ہنگامہ آرائی اور ہاتھا پائی ، تنخواہوں میں اضافہ ، ٹیکسوں میں چھوٹ،بھاری خسارے کا وفاقی بجٹ پیش

ہنگامہ آرائی اور ہاتھا پائی ، تنخواہوں میں اضافہ ، ٹیکسوں میں چھوٹ،بھاری ...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے، بعض ٹیکسوں اور ڈیوٹیوںمیں کمی و چھوٹ کے ساتھ 1185 ارب روپے کے خسارے کا 2ہزار960ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا گیا ہے جس میں نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا جبکہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے 183ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ اس موقع پر اپوزیشن نے شدید ہنگامہ آرائی اور ہاتھا پائی کی۔ اپوزیشن نے مہنگائی ، لوٹ مار ، لوڈشیڈنگ اور عدلیہ کے فیصلوں کی تکریریم نہ کرنے کیخلاف کتبے اٹھا رکھے تھے۔ سپیکر یہ ہنگامہ آرائی ختم کرانے میں ناکام رہیں جبکہ اسی کے باعث وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر بھی مختصر کردی اور صرف اس کے اہم نکات بیان کئے۔ آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا نے بتایا کہ ہ بجٹ کل حجم 2 ہزار 960 ارب روپے ہوگا جس میں بجٹ خسارہ 1185 ارب روپے رہنے کا امکان ہے ، بجٹ کے خدو خال بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کیلئے 10 ارب روپے ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 70 ارب مختص کئے گئے ہیں۔پہلی بار گندم اور چینی برآمد کی گئی، بجلی انفرا سٹرکچر کے 200 سے زیادہ منصوبے تیار کیے جائینگے، رواں اخراجات کو گزشتہ سال کے مقابلے میں 10 فیصد کم گیاکیا ہے۔ وزیر خزانہ نے 10 اشیاءپر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنیکا اعلان کیا اور کہا کہ ایک دن میں25 ہزارروپے بینک سے نکلوانے پرود ہولڈنگ ٹیکس نہیں دینا ہوگاالبتہ 50 ہزار روپے نکلوانے پر0.25 فیصدود ہولڈنگ ٹیکس لاگو ہوگا، آمدن پر ٹیکس چھوٹ کی سالانہ حد 4 لاکھ روپے کردی گئی، ٹرن اوور ٹیکس کو ایک سے کم کر کے نصف فیصد کیا جارہا ہے اور ٹیکس دینے والوں کیلئے ٹیکس پیئر کارڈ بنایا جائیگا ۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 20 فیصد اضافہ کر دیا گیا،11-2012ء میں دیا جانے والا ایڈہاک الاؤنس تنخواہ میں شامل نہیں ہوگا۔ ایک لاکھ افراد کو ہنر مند بنانے کیلئے تربیت اور روز گار دیا جائے گا ۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ رواں سال بھی برآمدات 25 ارب ڈالرتک پہنچنے کی توقع ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم ہاﺅس کو انسٹی ٹیوٹ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے اور ایوان کو بتایا گیا کہ افراط زر کا ہدف 9.5 فیصد، مالیاتی خسارہ 4.7 فیصد، 360 ارب روپے وفاقی پی ایس ڈی پی اور 2504 ارب روپے کا ریونیو ہدف مقرر کیا ہے۔وزیر خزانہ نے بتا یا کہ ایک لاکھ نئے انٹرن شپ روزگار فراہم کئے جائیں گے، جن میں سے 40 ہزار ماسٹرز ڈگری رکھنے والوں، 40 ہزار بیچلرز اور 20 ہزار نیوٹیک کے گریجویٹس کو دیئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ 88 ادویات کیلئے خام مال پر ڈیوٹی کو 10 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دیا گیا ہے جبکہ کم سے کم ٹیکس کی حد 4 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔بجٹ دستاویزات کے مطابق گریڈ ایک کے ملازم کی بنیادی تنخواہ میں 1800 روپے اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد گریڈ ایک کے ملازم کی بنیادی تنخواہ 4600 سے بڑھ کر 6600 ہوگئی ہے۔ گریڈ 2 کے ملازم کی تنخواہ 900 روپے اضافے کے ساتھ 5800 ہوگئی ہے۔ گریڈ 3 کے ملازم کی تنخواہ 2150 اضافے کے ساتھ 7100، گریڈ 4 کے ملازم کی تنخواہ بڑھ کر 7400، گریڈ 5 کی تنخواہ 7800، گریڈ 6 کی 8200، گریڈ 7 کی 8600، گریڈ 8 کی 9000، گریڈ 9 کی 9400، گریڈ 10 کی 9800، گریڈ 11 کی 10200، گریڈ 12 کی 11000، گریڈ 13 کی 12000، گریڈ 14 کی 13200، گریڈ 15 کی 14600، گریڈ 16 کی تنخواہ میں سب سے زیادہ80فیصد اضافہ ہوا ہے، گریڈ 16 کی تنخواہ 10 ہزار سے بڑھ کر 18 ہزار ہوگئی ہے، گریڈ 17 کی 26400، گریڈ 18 کی 34000، گریڈ 19 کی 49300، گریڈ 20 کی 64000، گریڈ 21 کی 70 ہزار اور گریڈ 22 کی تنخواہ بڑھ کر 80 ہزار ہوگئی ہے۔ ہاﺅس رینٹ بنیادی تنخواہ کا 45 فیصد دیا جائے گا۔ گریڈ ایک سے 15 تک کے ملازمین کا میڈیکل الاﺅنس دو گنا کر دیا گیا ہے۔ ان ملازمین کا میڈیکل الاونس 1000 سے بڑھا کر 2000 کر دیا گیا ہے۔ گریڈ 16 سے اوپر کے سرکاری ملازمین کو بنیادی تنخواہ کا 15 فیصد میڈیکل الاﺅنس ملے گا۔ گریڈ 1 سے 15 تک کا کنوینس الاونس 2270 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ گریڈ 16 سے اوپر افسران کو 5 ہزار روپے کنوینس الاﺅنس ملے گا۔گذشتہ دوسالوں کے دوران دیئے گئے 15 اور 50 فیصد ایڈہاک الاونس کو تنخواہ سے نکال دیا گیا ہے۔ نئے مالی سال کے بجٹ میں 15 شعبوں کو انکم ٹیکس ،سیلز ٹیکس اور کسٹم کی مد میں دی جانے والی چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس سلیب 17 سے کم کر کے 5 کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔

مزید : سیاست /Headlines

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...