خواتین کی مخصوص نشستیں اور باون فیصد کی نمائندگی کا مسئلہ!

خواتین کی مخصوص نشستیں اور باون فیصد کی نمائندگی کا مسئلہ!
خواتین کی مخصوص نشستیں اور باون فیصد کی نمائندگی کا مسئلہ!

  

قومی وصوبائی اسمبلیوں میں خواتین کی مخصوص نشتوں پر سیاسی جماعتوں کی نامزد کردہ خواتین منتخب ہوگئی ہیں۔ کہنے کو یہ پاکستانی خواتین کی نمائندگی کے نام پر ہوا ہے، مگر میرا ہمیشہ سے یہ تاثر رہا ہے کہ ان مخصوص نشستوں پر کبھی بھی حقیقی پاکستانی خواتین کی نمائندگی نہیں ہوتی۔ حقیقی سے مُراد وہ پاکستانی خواتین ہیں جو 50 فیصد آبادی میں اکثریت رکھتی ہیں اور جن کی زندگیاں ان تلخ حقائق کے ساتھ گزرتی ہیں، جن میں ہمارا معاشرہ گِھرا ہوا ہے۔ یہ مخصوص نشستیں طبقہءامراءکی بیگمات کے لئے ایک گفٹ کی حیثیت رکھتی ہیں....اس سے بڑی زیادتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک شخص رکن اسمبلی بنتا ہے، تو اُس کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ اس کی بیگم بھی رکن اسمبلی بن جائے۔ اس بار بھی کئی ایسی مثالیں قائم ہوئی ہیں اور ارکانِ اسمبلی کی بیگمات رکن اسمبلی کا درجہ پا گئی ہیں۔ کوئی سوچنے والا یہ تک نہیں سوچتا کہ ایک ہی گھر میں اقتدار مرتکز کرنے سے کون سی جمہوریت پنپ سکتی ہے، یوں لگتا ہے کہ خواتین کی مخصوص نشستوں کے معاملے میں سب سے بڑا حوالہ ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ خاتون کس خاندان سے ہے اور اس کا معاشرے میں مقام و مرتبہ کیا ہے؟ اعداد و شمار کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی طرف سے قومی اسمبلی میں نمائندگی کرنے والی خواتین میں سے زیادہ تر کا تعلق لاہور سے ہے، جبکہ جنوبی پنجاب جو آدھا صوبہ ہے اور پورے صوبے کا مطالبہ رکھتا ہے، اُسے صرف 9 نشستیں دی گئی ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مخصوص نشستوں پر انتخاب کا معیار کیا ہوتا ہے۔

کوئی مجھ سے میری ذاتی رائے پوچھے تو مَیں بلا تامل کہوں گا کہ خواتین کے نام پر خواتین کے ساتھ یہ بہت بڑا دھوکہ اور ظلم کیا جاتا ہے۔ اسمبلی میں پہنچنے والی بیگمات کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ یہ اجلاسوں میں اس طرح شریک ہوتی ہیں، جیسے فیشن شو میں جا رہی ہوں۔ انہیں ایشوز کا پتہ ہوتا ہے اور نہ عوام کی اُمنگوں و آرزوو¿ں سے کوئی آگہی ہوتی ہے۔ پاکستانی عورت جس امتیازی رویے کا شکار ہے اور جس طرح ہر سطح پر اُس کے حقوق پامال کئے جاتے اور اُسے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اس کے لئے اسمبلی کے اندر کبھی مو¿ثر آواز نہیں اٹھائی گئی۔ یہ تو میڈیا کے دباو¿ کا نتیجہ ہے کہ حکومتیں خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے سلسلے میں نئے قوانین اور ضابطے بناتی رہتی ہےں، وگرنہ ماضی کی اسمبلیوں میں خواتین کی موجودگی کے باوجود اُن کے حق میں کبھی کوئی مو¿ثر اور نتیجہ خیز آواز نہیں اُٹھائی گئی۔ اکثر خواتین ارکان اسمبلی پانچ برس تو گزار دیتی ہیں، مگر اسمبلی میں زبان تک نہیں کھولتیں۔ ایسی ”گونگی“ خواتین اس عورت کے دُکھ اور مسائل کو کیسے سمجھ سکتی ہیں، جو پاکستان کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہے اور مردوں کے امتیازی رویوں کا شکار ہو کر ایک قابلِ رحم زندگی گزار رہی ہے۔

