فرشتے کہاں سے آئیں گے؟

فرشتے کہاں سے آئیں گے؟

الیکشن کمیشن کے حکم پر ، کراچی میں حلقہ این اے 250 اور سندھ صوبائی اسمبلی کی دو نشستوں پر 19مئی 2013ءکو الیکشن کا انعقاد کیا گیا، وہاں کے اکثر لوگوں کے مطالبے پر حتیٰ المقدور، پُرامن، آزادانہ اور منصفانہ انعقاد کی کوشش کو مو¿ثر بنانے کی خاطر پولیس، رینجرز اور فوج کی موجودگی میں، دھونس، دھاندلی، غنڈہ گردی اور دیگر کسی غیر قانونی کارروائی کے ارتکاب کے امکانات کافی حد تک محدود ہو گئے تھے، بلکہ اس روز انتخابی عمل نہایت پُرسکون اور امن کے حالات کے مطابق اپنے مقررہ اوقات میں وقوع پذیر ہوا، لیکن اس الیکشن میں بعض ایسے امیدواروں نے حصہ لینے کی بجائے بائیکاٹ کیا، جو اس سے قبل اور بعد میں آزادانہ اور منصفانہ انتخاب کرانے کے لئے، مہم بھرپور اور زوردار انداز سے چلاتے رہے۔ الیکشن مذکورہ سے ایک روز قبل، کراچی میں تحریک انصاف کی ایک سینئر خاتون عہدیدار کو قتل کر دیا گیا۔

اس وقوعہ سے بھی غنڈہ گرد عناصر نے یہ پیغام دیا کہ اس علاقے میں، کسی دیگر سیاسی جماعت کو زیادہ ووٹ حاصل کر کے قدم جمانے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ یہ کارروائی ظلم و جبر کے تسلسل کو جاری رکھنے کی غیر قانونی واردات ہے۔اس کے مجرمان اور پشت پناہی کرنے والے بڑے ہاتھوں کی سخت قانونی گرفت کرنا جمہوری اور انصاف کے اصولوں کا تقاضا ہے۔ اس الیکشن میں حصہ نہ لینے والے امیدواروں اور ان کے معاونین نے حق و انصاف کے قیام و استحکام کی بجائے، غلط اور منفی سوچ و فکر کے حامل عناصرکی طرف داری، جس کی بنا پر کراچی اور بعض دیگر علاقوں میں امن عامہ کی صورت حال کئی سال سے تہہ و بالا چلی آ رہی ہے۔ میدان سیاست سے رغبت اور دلچسپی رکھنے والے ذمہ دار اور بااثر حیثیت کے حامل حضرات کو منفی انداز فکر و عمل کو ہمیشہ کے لئے خیر باد اور خدا حافظ کہہ کر اصلاح احوال کی سعی کرنی چاہئے۔ اس روش سے جعل سازی اور فریب کاری معاشرے کو تباہ کر رہی ہیں۔

پاکستان میں عام انتخابات11مئی 2013ءکو ہو چکے، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس ہو رہے ہیں، یہاں انتخابی شکایات کے ازالے کے لئے آئینی اور قانونی اداروں سے رجوع کرنے میں متعلقہ امیدواروں کو غفلت میں وقت ضائع کرنے سے گریز کرنا چاہئے، کیونکہ قانونی طور پر مقررہ مدت میں اگر ان سے حق رسی کی گزارش نہ کی جائے، تو پھر وہ ادارے بھی غافل لوگوں کی گزارشات پر توجہ دینے کی بجائے اُن کو مسترد کر سکتے ہیں۔ یہ امر ذہن نشین رہے کہ انتخابات میں زیادہ تر ذہنی طور پر مضبوط اور مالی طور پر خوش حال اور طاقتور امیدوار ہی حصہ لیتے ہیں۔

الیکشن کمیشن اور حکومتی ادارے انتخابات کو حتی المقدور پُرامن، منصفانہ اور آزادانہ کرانے کے دعوے کرتے ہیں، لیکن نسبتاً بعض طاقتور امیدوار مواقع کی مناسبت سے حریفوں کے کمزور علاقوں میں کچھ دھونس دھاندلی کرنے کی جسارت کرتے ہیں، لیکن بیشتر مخالفین یا سرکاری ادارے، ان کو دیکھ کر جلد قابو پا کر روک لیتے ہیں۔ اس ضمن میں ہمارا عام کردار بھی الیکشن کے انعقاد میں عکاسی کا مظہر ہوتا ہے، لہٰذا یہ امر زیر غور رکھا جائے کہ ہم اپنے روزمرہ کے فرائض کس قدر دیانتداری اور ذمہ داری سے سرانجام دیتے ہیں؟ اگر ہم کھلے عام رشوت خوری، کام چوری، قانون شکنی، سرکاری دولت و املاک کی خورد برد اور سرکاری کاموں میں اقربا پروری پر اکثر اوقات سرگرم عمل رہتے ہیں، تو پھر عام انتخابات میں اِسی سرزمین کے رہائشی افراد سے فرشتوں کے سے پاکیزہ اور بلند پایہ کردار کی توقعات وابستہ کر لینا کہاں کی دانش و فراست ہے۔ ان حالات میں وقت کی ضرورت یہ ہے کہ ملکی مسائل کے حل کی خاطر تمام محب وطن لوگ اپنا بہترین مثبت کردار ادا کریں۔ ٭

مزید : کالم