پیپلزپارٹی، سندھ میں حالات پر قابو، سینیٹ میں فارورڈ بلاک؟

پیپلزپارٹی، سندھ میں حالات پر قابو، سینیٹ میں فارورڈ بلاک؟
پیپلزپارٹی، سندھ میں حالات پر قابو، سینیٹ میں فارورڈ بلاک؟

  

یہ کوئی تعجب والی بات نہیں کہ مئی 11 کے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کی ہزیمت کے بعد سے اس جماعت کو مسلسل جھٹکے لگ رہے ہیں اور اب پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ یہ جماعت آخری کنارے پر آ گئی صرف تجہیزو تکفین باقی ہے۔ ابتداءمیں تو مایوسی کی بہت بڑی لہر پیدا ہوئی اور یہ احساس ہونے لگا تھا کہ سندھ میں بھی پارٹی دھڑے بندی کا شکار ہو کر بکھر جائے گی لیکن ایسا نہیں ہو سکا کم از کم اس محاذ پر تو پارٹی نے سنبھالا لے لیا اور کمال عقل مندی سے مخدوم، کھوڑو، بجارانی، وسان، ہر اور سراج درانی کو مکمل اتفاق رائے پر قائل کر لیا، سید قائم علی شاہ مرکزی شخصیت بنائے گئے اور انہوں نے وزارت عالیہ کی ہیٹ ٹرک مکمل کر لی جس کے بعد ان کے لب و لہجہ میں بہت زیادہ اعتماد تھا۔ بلاول ہاﺅس میں ہونے والے طویل مذاکرات کے نتیجے میں یہ معاہدہ امن طے پایا اور پھر وزیراعلیٰ کے انتخاب کے فوراً بعد سب گروپوں کو کابینہ میں نمائندگی دے کر نکتہ چین حضرات خاموش کر دیا گیا۔ اس کابینہ میں سب کو نمائندگی دے دی گئی جو قبول بھی کر لی گئی اور وزارت اعلیٰ کے خواہش مند مل کر کابینہ میں رہنے پر رضا مند ہو گئے اسے آصف علی زرداری کی پہلی کامیابی کہا جا سکتا ہے۔

ابھی یہ مسئلہ طے ہوا تھا کہ زیر زمین پکنے والی دوسری کیچڑی باہر آ گئی اور خیبر پختون خواہ کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے داماد سینیٹر عدنان خان نے فارورڈ بلاک کی طرف قدم بڑھا دیا۔ ان کی طرف سے دوپہر کے کھانے پر فاٹا کے آزاد اراکین سینیٹ پر مشتمل گروپ کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا حیرت انگیز طور پر اس ظہرانے میں سینیٹر گلزار خان اور ان کے صاحبزادے وقار خان نے بھی شرکت کی ۔ یہ باپ بیٹے پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں بہت ہی منافع بخش حیثیت میں رہے وقار خان تو وفاقی وزیر بھی رہے۔ گلزار خان پیپلزپارٹی کے دیرینہ رفیق کار ہیں جو درمیان میں الگ بھی ہوئے اور پھر محترمہ ہی کے دور میں واپس آ گئے ایک زمانہ تھا وہ محترمہ کے میزبان ہوتے اور محترمہ گلزار ہاﺅس گلبرگ میں ٹھہرا کرتی تھیں۔ سینیٹ میں باپ بیٹے کے بیک وقت جمع ہونے کے بارے میں ایک کہانی بھی ہے وہ یوں کہ محترمہ کے دور حکومت میں جب سینیٹ کے انتخابات کا وقت آیا تو خیبر پختون خواہ میں پیپلزپارٹی کو حاصل ہونے والی نشستوں کے حساب سے سینیٹ کے امیدوار لئے گئے ان میں گلزار خان بھی ٹکٹ ہولڈر تھے گلزار خان نے اپنے صاحبزادے کے لئے ٹکٹ مانگا محترمہ کا جواب تھا کہ ممبر پورے نہیںمطلوبہ تعداد میں اراکین کی تقسیم کے بعد دو رکن بچتے ہیں، ان کو اپنے امیدواروں کی پوزیشن زیادہ بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ گلزار خان نے کہا وہ رکن ان کو دے دئیے جائیں۔ ایک تجویز کنندہ اور دوسرا تائید کنندہ ہو۔ بی بی مان گئیں اور پھر گلزار خان نے ایک نشست زیادہ لے کر دکھا دیں۔ اب یہی گلزار خان فارورڈ بلاک والوں کے ساتھ ہیں۔ عدنان خان کہتے ہیں کہ ابھی تبادلہ خیال ہوا۔ مسلم لیگ ن میں سے کسی کے ساتھ رابطہ نہیں۔ بہرحال یہ تو طے کرنا ہو گا کہ حکومت کے ساتھ تعلقات کیسے ہوں اس حوالے سے بابر اعوان کا نام بار بار سامنے آتا تھا لیکن وہ اس اجلاس میں نہیں تھے۔ اور نہ ہی ان سے فی الحال رابطہ کیا گیا ہے۔ بہرحال آنے والا وقت بہت کچھ لے کر آ رہا ہے۔ پیپلزپارٹی کے مخدوم امین فہیم اور سید خورشید شاہ سمیت نوید قمر وغیرہ کو ہر وقت چوکس رہنا پڑے گا۔ تاہم یہ بات اب واضح ہو گئی کہ فاورڈ بلاک کی سیاست سینیٹ تک پہنچ ہی گئی ہے۔ سوال یہ ہو گا کہ عدنان خان کا رجحان تحریک انصاف کی طرف ہو گا یا مسلم لیگ ن کی طرف۔

