اور اب دیامر بھاشا ڈیم بھی متنازعہ؟

اور اب دیامر بھاشا ڈیم بھی متنازعہ؟

کا لا باغ ڈیم کے بعد پاکستان مخالف قوتوں نے اب دیامر بھاشا ڈیم کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش شروع کردی ہے۔ گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں بننے والے اس ڈیم کے ذریعے اسی لاکھ فٹ ایکٹر پانی جمع کیا جائے گا اور اس سے ساڑھے چار ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی ۔ ایک خبر کے مطابق اس ڈیم کے مستقبل کو واپڈا کے موجودہ چیئرمین اور ورلڈ بنک سے خطرہ لاحق ہے ۔ واپڈا کے ایک مشیر کی طرف سے جاری کئے گئے ایک نوٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بنک کے علاوہ پاکستان کے بہت سے دوست ممالک اس بنک کے لئے فنڈز مہیا کرنے کو تیار ہیں لیکن ورلڈ بنک کی طرف سے اس کی تعمیر کی مخالفت کی جارہی ہے اور واپڈا کے موجودہ چیئرمین اس کی ہمنوائی کر رہے ہیں، اس طرح پیدا ہونے والے تنازعہ سے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا مسئلہ بھی کھٹائی میں پڑ سکتا ہے۔ جبکہ مشترکہ مفادات کونسل کے علاوہ یہ ڈیم ہر سطح پر قومی اتفاق رائے سے تعمیر کیا جائے گا۔ واپڈا کے مشیر نے اپنے نوٹ میں بتایا ہے کہ کس طرح واپڈا کے موجودہ چیئرمین نے ایک حالیہ اجلاس میں دیامر بھاشا ڈیم کے بجائے داسو کے مقام پر ڈیم تعمیر کرنے کی حمایت شروع کردی ہے۔

حکومت پاکستان نے دریائے سندھ پر چلاس کے قریب چودہ ارب ڈالر کی لاگت سے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا فیصلہ مکمل غور و خوض کے بعد کیا ہے ۔ جس سلسلے میں بہت کچھ پیش رفت ہوچکی ہے۔ اس علاقے کے لوگوں میں ان کی زمینوں کے معاوضہ کے طور پر اربوں روپے کی رقم تقسیم کی جاچکی ہے۔ اس کے علاوہ متاثرین کے لئے علاقے میں جدید سہولتوں پر مشتمل قصبہ آباد کرنے ، سکول ، کالج اور ہسپتال کی سہولتوں کے علاوہ ہمیشہ کے لئے مفت بجلی اور دوسری سہولتوں پر مشتمل ایک جامع پیکج دیا گیا ہے جس پر عملدرآمد کے لئے بہت کچھ کیا جارہا ہے۔ متبادل سٹرکوں او ر سرنگوں کی تعمیر کے لئے مشینری موقع پر پہنچ چکی ہے۔ پاکستان سے گہری محبت رکھنے والے گلگت بلتستان کے لوگوں نے خود جہاد کرکے اپنے علاقوں کو ڈوگروں سے آزاد کرایا تھا ، اور قائد اعظمؒ سے اپنے علاقہ کا پاکستان سے الحاق کرنے کی درخواست کی تھی، یہ لوگ اس ڈیم کی تعمیر پر نہ صرف خوش ہیں بلکہ پاکستان کو بجلی اور پانی کی بہتر سہولتوں کے لئے کسی بھی قربانی کے لئے تیار ہیں۔ ان کی طرف سے اکثر اس امر پر بھی گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا جاتا ہے کہ مختلف صوبوں کے بعض لوگوں کی مخالفت کی وجہ سے کالا باغ ڈیم جیسے اہم منصوبے کی تعمیر روک دی گئی ہے۔

کالا باغ کے بجائے دیامر بھاشا ڈیم بننے سے گلگت بلتستان کے لوگوں کو بہت سے فوائد حاصل ہوں گے، ان کی زندگی میں انقلاب آئے گا لیکن اس کے باوجود پنجاب کے علاوہ پاکستان کے اس پانچویں صوبے کے لوگوں میں پاکستان کے لئے ناگزیر اور اہم ہونے کی وجہ سے کالا باغ کی عمومی حمایت میں بھی جذبات موجود ہیں ۔ ہر طرح کی دہشت گردی سے محفوظ سیاحوں کی جنت کہلانے والا پاکستان کا یہ پانچواں صوبہ قیمتی پتھر سونے ، سنگ مرمر اور دوسری معدنی دولت سے مالا مال ہے۔ یہ خطہ دنیا کی حسین ترین وادیوں، جھیلوں اور دنیا کی دوسری سب سے اونچی چوٹی کے ۔ٹو کے علاوہ تیسری اور چوتھی سب سے اونچی چوٹی مشہ بروم ۔۱ مشہ بروم ۔2 بھی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ قطب شمالی اور قطب جنوبی کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ برف کے ذخائر اور سب سے بڑے گلیشرز انہی علاقوں میں موجود ہیں۔یہاں کے لوگ پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ماہرین نے ان کے جن علاقوں میں ایک سو سے زائد مقامات پرپانی سے سستی بجلی بنانے کے لئے موزوں جگہوں کی نشاندہی کی ہے وہاں سے بھی بجلی پیدا کی جائے۔ پاکستان کے لوگ ان علاقوں میں آئیں اور قیمتی معدنیات سے فائدہ اٹھانے کے لئے سرمایہ کاری کریں۔