موجودہ انتخابات سے پہلے یہ غلغلہ تو ضرور اُٹھا تھا کہ اس بار سیاسی جماعتیں نوجوانوں کو ٹکٹ دیں گی اور نئی قیادت اُبھرے گی۔ یہ نعرہ درحقیقت پاکستان تحریک انصاف نے دیا تھا اور 35 فیصد انتخابی ٹکٹ نوجوانوں کے لئے وقف کر دئیے تھے۔ مسلم لیگ (ن) نے بھی کچھ نئے اور نوجوان امیدوار کھڑے کئے اور ایک طرح سے یہ فضا بنی کہ نوجوانوں کو اسمبلی میں آنا چاہئے، مگر حیران کُن طور پر خواتین کے حوالے سے کوئی آواز سامنے نہیں آئی۔اگرچہ پی ٹی آئی کی مقبولیت میں خواتین کی بھرپور شمولیت نے اہم کردار ادا کیا، تاہم اس نے بھی ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا کہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر سیاسی جماعتوں کو معاشرے کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والی عورتوں کو نمائندگی دینے کا پابند کیا جائے۔ یوں انتخابات میں جو ایک نیا رجحان نظر آیا، اس کی جھلک خواتین کی مخصوص نشستوں پر نامزدگی میں نظر نہ آسکی اور وہی تقسیم اس بار بھی ہوئی جو ہمیشہ ہوتی آئی ہے اور جس پر اندھے کے ریوڑیاں بانٹنے کی مثل صادق آتی ہے۔ وہی بیگمات، وہی امیر کبیر طبقے کی خواتین، وہی اقتدار میں موجود لوگوں کی عزیز و رشتہ دار، صلاحیت کی ضرورت، نہ اعلیٰ ذہانت کی، کسی شعبے میں مہارت کی اہمیت اور نہ سیاسی جدوجہد میں کوئی ناموری، بس کسی با اثر حلقے سے تعلق رکھنا شرط اور کامیابی مقدر۔

پچھلے دنوں ایک خاتون اپنے حامیوں کا جلوس لے کر رائے ونڈ پہنچ گئی تھی، جس کا مطالبہ یہ تھا کہ اُس کا نام خواتین کی مخصوص نشستوں کی امیدوار خواتین میں شامل کیا جائے۔ اسے شہباز شریف دلاسہ دے کر اپنے ساتھ لے تو گئے تھے، مگر یہ خبر سامنے نہیں آئی کہ اس بے چاری کو ٹکٹ ملی یا نہیں۔ مَیں ایسی بیسیوں خواتین، سیاسی کارکنوں کو جانتا ہوں، جنہوں نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں اپنی زندگی صرف کر دی۔ ہر سرد و گرم میں اُن کے ساتھ رہیںاور ہمیشہ زندہ و مردہ باد کے نعرے لگاتی رہیں۔ اُنہیں کبھی اسمبلی میں جانا نصیب نہیں ہوا۔ منزل انہیں ملتی رہی جو شریک سفر ہی نہیں ہوتی تھیں، جس طرح مرد سیاسی کارکن ساری زندگی کارکن ہی رہتے ہیں، اُسی طرح خواتین سیاسی کارکن بھی ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھ سکتیں۔ وہ اپنے قائدین کے ساتھ تصویریں کھنچوا سکتی ہیں، اُن سے اپنی درخواستوں پر دستخط کروا سکتیں۔ مشکل پڑے تو چھوٹی موٹی مالی امداد کی حقدار ٹھہرتی ہیں اور کبھی پارٹی کا اجلاس ہو تو انہیں اچھا کھانا بھی مل جاتا ہے۔ اس سے زیادہ ان کی اوقات ہوتی ہے اور نہ بساط۔ اُن میں سے اگر کوئی اسمبلی میں جانے کا خواب دیکھنا شروع کر دے تو بیگمات اپنی کسی خاص کارندی کے ذریعے سرِمحفل اس کے بال کھنچوا دیتی ہیں یا پھر اس پر ایسے الزامات لگا دئیے جاتے ہیں کہ اسے اپنی عزت بچانے ہی میں عافیت نظر آتی ہے۔