ادھر مسائل میں فی الحال فوری طور پر کسی کمی کے آثار نہیں۔ لوڈ شیڈنگ میں کچھ ریلیف ملا وہ بھی قدرتی گیس کی وجہ سے، جو سی این جی سٹیشنوں کو بند کر کے پاور ہاﺅسوں کو مہیا کی گئی ہے وزیراعظم کے حلف اٹھانے کے بعد اس میں یقینا کمی آئے گی عام حالات میں بھی آٹھ گھنٹے سے زیادہ کی لوڈ شیڈنگ نااہلی یا سازش ہوتی ہے۔ یہ اپنی جگہ اب تو ڈرون حملہ اور طالبان سے مذاکرات اہم مسئلہ بن گئے امریکی ڈرون حملے نے ڈپٹی کمانڈر ولی الرحمن کو موت سے ہمکنار کیا تو تحریک طالبان نے مذاکرات والی پیشکش واپس لے کر انتقام کا اعلان کر دیا ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے اعلان کر رکھا ہے کہ ڈرون حملوں کو روکنے کے لئے امریکیوں کو قائل کریں گے۔

طالبان کے حوالے سے بات چیت یا مذاکرات کے عمل کا ذکر آیا تو مولانا سمیع الحق اور مولانا فضل الرحمن دونوں پرجوش تھے اور طالبان کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش قبول کرنے پر زور دے رہے تھے مولانا سمیع الحق نے تو اپنی خدمات بھی پیش کر دی تھیں ڈرون حملے نے صورت حال تبدیل کر دی۔ سمیع الحق اور مولانا فضل الرحمن اب برہم ہیں۔ لیکن ایک عام شہری پوچھتا ہے کہ یہ جو مولانا حضرات طالبان کے حامی ہیں اور مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں یہ ان طالبان سے سیز فائز کا کیوں نہیں کراتے؟ تحریک طالبان والے مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان دونوں مولانا حضرات کے موقف کے مطابق تو حکومت کو ہاتھ جوڑ کر معذرت کر کے مذاکرات کرنا چاہئیں۔ ان مذاکرات کے نتیجے کے بارے میں کوئی خوش کن خبر نہیں مل سکتی اس لئے میاں محمد نوازشریف کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہو گا کہ شدت پسندوں اور پاک فوج کے درمیان جنگ جاری ہے۔

تجزیہ۔ خادم حسین

مزید : تجزیہ