سوال ان کے ،جواب............!

سوال ان کے ،جواب............!
سوال ان کے ،جواب............!

  

برادرم ضیاءکھوکھر نے یہ سوالات کئی روز پہلے اٹھائے تھے۔بعض دوسرے موضوعات کی وجہ سے یہ قارئین کی نذر نہ کر سکے۔ ضیاءکھوکھر اچھی یادداشت کے حامل اور ریسرچ کرنے والے ہیں، اس لئے ہم نے ہمیشہ ان کی بات کو وزن دیا ہے، وہ پوچھتے ہیں کہ 11مئی کے عام انتخابات میں لاہور کے کم از کم تین حلقوں کے نتائج سے حیرت ہوئی اور سوال پیدا ہوا کہ زندہ دلوں کے شہر میں ووٹوں کے تناسب سے حساب لگائیں تو پوچھا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف کے عمران خان بڑے لیڈر ہیں یا ان کی جماعت کے شفقت محمود، اسی طرح یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف بڑے یا لاہور کے آٹھ حلقوں کے ٹکٹ ہولڈرمعہ میاں محمد شہباز شریف ان سے بڑے ہیں۔یہ سوالات یوں بنتے ہیں کہ شفقت محمود قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 126سے خواجہ حسان کو ہرا کر جیت گئے اور قومی اسمبلی کے رکن بن گئے۔ان کے نیچے ایک صوبائی نشست پر میاں محمود الرشید خواجہ سلمان رفیق کو ہرا کر صوبائی اسمبلی کے رکن بنے۔ان کے مقابلے میں عمران خان این اے 122سے ہار گئے اور مسلم لیگ(ن) کے ایاز صادق بہت بھاری فرق سے جیت گئے،حالانکہ اسی حلقے کے نیچے صوبائی اسمبلی کے حلقہ 141سے تحریک انصاف کے امیدوار میاں اسلم اقبال مسلم لیگ(ن) کے چودھری اختر رسول کو ہرا کر کامیاب ہوئے۔یوں وہ پوچھتے ہیں کہ بڑا لیڈر شفقت محمود ہے یا عمران خان، ویسے عمران خان اس نشست کے سوا باقی ہر اس نشست سے جیت گئے جہاں بھی وہ کھڑے تھے۔

اگلا سوال ذرا مشکل ہے۔نامزد وزیراعظم میاں محمد نوازشریف مسلم لیگ(ن) کے سربراہ ہیں،ٹکٹوں کی تقسیم ان کی منظوری سے ہوئی۔وہ لاہور کے رہنے والے اور پہلے بھی یہاں سے کامیابی کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔وہ حلقہ این اے 120سے جیتے ہیں،لیکن ان کے ووٹوں کی تعداد اپنے نامزد کردہ قومی اسمبلی کے امیدواروں سے اتنی کم ہے کہ وہ آٹھویں نمبر پرہیں۔میاں محمد شہبازشریف اور میاں حمزہ شہبازشریف تو ان کے اپنے اور پسند بھی کئے جاتے ہیں اوریہاں تو کرامت کھوکھر سے مقابلہ کرنے والے افضل کھوکھر نے بھی ایک لاکھ سے کافی زیادہ ووٹ لئے اور میاں محمد نواز شریف کے تقریباً چوراسی ہزار ہیں، جبکہ وہ سرگودھا سے تقریباً ایک لاکھ چونتیس ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

اس کے بعد والا سوال حساب کتاب کا ہے اور ہم اس میں ذرا کمزور ہیں، تاہم قارئین تک پہنچا دیں وہ کہتے ہیں کہ قومی اسمبلی کے اکثر حلقوں میں پڑنے والے ووٹوں کی تعداد پونے چار لاکھ سے ساڑھے چار لاکھ تک ہے اور اسی حوالے سے یہ کہا جارہا ہے کہ اس دفعہ ووٹ ڈالنے کی شرح 55فیصد سے بھی کچھ زیادہ ہی رہی ہے، اب سوال یہ ہے کہ اگر ایک حلقے میں پولنگ بوتھوں کی کل تعداد چار سو بھی ہو تو چار لاکھ ووٹوں کے کاسٹ ہونے پر کتنا وقت لگے گا اور جتنے ووٹ پڑے ،وہ صبح 8بجے سے بعد سہ پہر 5 بجے تک بھگتنا ممکن تھے؟ یہ حساب کا سوال ہے حل کرلیں؟