مجھے یقین ہے کہ آئین بنانے والوں کا خواتین کی مخصوص نشستیں رکھنے کے ضمن میں ہرگز یہ مطمح نظر نہیں رہا ہوگا کہ ان کے ذریعے طبقہءاشرافیہ کی بیگمات اسمبلیوں میں پہنچ جائیں گی، بلکہ اُن کے پیش نظر یہ حقیقت ہوگی کہ پاکستان کے مخصوص حالات میں یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی عام پاکستانی عورت براہ راست انتخابات میں حصہ لے کر اسمبلی میں پہنچ سکے، اس لئے اس کی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لئے مخصوص نشستوں کا ہونا ضروری ہے۔ انہیں کیا علم تھا کہ ان مخصوص نشستوں پر بھی کروڑوں پاکستانی عورتوں میں سے کوئی ایک بھی منتخب نہیں ہو سکے گی۔ جنرل نشستوں پر مردوں سے مقابلہ کرنا مشکل ہے تو مخصوص نشستوں پر پاکستانی عورتوں کو وڈیروں، سرمایہ داروں، بیوروکریٹوں اور سیاستدانوں کی بیگمات، بیواو¿ں، بیٹیوں اور بہنوں کا سامنا ہے، جن کے سامنے کسی عام عورت کا، چاہے وہ کتنی ہی تعلیم یافتہ، ماہرِ فن اور مشہور سیاسی کارکن کیوں نہ ہو، چراغ نہیں جل سکتا۔ مَیں سمجھتا ہوں اب وقت آگیا ہے کہ اس معاملے کو بھی تبدیلی کی نگاہ سے دیکھا جائے۔

یہ بندر بانٹ اب تو چل گئی، شاید اگلی بار نہ چل سکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں خواتین کی مخصوص نشستوں پر حقیقی نمائندگی کے راستے کا انتخاب کریں۔ اسمبلیوں میں ملازمت پیشہ خواتین کی نمائندگی بھی ہونی چاہئے اور محنت کش خواتین کی بھی، ڈاکٹر، وکیل، اُستاد، سیاسی کارکن، سوشل ورکر، غرض وہ تمام شعبے، جن میں خواتین کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں، اُن سے منسلک نمائندہ خواتین جب اسمبلیوں میں آئیں گی تو وہاں صحیح معنوں میں خواتین کی آواز اُبھرے گی۔ یہاں ہوتا یہ آیا ہے کہ ایک طرف خواتین کی اسمبلیوں میں تعداد بڑھتی رہی اور دوسری طرف معاشرتی استحصال میں بھی اضافہ ہوتا رہا۔ خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات ہوں یا تیزاب گردی کے، مختلف رسموں اور غیرت کے نام پر قتل کا سلسلہ ہو یا بنیادی انسانی حقوق سے محرومی کا معاملہ۔ اس کے خلاف نہ تو اسمبلی میں کبھی کوئی مو¿ثر آواز اُٹھتی ہے اور نہ قانون سازی ہوتی ہے۔ ان کا ان مسائل سے براہ راست کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔ انہیں کبھی اس قسم کی صورت حال سے گزرنا ہی نہیں پڑتا۔ بدلے ہوئے حالات میں یقیناً اب پاکستان کی کروڑوں خواتین اس بات پر بھی نظر رکھیں گی کہ ان کی نمائندگی کے نام پر جن خواتین کو اسمبلیوں میں بھیجا گیا تھا، اُنہوں نے پاکستانی عورت کے لئے وہاں کیا آواز بلند کی اور اُسے حقوق دلانے میں کیا کردار ادا کیا؟ کارکردگی صفر ہونے کی صورت میں سیاسی جماعتوں کو ردعمل کے لئے تیار رہنا چاہئے کہ اب رات کو دن کہنے کا وقت نہیں رہا۔ ٭

مزید : کالم