اسمبلی میں مفاد پرستوں کا تماشا لگا:مجیب الرحمان شامی

اسمبلی میں مفاد پرستوں کا تماشا لگا:مجیب الرحمان شامی
اسمبلی میں مفاد پرستوں کا تماشا لگا:مجیب الرحمان شامی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی نے بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی پر تبصر ہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہنگامہ آرائی اور بجٹ دونوں نہ صرف بڑی خبر نہیں بلکہ سرے سے ہی خبر نہیں کیونکہ کسی زمانے میں بجٹ بہت مقدم و مقدس ہوتا تھا جس کے مطابق سال کے اخراجات اور آمدنی کا گوشوارہ بنایا اور اس کو مقدم قرار دیا جاتا تھا لیکن اب صورتحال ایسی نہیں۔دنیا نیوز کے پروگرام نقطہ نظر میں حبیب اکرم سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا وزیر خزانہ حفیظ شیخ ماہر اقتصادبات ہیں جنہیں میں ذاتی طور پر پسندکرتا ہوں۔مجیب الرحمن شامی کا کہنا تھاکہ وزیرخزانہ نے جس اقتصادی سفر کی بات کی ہے وہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اعداد وشمار کے مطابق یہ 3ارب روپے کا بجٹ ہے جس میں بڑے اخراجات دفاع، قرضوں کی واپسی ، تنخواہوںاور پنشن کی مدمیں ہونگے جبکہ صوبوں کی ادائیگی الگ ہے۔ان کا کہناتھا کہ اسے سیاسی بجٹ اس لیے قرار دیا جاسکتاہے کہ اس میںعوام پر بوجھ نہیںڈالا گیاجبکہ تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔یہ سیاسی بجٹ ہے جس کے اثرات بھی سامنے آئیں گے تاہم قر ض لینا پڑے گااورخسارہ بڑھ جائے گا۔ایوان کے اندررکی صورتحال پرتبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے ارکان اسمبلی تو ہرجگہ مو قع ملنے پر گتھم گتھا ہوجاتے ہیں ماسوائے ٹیکس دینے سمیت اپنے مفاد کے معاملے پر گتھم گتھا نہیں ہوتے۔اسمبلی میں اس طرح کے واقعات پوری دنیا میں ہوتے ہیں۔ان کاکہنا تھا کہ ارکان اسمبلی تماشا لگانے کے لیے گتھم گتھا ہوتے ہیںجبکہ اپنے مفاد میں متحد ہوتے ہیں۔پنجاب میں تماشا لگے گا۔صوبوں کے پاس وسائل زیادہ ہیں۔صوبوں کو جو محکمے ملے ہیں ان کے ملازمین وفاق کے پاس رہ گئے ہیں جن کے وزیر نام بدل کر مقرر کیے گئے ہیںاور بھرتیا ں کی جارہی ہیں۔اصل بات تماشا ختم کرنا اور وسائل بڑھانا ہے بصورت دیگر وفاق یتیم خانہ بن کررہ جائے گا۔وزیراعظم ہاﺅس خالی کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو لازمی طورپرسرکاری رہائشگاہ میں رہنا چاہئیے تاکہ انہیںایک ہی جگہ سیکیورٹی فراہم کی جاسکے۔جبکہ رہائشگاہوں کے حوالے سے ملک سکھوں کی ریاست بنا دیا گیاہے جہاں سابق صدر،وزیراعظم اورچیف جسٹس صاحبان من پسند سرکاری رہائشگاہیں چاہتے ہیں۔جہاں تک وزیراعظم ہاﺅس کا گھر چھوڑنے کا معاملہ ہے توانہیں اب کپڑے بھی پاکستانی پہننے چاہئیں۔پاکستان اوربھارت کے اصل لیڈروں نے چھوٹے چھوٹے گھروں میں رہائشیں رکھیںاورجواپنی کمائی تھی وہ بھی وقف کرکے گئے کیونکہ لیڈر دیتا ہے لوٹتانہیں ہے مگر یہاں کون ہے جواب اس طرح کررہا ہے۔آبی ذخائر کے لیے فنڈز مختص کرنے پرایوان صنعت و تجارت کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈیم مختصر مدت کا معاملہ نہیںہوتا۔منگلا ڈیم کی اب ریزنگ ہوگئی ہے جو اچھا اقدام ہے۔ان کاکہنا تھاکہ حکومت کو اب سستی بجلی اوراس کی مناسب ترسیل کی طرف توجہ دینا ہوگی جبکہ صوبے بھی اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور اپنے حصے کا بوجھ اٹھائیں۔

مزید : لاہور