظاہر کر دی ، پرویز الہیٰ نے عدالت میں اپنے وکیل کے ذریعے ضمنی الیکشن تک وزیراعلیٰ کا انتخاب روکنے کی استدعا کی تاہم پی ٹی آئی کے وکیل نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پرویز الہیٰ کا فیصلہ ہو گا ہمارا نہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ یہ تو واضح ہو گیا کہ آج 4بجے ووٹنگ کا عمل نہیں ہو گا، حمزہ شہباز کے وزیراعلیٰ رہنے پر کسی کو اعتراض نہیں ۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ برقرار رکھنے پر اعتراض نہیں تو نقطہ وقت کا رہ گیا ، اس بات میں وزن ہے کہ 17 جولائی کے ضمنی الیکشن کے بعد انتخاب کروایا جائے ،ضمنی انتخابات کے بعد عدم اعتماد کی تحریک بھی آ سکتی ہے ، 7 دن کا وقت مناسب نہیں لگتا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ حمزہ شہبازشریف اور پرویز الہیٰ کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں طلب کر لیا، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر سپیکر پنجاب اسمبلی اور وزیراعلیٰ پنجاب پونے 4بجے تک آجائیں تو 4بجے سے پہلے سماعت مکمل کر لیں گے ،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آئین کے آرٹیکل 130 میں حل موجود ہے اس کے بے شمار حصے ہیں۔چیف جسٹس نے پنجاب اسمبلی کا سیشن فی الحال روکتے ہوئے حکم جاری کیا کہ جب تک عدالتی کارروائی جاری ہے سیشن شروع نہ کیا جائے۔سپریم کورٹ کی سماعت میں ایک مرتبہ پھر سے 30 منٹ کا وقفہ کر دیا گیا ۔

وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے کہا کہ حمزہ شہباز اور پرویز الہیٰ سے درخواست ہے کہ روسٹرم پر آجائیں ، عدالت میں یہ سوال اٹھا کہ ری پول کیلئے مناسب وقت نہیں دیا گیا ، یہ سوال بھی اٹھا کہ عدالت خود سے وقت دے گی تو صوبہ کون چلائے گا ۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس پر جواب ملا کہ حمزہ شہباز وزیراعلیٰ رہیں ، کیا یہ بات درست ہے ، سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ ایسی بات نہیں ہے ، اسمبلی کورم پورا نہیں ہے ، چیف جسٹس نے کہا کہ آئین کے مطابق صوبہ وزیراعلیٰ کے بغیر نہیں چلایا جا سکتا ، پرویز الہیٰ نے کہا کہ جب سے حمزہ شہباز وزیراعلیٰ بنے ہیں اسمبلی کے باہر سول کپڑوں میں پولیس تعینات ہے ، جب سے وزیراعلیٰ بنے ہیں سارا کنٹرول پولیس نے سنبھالا ہواہے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئینی بحران بڑھتا جارہاہے ، چیف جسٹس نے کہا کہ بحران کو اچھے طریقے سے آئین کے مطابق حل کیا جائے گا ۔

پرویز الہیٰ نے عدالت میں کہا کہ ایسی صورتحال میں حمزہ شہباز پر اعتماد نہیں کر سکتے ، کوئی بھی حادثہ ہو سکتا ہے ، حمزہ شہباز کسی صورت وزیراعلیٰ قبول نہیں ہیں ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کے وکیل نے کہا کہ ضمنی الیکشن کے بعد ہاﺅس مکمل ہونے تک حمزہ پر اعتراض نہیں ، اس نقطے پر آپ دونوں حضرات کو طلب کیا گیاہے ، ہاﺅس مکمل ہونے کے بعد جس کی اکثریت ہو گی وہ وزیراعلیٰ بن جائے گا ، دوسری صورت میں الیکشن کیلئے وقت کی کمی کی ہے ، دوسری صورت میں پاکستان میں موجود اراکین کے آنے تک وقت دیا جا سکتاہے ، یا پھر الیکشن ہونے دیں اور ضمنی انتخاب کے بعد عد م اعتماد لا کر فیصلہ کر لیں ، ملک کو مستقل طور پر اس طرح نہیں چھوڑا جا سکتا ہے ۔