ایسے تمام امکانات سے قطع نظر آگے بڑھتے ہوئے ایک بڑے قومی منصوبے کے سلسلے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا اور اس کے راستے میں روڑے اٹکانا ایک انتہائی خطرناک امر ہے ، جس پر پوری قوم کے کان کھڑے ہو جانے چاہئیں۔ اسی طرح سے آج تک ہماری قوم کی بے پناہ توانائیاں ، وقت اور وسائل برباد کئے گئے ہیں ۔ بے شمار منصوبے ادھورے چھوڑ دئیے گئے ۔ بہت سے پراجیکٹس پر کام روک دیا گیا ، ایک ترقی پذیر ملک کو اربوں کا نقصان پہنچانے والوں کو بھی کسی نے پوچھا تک نہیں ایسے منصوبوں کی ناکامی کی وجوہ کا تعین کرکے آئندہ کے لئے ایسی بڑی غلطیوں سے بچنے اور ماضی سے سبق سیکھنے کے لئے بھی کسی نے کچھ نہیں کیا۔ ایوب خان کا دور شروع ہونے سے پہلے قومی معاملات پر غور و فکر کرنے والے حلقوں میں یہ بات عام کہی جاتی تھی کہ پاکستان میں بہترین افرادی قوت کے علاوہ تیزی سے ترقی اور خوشحالی کی منزل کی جانب بڑھنے کے لئے بے پناہ صلاحیت موجود ہے جس بنا پر استعماری طاقتوں کا ہمارے متعلق یہ فیصلہ ہے کہ ہماری قوم کی ٹانگ کھیچ کر رکھی جائے تاکہ ہماری قوم اپنی امنگیں اور آرزوئیں پوری نہ کرپائے۔ یہ بھی عام لوگوں کی زبان پر ہوتا تھا کہ تیل اور گیس کے ڈخائر کے لحاظ سے پاکستان بے حد خوش قسمت ہے اور ہماری یہ قدرتی دولت ہمیں اپنے دوسرے تمام وسائل سے بھی بھرپور فائدہ اٹھانے میں مدد دے گی۔ پاکستان کے لئے فکر و تدبر کرنے والوں کا اس با ت پر زور ہوا کرتا تھا کہ ہمیں دشمن انرجی کے میدان میں آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے گا۔ اس کے لئے ان شعبوں کے ذمہ دار لوگوں کو رشوت دے کر ان کی وفاداریاں خریدی جائیں گی اورملک کے غداروںسے انرجی کے ہر بڑے منصوبے کو تاخیر کا شکار کرنے کا کام لیا جائے گا۔ پچھلی صدی کے پچاس کے عشرے کے اخبارات میں آرا کے صفحات اٹھا کر دیکھے جائیں تو ان میں اس طرح کے خیالات کا اظہار عام ملے گا ، جن میں دشمن کے اس محاذ پر حملہ آور ہونے کے امکانات واضح طور پر ظاہر کئے گئے ہیں۔ لیکن صد افسوس کہ ابتدائی برسوں کے بعد وطن عزیز میں کسی بھی بڑے لیڈر نے قومی وسائل کی ایک خاندانی ورثہ کی طرح ایسی حفاظت نہیں کی جس طرح کہ کنبے کا ایک سربراہ خاندانی ورثہ کی حفاظت کرتا ہے۔

