خسرہ وبا کی روک تھام میںناکامی

خسرہ وبا کی روک تھام میںناکامی
خسرہ وبا کی روک تھام میںناکامی

  

پنجاب میں خسرے کی وبا نے معصوم بچوں کو بڑی تعداد میں ابدی نیند سلا دیا۔ اب تک پنچاب میں 200سے زائد ننھے بچے خسرے میں مبتلا ہو کر موت کی آغوش میں چلے گئے ہیں۔ یہ وبا پورے پنجاب میں پھیل گئی، جس کی وجہ سے والدین شدید پریشان ہیں ۔ہسپتالوں میں خسرے سے متاثرہ بچوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہیں،کیونکہ بچوں کی زیادہ تر تعداد دیہاتی علاقوں سے ہے غربت کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کاپرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کرانے سے قاصر ہیں اور متاثرہ بچوں کو سرکاری ہسپتال میں علاج کے لئے لارہے ہیں ،جہاں ڈاکٹروں کی غفلت اور علاج کی بہترسہولتیں فراہم نہ کرنے کی وجہ سے مائیں اپنے بچوں کو واپس گھر منتقل کر دیتی ہیں ،جس کی وجہ سے زیادہ اموات واقع ہورہی ہیں ۔

طبی ماہرین کے مطابق خسرہ عموماً بچوں کو غذاءکی کمی اور جسمانی کمزوری کے باعث ہوتا ہے ،تاہم جو مائیں اپنے بچوں کو خود دودھ پلاتی ہیں ،ان میں خسرہ کی بیماری کے خدشا ت نہیں ہوتے ۔خسرے کا وائرس ہوا میں ایک گھنٹے تک رہتا ہے جو خسرے سے متاثرہ افراد کی کھانسی اور چھینکنے کی وجہ سے پیداہوتا ہے ۔متاثرہ بچے کو زیادہ گرمائش میں نہ رکھا جائے ۔خسرے کی ویکسی نیشن لینے کے باوجود بھی خسرے کی بیماری میں مبتلا ہونے والے بچوں میں خسرے سے بچاﺅ کی ویکسی نیشن کی مقررہ مقدار کا نہ دینا ہے جو پہلی بار9 ماہ کی عمر اور دوسری بار 15 ماہ کی عمر میں انجکشن کی صورت میں دی جاتی ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خسرہ ایسی بیماری ہے جس سے شرح اموات بہت کم ہے، مگر حکومت کے اقدامات کافی نہیں ۔وبائی امراض سے بچاﺅ کے لئے بروقت ویکسی نیشن لینا ضروری ہے اور اس سلسلے میں تعلیم سے زیادہ لوگوں میں اس کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ۔

خسرے جیسی مہلک اور جان لیوا بیماری جو آر۔این ۔اے وائرس سے پھیلتی ہے، ا س کا دورانیہ آٹھ سے چودہ دن تک ہوتا ہے ۔خسرہ زیادہ تر بچوں کو متاثر کرتا ہے ،اس بیماری سے متاثرہ افراد ابتدائی مرحلے میں کھانسی کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں ،آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں اور ہلکاپھلکا بخار شروع ہو جاتا ہے ۔منہ کے اندر نیلے رنگ کے دھبے نمایاں ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔دو دن کے بعد یہ دھبے خسرے کی بیماری کی واضح اعلامات بن جاتے ہیں اور تین روز بعد چہرے پر سرخ نشان بننے لگتے ہیں ،پھر یہ سرخی مائل دھبے گردن ،کمر ،پیٹ ،بازوﺅں اور ٹانگوں تک پھیل جاتے ہیں اور جسمانی جلد کا رنگ بھورا ہو جاتا ہے ،یہ وباءایک تندرست اور صحت مند بچے کو کم ہی لاحق ہوتی ہے، لیکن کمزور بچوں کو خسرے کی بیماری جلد لاحق ہوسکتی ہے ۔مائیں اس وبا سے بچوں کو بچانے کے لئے ان کی صحت پر توجہ دیں اور انہیں اپنا دودھ پلائیں ۔صفائی کا خاص خیال رکھیں ، جبکہ خسرے میں مبتلا بچوں کو صاف ستھرے کپڑے استعمال کرانے چاہئیں ۔بچوں کے بستر کو بھی صاف رکھناچا ہیے اور جن بچوں کو حفاظتی ٹیکے نہیں لگوائے گئے ، فوراً سرکاری ہسپتالوں اور دیہی ہیلتھ مراکز میں بچوں کو خسرے سے بچاﺅ کے ٹیکے لگائے جائیں، احتیاط اور حفاظتی ٹیکے ہی بچوں کو اس مرض سے بچا سکتے ہیں ۔

پنجاب میں نگران حکومت کی طرف سے خسرہ کی وبا کے خاتمے کے لئے موثر اقدامات نہیں اٹھائے گئے اور محکمہ صحت کے حکام نے بھی فرائض منصبی میں غفلت کا مظاہرہ کیا ۔اس وبا کے پھیلاﺅ کو روکنے کے لئے اگر نگران حکومت موثر اقداما ت کرتی ،محکمہ صحت میں ایک ایمرجنسی سیل قائم کیا جاتا اور لاہورسمیت پنجاب کے دیہی علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیموں کو روانہ کیا جاتا تو خسرے کی وبا پر قابو پایا جا سکتا تھا ۔جس طرح خادم پنجاب محمد شہباز شریف نے دن رات ایک کر کے محکمہ صحت کے حکام ،ایم این ایز،ایم پی ایز اور سرکاری مشینری کو فعال کر کے ڈینگی وبا کو شکست دی ،جس کا اعتراف سری لنکا کے ماہرین نے بھی کیا تھا اور لوگوں کا اعتماد بحال کیا۔ نگران حکومت کو بھی اسی طرح کے بروقت اقدامات کرنے چاہئے تھے....پنجاب کی مائیں اب محمد شہباز شریف کو صدائیں دے رہی ہیں کہ ڈینگی وباءکے خاتمے کی طرح خسرے کی وبا کو بھی شکست دیں ۔ معصوم ننھے پھول جیسے بچوں کی زندگیوں کو بچائیں ۔ اس مرض کے خاتمے کے لئے سرکاری مشینری کو متحرک کریں اور ہسپتالوں میں خسرے کے مرض میں مبتلا بچوں کو علاج معالجے کی بہترین مفت سہولتیں فراہم کریں ۔اگر خسرے کی وباءکے خاتمے کے لئے بروقت اقدامات نہ کئے گئے تویہ ایک سنگین مسئلہ بن سکتا ہے ۔ ٭

مزید : کالم