حمزہ شہباز نے روسٹرم پر آتے ہوئے کہا کہ عدالت کا بہت احترام ہے ، کوئی شخص بھی سسٹم کیلئے ناگزیر نہیں ، آج الیکشن ہونے دیا جائے ، ضمنی الیکشن ہونے دیا جائے ، الیکشن جیتنے پر عدم اعتماد لائی جا سکتی ہے ، میں نے اپنے لوگوں کو حج پر جانے سے روکا ، پرویز الہیٰ کا کام تھا کہ وہ اپنے لوگوں کو حج پر جانے سے روکتے ۔

عدالت نے کہا کہ آپ آپس میں فیصلہ کر کے بتا دیں ورنہ ہم فیصلہ دیں گے ، حمزہ شہباز نے کہا کہ آپ ہی فیصلہ دیں، یقین نہیں دلا سکتا کہ ہمارا اتفاق رائے ہو جائے گا ، عدالت نے کہا کہ اب صرف مسئلہ آپ کے وزیراعلیٰ ہونے کا رہ گیا ہے ، حمزہ شہباز نے کہا کہ قانونی جواز ہو تو سائیڈ پر ہونے کو تیار ہوں ، میرے پاس اکثریت آج بھی موجود ہے ، سربراہ کے بغیر صوبہ کیسے چل سکتا ہے ۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ دونوں کے اتفاق سے گورنر کو نگران مقرر کرنے کی ہدایت کر سکتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ضمنی الیکشن تک ضمنی انتخاب روکنا ضروری نہیں ہے۔

پی ٹی آئی کے اپوزیشن لیڈر سبطین خان اور درخواست گزار کے وکیل بابراعوان نے چوہدری پرویز الہیٰ کی تجویز پر کہا کہ ہمیں یہ قبول نہیں ہے ، ہم اس پر رضامند نہیں ہیں ، ہمار ی جماعت کا ق لیگ سے اتحاد ہے ، میں اپوزیشن لیڈر کا وکیل ہوں ۔چوہدری پرویز الہیٰ نے کہا کہ میں محمود الرشید کے مشورے پر ہی آمادہ ہوا ہوں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پرویز الہیٰ امیدوار ہیں اگر انہیں اعتراض نہیں ہے تو پی ٹی آئی کو کیا مسئلہ ہو سکتا ہے ،  معاشرے اور سیاست میں بہت تقسیم ہو گئی ہے ، آپ نے 7دن مانگے تھے آپ کو زیادہ دن مل رہے ہیں، اپنی درخواست پڑھیں آپ نے درخواست کیا کی ہے ، بابراعوان نے کہا کہ چیف منسٹر کو ہٹانے کی درخواست بھی کر رکھی ہے ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ آئینی صورتحال ہے اسے مزید خراب مت کریں ، چیف جسٹس  نے کہا کہ 2سے3 دن کا وقت دے سکتے ہیں ۔محمود الرشید نے کہا کہ آپس میں طے کیا ہے کہ ہاوس مکمل ہونے دیا جائے،بابراعوان نے کہا کہ محمود الرشید کے بیان کے بعد ضروری ہو گیاہے کہ پارٹی سربراہ سے ہدایت لی جائے ،بابراعوان نے کہا کہ پارٹی سربراہ سے ہدایت لینے کیلئے 10 منٹ کا وقت دیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ فریقین میں اتفاق نہیں ہو سکا، دیکھنا چاہ رہے تھے کہ سینئر سیاستدان مسئلہ کس طرح حل کرتے ہیں، پرویز الہیٰ کی شرائط حمزہ پر عائد کی جا سکتی ہی، عدم اعتماد والے کیس میں ایسی شرائط عائد کر چکے ہیں.پرویز الہیٰ عمران خان سے رابطہ کریں اور مشاورت کریں ۔سپریم کورٹ نے سماعت کچھ دیر کیلئے ملتوی کر دی۔

وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہو گئی ہے ، وکیل امتیاز صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ اتفاق رائے ہو گیاہے، وزیراعلیٰ کا انتخاب ضمنی الیکشن کے تین سے چار روز کے بعد کیا جائے گا ، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے بات کرلی ہے ، چیف جسٹس نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ دو متضاد گروپس میں اتفاق رائے ہواہے۔چوہدری پرویز نے عدالت میں کہا کہ عدالت کو یقین دہانی کرواتا ہوں، برادرانہ طریقے سے اسمبلی کے اندر ایک مختلف ماحول ہو گا۔ حمزہ شہبازشریف دوبارہ انتخاب تک وزیراعلیٰ رہیں گے۔بابراعوان نے بینچ کے سامنے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے حمزہ شہباز کو 17 جولائی کے ضمنی انتخابات تک نگران وزیراعلیٰ قبول کر لیا ہے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -