بی این پی کا بائیکاٹ، بلوچستان اسمبلی کے اراکین کا کئی زبانوں میں حلف، دھاندلی کے خلاف احتجاج

بی این پی کا بائیکاٹ، بلوچستان اسمبلی کے اراکین کا کئی زبانوں میں حلف، ...
بی این پی کا بائیکاٹ، بلوچستان اسمبلی کے اراکین کا کئی زبانوں میں حلف، دھاندلی کے خلاف احتجاج

  

 کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچستان اسمبلی کے 56نومنتخب اراکین نے حلف اٹھا لیاہے، سپیکر سید مطیع اللہ آغا نے نو منتخب ارکان سے حلف لیا جس کے بعد مسلم لیگ ن کے سواتمام جماعتوں نے دھاندلی کے خلاف احتجاج کیا اور اجلاس 4 جون تک ملتوی کر دیا گیا۔ اس روز سپیکر و ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہو گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بلوچستان اسمبلی کا افتتاحی اجلاس سپیکر سید مطیع اللہ آغا کی صدارت میں تقریبا ساڑھے پانچ بجے تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا، سپیکر نے نو منتخب اراکین اسمبلی سے حلف لیا، کچھ اراکین نے حلف کا متن اردو کے علاوہ اپنی مادری زبانوں بلوچی، براہوی اور پشتو میں پڑھا۔ اس سے قبل ایوان میں مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر اور رکن اسمبلی سردار ثناءاللہ زہری کے بم حملے میں جاں بحق بیٹے، بھائی اور بھتیجے کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ بی این پی مینگل کے دو اراکین اور بی این پی عوامی کے منتخب ایک رکن کے علاوہ چار دیگر اراکین حلف لینے اسمبلی نہیں پہنچے، حلف کے لئے اجلاس میں نہ پہنچنے والوں میں سردار اختر مینگل، میر حمل کلمتی اور بی این پی عوامی کے میر ظفراللہ زہری سمیت چار دیگر اراکین شامل تھے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ بلوچستان اسمبلی میں 51 جنرل جبکہ خواتین کی 11 اور اقلیت کی تین مخصوص نشستیں ہیں۔ مسلم لیگ ن کے ارکان کی تعداد 18 ہے جبکہ دوسرے نمبر پر قوم پرست سیاسی جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ہے جس کے صوبے میں ارکان کی تعداد 14 ہے۔ نیشنل پارٹی 11 ارکان کے ساتھ تیسرے نمبر پر جبکہ جے یو آئی کے ارکان کی تعداد 8 ہے۔ مسلم لیگ (ق) صرف پانچ نشستیں حاصل کر سکی جبکہ بی این پی مینگل گروپ کے ارکان کی تعداد دو ہے۔ الیکشن میںمبینہ دھاندلیوں کے خلاف بلوچستان اسمبلی کے باہر سیاسی جماعتوں نے احتجاج کیا جس میںبلوچستان نیشنل پارٹی، جے یو آئی اور اہل سنت والجماعت بھی مظاہرے میںشریک تھے۔ نجی ٹی وی کے مطابق مظاہرین کے مختلف حلقوں میں مبینہ دھاندلی کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی ۔

مزید : کوئٹہ /اہم خبریں