بدعنوان اور بے مہار پولیس

بدعنوان اور بے مہار پولیس
بدعنوان اور بے مہار پولیس

  

پیوریسرچ سنٹر واشنگٹن اور ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل ہوں یا اے بی سی نیوز اور واشنگٹن پوسٹ سبھی ایک بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ روانڈا، صومالیہ اور افغانستان جیسے چند ممالک کو چھوڑ کر پاکستان بدعنوانی کے میدان میں دنیا کے باقی تمام ممالک کو مات دے چکا۔ 2011ءکے اواخر میں جب ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے اس بات کا انکشاف کیا کہ پاکستان میں ہر سال 3 ٹریلین بدعنوانی کی نذر ہو جاتے ہیں تو پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں نے وہ ہاہا کار مچائی کہ الامان الحفیظ، لیکن جب صدر آصف علی زرداری ہی کے مقرر کردہ چیئرمین نیب ایڈمرل (ر) فصیح بخاری نے کہا کہ ملک میں ہر روز 7 سے 8 ارب روپے بدعنوان عناصر کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں تو کسی سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔

پاکستان اگر دنیا کے بدعنوان ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہے تو پولیس ملک کے بدعنوان ترین اداروں میں اول درجے پر فائز ہے۔ مختلف محکموں کی بدعنوانی کا گراف ملک کے کسی حصے میں اوپر ہے تو کہیں نیچے، لیکن پولیس ایسا محکمہ ہے جس کی کارکردگی سارے ملک میں تقریباً یکساں ہے۔ پنجاب کے سابق اور نامزد حکمرانوں نے پنجاب میں گڈ گورننس اور میرٹ کا اس قدر ڈھنڈورا پیٹا کہ یوں محسوس ہونے لگا کہ پنجاب ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں واقعی امن، شانتی اور خوشحالی کا گہوارہ ہے، لیکن حقیقتاً پنجاب اور ملک کے دیگر صوبوں میں خاص فرق دکھائی نہیں دیتا کیونکہ پٹوار خانوں اور تھانوں میں عوام کی تذلیل و تحقیر پنجاب میں دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ ہے کہیں زیادہ.... اور رشوت ستانی کا دور دورہ بھی خوب۔

ایسے ہی تو پنجاب کے دیہاتوں میں دشمنوں کو بددعا دے کر نہیں کہا جاتا رب تینوں تھانے لے جائے (رب تجھے تھانے لے جائے) کیونکہ ایک بار اگر کوئی قسمت کا مارا تھانے پہنچ گیا تو چاہے وہ کتنا ہی عالی نسب کیوں نہ ہو، (ہاںجیب بھاری ہو تو الگ بات ہے) اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کو اس کی نسلیں بھی فراموش نہیں کر پائیں گی۔ میرے دادا مرحوم کو 1979ءمیں قتل کے ایک جھوٹے مقدمے میں مخالفین نے پھنسانے کی کوشش کی اور ان کی گلو خلاصی میں ہمارا خاندان اپنی تمام پونجی سے محروم ہوگیا۔ پولیس کے ساتھ میرا سابقہ پہلی مرتبہ اس وقت پڑا جب میں ماڈل ہائی سکول خانیوال میں ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔ ایک دن خانیوال کے ڈپٹی کمشنر علی رضا کو نامعلوم دہشت گردوں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ شہر میں ہنگامی حالت نافذ ہوگئی اور تمام سکولوں میں چھٹی کر دی گئی ماڈل ہائی سکول ڈی سی آفس خانیوال کے بالکل سامنے واقع ہے۔ اس لئے سکول اور ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے والی سڑک پر پولیس کی نفری موجود تھی۔ ایک جگہ کانچ کے ٹکڑے بکھرے پڑے تھے (غالباً یہ ڈپٹی کمشنر کی گاڑی کے شیشوں سے گرے تھے) اور وہاں پولیس اہلکار نیم دائرے کی شکل میں موجود تھے۔ مَیں اپنے دوستوں کے ساتھ سکول سے نکلا۔ جلدی چھٹی ہونے کی خوشی تھی کہ معصوم بچوں کو کیا معلوم کہ کیا سانحہ رونما ہوگیا۔ مَیں ضرورت سے زیادہ متجسس واقع ہوا، اس لئے سوچا پولیس والے دائرے میں کیوں کھڑے ہیں، جھانک کر دیکھنے کی کوشش کی تو ایک کریہہ چہرے اور دوزخ جتنے شکم کے مالک پولیس اہلکار نے زناٹے دار تھپڑ میرے منہ پر جڑ دیا۔ میرے دوست بُری طرح سہم گئے کہ اس بدبخت کے ہتھوڑے جیسے ہاتھ کا پرنٹ میرے چہرے پر واضح تھا۔

دوسرا واقعہ ایف ایس سی کے دوران پیش آیا۔ جب ایک ٹریفک پولیس اہلکار نے میری موٹر سائیکل تھانے میں بند کردی تو باوجود چالان جمع کروانے کے تھانے کا محرر بغیر نذرانہ لئے اسے چھوڑنے پر رضا مند نہ تھا۔ مَیں تھانے کے نسبتاً تعلیم یافتہ ایس ایچ او کے کمرے میں گیا اور شُستہ انگریزی میں اس سے اپنا مدعا بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب میں چالان جمع کروا چکا ہوں تو موٹر سائیکل کو یرغمال بنائے رکھنے کی کیا منطق ہے؟ ایس ایچ او زمانہ قدیم کا میٹرک پاس رہا ہوگا۔ میری انگریزی سے مرعوب ہو کر اس نے محرر کو طلب کیا اور کہا: ”جان دے اوئے کسے نوں چھڈ وی دیا کر (جانے دے کسی کو بخش بھی دیا کر) اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں بطور طالب علم رہنما تو پولیس کے ساتھ واسطہ پڑتا ہی رہا۔ انقلابی کونسل کے پلیٹ فارم سے جنرل پرویز مشرف کے خلاف اور جمہوریت کی بحالی کی جو جدوجہد کی پاداش میں کئی بار جیل کی ہوا کھائی۔ اب محسوس یوں ہوتا ہے کہ اہل صحافت و دانش کا پولیس کے ساتھ رومانس بہت پرانا ہے کیونکہ اس ملک کے صحافیوں، شعراءاور ادیبوں کی بڑی تعداد نے عمر کا بڑا حصہ اسی دشت کی سیاحی میں صرف کیا۔

خیر چھوڑئیے! بات کسی اور سمت نکل رہی ہے اور ہمارا مطمح نظر پولیس کی کارکردگی ہے۔ باوجود اس کے کہ گزشتہ دور حکومت (2008ء۔2013ئ) میں پولیس کی تنخواہ میں دو سو فیصدکے لگ بھگ اضافہ ہوا، لیکن تھانوں سے رشوت ستانی کا کلچر ختم تو درکنار کم بھی نہیں ہوا۔ ایک سینئر اور نسبتاً ایماندار پولیس افسر کا کہنا ہے کہ پنجاب کے تھانوں میں محرر دو سے اڑھائی لاکھ، ایس ایچ او 10 سے 15 لاکھ اور ڈیس ایس پی لیول کے افسر 15 سے 25 لاکھ روپے ماہانہ اوپر کی کمائی سے بناتے ہیں۔ ستم ظریفی کی حد دیکھئے کہ18 سال کی عرق ریزی اور محنت شاقہ کے بعد ڈاکٹر بننے والے نوجوان ہاو¿س آفیسر کو 12 ہزار روپے ماہانہ جبکہ پولیس میں گریڈ 5 میں بھرتی ہونے والے کانسٹیبل کو30 سے 35 ہزار روپے ماہانہ دئیے جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود رشوت ستانی کا بازار گرم ہے۔ جرائم کی شرح میں خاک کمی ہوگی کہ عوام میں پایا جانے والا زبردست عدم تحفظ کا احساس ہی کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ 2005ءمیں اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے ٹریفک پولیس میں گریڈ 14 میں وارڈن بھرتی کئے کہ خیال تھا کہ یہ نسبتاً تعلیم یافتہ نوجوان بڑے شہروں میں ٹریفک کے معاملات درست انداز میں چلانے میں معاون ثابت ہوں گے، لیکن یہ محض خام خیالی ہی ثابت ہوئی کیونکہ ان وارڈنز کی موجودگی میں ٹریفک کا بے ہنگم پن اور شاہراو¿ں پر جرائم دونوں ہی بے پناہ بڑھ چکے ہیں۔ ٹریفک وارڈنز کی کثیر تعداد یا تو فون پر گپ شپ میں مصروف دکھائی دیتی ہے یا سائے میں کھڑے ہو کر منتشر ٹریفک کا تماشہ دیکھنے میں مگن، نتیجہ وہی ”ڈھاک کے تین پات“.... دنیا کے مہذب اور ترقی یافتہ اقوام کا پولیس سسٹم وہاں کے مضبوط معاشروں کا آئینہ دار ہوتا ہے، جبکہ ہماری پولیس کو دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ معاشرہ کس قدر بے اطمینانی اور انتشار کا شکار ہے۔

شریفوں کے لئے دارالامن اور بدمعاشوں کے لئے دارالحساب یہ وہ تحریر ہے جو ملک کے تقریباً تمام تھانوں میں لٹکی دکھائی دیتی ہے، لیکن ہوتا بالکل اس کے برعکس ہے اس لئے کہ اس ملک کے تھانے اہل شرافت کے لئے مانند جہنم اور بدمعاش صفت افراد کے لئے امن کا گھر ہیں۔ اس ملک کے ڈاکو، سمگلر اور اُچکے سیاہ شیشوں والی بڑی گاڑیوں میں اسلحے کی نمائش کرتے ہوئے دندناتے پھرتے ہیں، لیکن کسی پولیس افسر کی بھی مجال نہیں کہ ان سے باز پُرس کر سکے ، لیکن نچلے متوسط طبقے کے موٹر سائیکل سوار کو یہی اہلکار خونخوار درندوں کی مانند گھورتے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ 11 مئی 2013ءکے مینڈیٹ سے نیا پاکستان جنم لے چُکا۔ مَیں اس مفروضے کو اس وقت تسلیم کروں گا جب ملک کے تھانے اور پٹوار خانے عام آدمی کے لئے حقیقی معنوں میں دارالامن بن جائیں گے۔ ٭

مزید : کالم