جہاں تک پہلے سوالات کا تعلق ہے تو یہ موضوع زیر بحث کے طور پر موجود ہیں اور ان پر بات بھی ہوتی رہی ہے،حتیٰ کہ مسلم لیگ(ن) خود اپنے کارکن شاہدرہ(این اے 118) کے ملک ریاض کے ووٹوں کی تعداد پر حیرت زدہ ہیں خود ہمارے ساتھ وہاں کے رہنے والے مسلم لیگیوں نے بات کی اور حیرت ظاہر کی۔یہ معاملہ اب الیکشن کمیشن کے بھی دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ایک عام شہری کے لئے بحث کا موضوع ہو سکتا ہے، لیکن اس سے حقیقت تو نہیں بدلی جا سکتی کہ جیتنے والے جیت گئے اور نامزد وزیراعظم میاں محمد نوازشریف 5جون کو حلف بھی اٹھانے والے ہیں،البتہ الیکشن کمیشن کی طرف سے قومی اسمبلی کے دو حلقوں میں دوبارہ گنتی اور نشان انگوٹھا کی شناخت کی جو خبر چھپی ہے، اس کے نتیجے کے بعد ان سوالات پر اور زیادہ بات ہونے لگے گی۔اگر کسی ووٹر کی جگہ کسی دوسرے نے ووٹ ڈالا اور نشان انگوٹھا ووٹ ڈالنے والے اور شناختی کارڈ کا نمبر اصل ووٹر کا نکلتا ہے اور ایسی زیادہ مثالیں ثابت ہوجاتی ہیں تو الیکشن کمیشن کے لئے فیصلہ مشکل ہو جائے گا کہ وہ اس بناءپر کیا فیصلہ کرے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوگا کہ یہ ووٹ کس امیدوار کے حاصل کردہ ووٹوں سے کم کئے جائیں گے کہ بیلٹ پیپر پر تو نشان ہوتا نہیں، ایسا نتیجہ آیا تو انتخاب ہی مشکوک ہو سکتا ہے، یوں بھی حلقہ این اے 125سے خواجہ سعد رفیق بہت بھاری اکثریت سے کامیاب قرار پائے ہیں، بہرحال یہ ایسے مسائل ہیں جن پر بات اور بحث ہوتی رہے گی۔

ابھی تو دو اہم بیانات سامنے ہیں۔ایک نگران وزیراعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی کا،جنہوں نے کہا کہ نگران حکومت نے صاف شفاف انتخابات کرا دیئے اور اسے یہ کریڈٹ جاتا ہے۔ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پنجاب میں ان کے دور کا کوئی سکینڈل بھی سامنے نہیں آیا، ایسی ہی بات سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے بھی کہی۔انہوں نے کہا انتخابات ٹھیک ہوئے اب سب کو نتائج تسلیم کرکے آگے بڑھنا چاہیے۔جہاں تک سیاسی جماعتوں کا تعلق ہے تو ہر اہم جماعت نے تحفظات کا اظہار کیا، لیکن ساتھ ہی یہ کہا کہ وہ نتائج کو تسلیم کرتے ہیں، حتیٰ کہ ہمارے مولانا فضل الرحمن نے حلال، حرام کی بات بھی کی اور یہ بھی کہا کہ خیبرپختونخوا کے انتخابات کو وہ نہیں مانتے۔اس کے باوجود ان کی جماعت نے نہ صرف خےبرپختونخوا اسمبلی میں حلف لیا، بلکہ قائد ایوان کے لئے ان کی جماعت کے رکن نے کاغذات بھی جمع کرائے اور یوں انہوں نے عملی طور پر انتخابی نتائج تسلیم کرلئے ہیں، اب بیان بازی رہ جاتی ہے اور ان کو اس میں بھی احتیاط کرنا ہوگی، سیاسی عمل جاری ہوگیا اور یہ خوش آئند ہے۔

ہمارے خیال میں عاصمہ جہانگیر نے درست کہا اور اب طرز عمل یہی ہونا چاہیے ۔کم از کم سیاسی جماعتوں کو اپنا رویہ جمہوری رکھنا ہوگا،تاکہ حکومت اپنے اطمینان کے مطابق ملکی بہبود کے لئے اقدامات اٹھا سکے اور اختلاف جمہوری حدود کے اندر ہونا چاہیے۔سابقہ حکومت نے پانچ سال پورے کئے تو موجودہ اسمبلیوں کو بھی اپنی مدت پوری کرنا چاہیے کہ اسی طرح جمہوریت مضبوط ہوگی، اس کے لئے سب ہی کو متوازن طرزعمل اختیار کرنا ہوگا۔

یہ بہتر ہوگیا کہ الیکشن کمیشن نے وضاحت جاری کردی۔بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے حلقہ این اے 125سمیت کسی حلقہ کے لئے دوبارہ گنتی اور نشان انگوٹھا کی تصدیق کا حکم نہیں دیا، اس وضاحت کا مطلب صاف ہے کہ الیکشن کمیشن نتائج کا سرکاری اعلان کرکے اپنا فرض ادا کرچکا، شکایات کے ازالہ کے لئے ٹربیونلز بنا دیئے گئے ۔شکائت کنندہ کو اب ان سے رجوع کرنا ہوگا،الیکشن کمیشن کے بیان میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ اس قسم کا کوئی بھی حکم اب الیکشن ٹربیونل کے دائرہ اختیار میں ہے۔

اب تو واقعی سب کو صبرآجانا چاہیے اور اگر ٹھوس وجہ ہے تو متعلقہ ٹربیونل سے رجوع کرنا چاہیے جو مقررہ مدت میں فیصلے کا پابند ہے۔ ٭

مزید : کالم