پاکستان دنیا کا سب سے بڑا نہری آبپاشی نظام رکھنے والا ملک ہے جس میں زیر کاشت کل بیس کروڑ بیالیس لاکھ ستر ہزار ہیکٹر رقبے سے بہتر اعشاریہ آٹھ فیصد زیر کاشت زمین نہری پانی سے سیراب ہوتی ہے۔ کل پانچ لاکھ اسی ہزار کلو میٹر طویل نہروں کے سلسلے کے علاوہ پانی کو کھیتوں تک لے جانے کے لئے ملک میں سولہ لاکھ کلو میٹر کھالے بھی موجود ہیں۔ لیکن افسوس کہ آبپاشی کے اس نظام کو مستحکم کرنے کے لئے آج تک ہم خاطر خواہ ڈیم تعمیر نہیں کرسکے۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے جہاں لاکھوں ایکڑ نئی زمین کو زیر کاشت لانے کے لئے پانی میسر آسکتا تھا وہاں ہزاروں میگاواٹ سستی بجلی بھی پیدا ہوسکتی تھی۔ ورلڈ بنک اور دوسرے بین الاقوامی اداروں کی جامع تحقیقات کے ذریعے یہ حقائق ایک عرصہ سے سامنے آرہے ہیں کہ پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ اور اس کے پانی کے وسائل میں تیزی سے کمی آرہی ہے ، اگر اس کے لئے مناسب منصوبہ بندی اور ضروری اقدامات نہ کئے گئے تو کچھ ہی برسوں میں پاکستان میں قحط کی سی صورتحال پیدا ہو جانے کا ڈر ہے۔ لیکن اپنی معیشت کی بنیاد مضبوط کرنے والے ایسے منصوبوں کے سلسلے میں آج تک دشمن کو اپنی ریشہ دوانیوں ہی میں کامیابی ہوتی رہی ہے۔ جہاں امریکہ اور چین جیسے ملکوں میں سات سات آٹھ آٹھ ہزار بڑے ڈیم موجود ہیں ۔ بھارت بھی ہزاروں کی تعدا د میں ڈیم تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کر چکا ہے، وہاں دنیا کا سب سے بڑا نہری آبپاشی کا نظام رکھنے کے باوجود ہم نے صرف تربیلا اور منگلا کی صورت میں دو بڑے ڈیم تعمیر کئے ہیں ۔ کالا باغ کی طرف بڑھے تو ہماری ٹانگ ہمارے ہی لوگوں کو خرید کر کھینچ لی گئی۔ ہم دشمن کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس گئے۔ ابھی تک اس جال سے نکلنے کی کوشش بھی نہیں کررہے۔ بجلی کی فی کس کھپت سے کسی قوم کی ترقی کا اندازہ کیا جاتا ہے۔ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی کو برق رفتار بنانے کے لئے سستی بجلی کی پیداوار بنیادی ضرورت ہے۔ آج کے دور میں مہذب اور باشعور لوگوں کا کم از کم معیار ان کو میسر بجلی اور بجلی سے استعمال ہونے والے گھریلو آلات ہیں۔ جس قوم کے پاس اپنی ضرورتوں کے لئے بجلی ہی نہیں ، اورجہاں پٹرول اور گیس کے نرخوں میں اضافہ بھی آئے روز چھلانگیں لگا کر ہو رہا ہے، وہاں ترقی اور خوشحالی کے متعلق کون سوچے گا۔؟

میاں نواز شریف نے یوم تکبیر کے موقع پر اپنی تقریر میں اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ انہوں نے جس طرح ایٹمی دھماکہ کیا ، اسی طرح وہ اقتصادی دھماکہ بھی کریں گے۔ لیکن انہیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئیے کہ جس طرح ہم نے ایٹمی دھماکہ تک پہنچنے کے لئے کہوٹہ جیسی لیبارٹریز کی سخت حفاظت کی تھی اسی طرح کی حفاظت ہمیں اپنے اقتصادی کہوٹہ کی بھی کرنا ہوگی۔ ایسے تمام بڑے ترقیاتی منصوبے جن سے ملک کی امیدیں وابستہ ہیں ، بالخصوص بجلی اور پانی کے منصوبوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ جس طرح تمام بڑے منصوبوں کی نگرانی اور خبر گیری کے لئے انتہائی قابل اعتماد افراد کو مقرر کیا جاتا ہے اسی طرح ایسے تمام بڑے منصوبوں کے تمام مراحل پر نظر رکھے جانے کی شدید ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے تمام خفیہ ایجنسیوں کو بھی کام کرنا چاہئیے اور محکموں سے باہر کے حقیقی ماہرین پر مشتمل محتسب ٹیمیں بھی ان کے متعلق اوپر والوں کو مسلسل رپورٹس فراہم کریں، صرف اسی طرح قوم و ملک کی بقاءاور سلامتی کے یہ منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچیں گے ، ایسا نہیں کیا گیاتو ان کی ناکامی کا اہتمام کرکے ہمارے دشمن ہماری قوم کا اسی طرح منہ چڑاتے رہیں گے۔ ایسے بڑے منصوبوں کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جس حد تک بھی ممکن ہو ان میں مغربی ماہرین اور اداروں کی شرکت سے بچا جائے۔چین جیسے آزمودہ ملک او ر بالخصوص چینی حکومت کے منظور شدہ ماہرین کی معاونت زیادہ بہتر ثابت ہوسکتی ہے۔  ٭

مزید : اداریہ